آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ نیدرلینڈز: بے جوڑ معرکے کی بھرپور ٹیم، سمیع چوہدری کا کالم
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
اگرچہ جغرافیائی و معاشی حقائق کے تناظر میں پاکستان کا اپنے پڑوسی ملک انڈیا سے کوئی تقابل نہیں، مگر پھر بھی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر ہر میدان میں موازنے کا ایک رجحان سا جاری ہے اور جب باہم موازنہ جاری ہو تو بارڈر کے اطراف کا پسندیدہ ترین کھیل کرکٹ کیسے اس بحث سے گریزاں رہ سکتا ہے؟
اگرچہ وسائل اور مالیاتی اعداد و شمار میں دونوں کرکٹ بورڈز کا تقابل کسی حماقت سے کم نہ ہو گا مگر ٹیلنٹ اور ریکارڈز کے سیاق و سباق میں یہ موازنہ بالکل حقیقت پسندانہ ہے اور دوطرفہ ون ڈے کرکٹ کے اعداد و شمار میں پاکستان کا بھاری پلڑا بھی بجا طور پر اس قوم کے لیے باعثِ فخر رہا ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ہنر و قابلیت کے معاملے میں پاکستان انڈیا سے پیچھے نہیں ہے مگر اس قابلیت کو برتنے کی حکمتِ عملی میں ایسا زمین آسمان کا تفاوت ہے کہ پاکستان کے ہاں واضح طور پر اعتماد، عزم اور یقین کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔
آج سہہ پہر سے پاکستان روٹرڈیم میں نیدرلینڈز کے خلاف تین میچز کی ون ڈے سیریز کا پہلا میچ کھیل رہا ہو گا اور ہم اپنے تخیل کو محض اس مفروضے کی پرواز سے آشنا کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہیں نیدرلینڈز کے مقابل پاکستان کی جگہ انڈین ٹیم میدان میں اتر رہی ہوتی تو کیا ہمارے بابر اعظم کی طرح اس کی قیادت بھی روہت شرما ہی کر رہے ہوتے؟
یا اگر بمراہ بھی کسی سنجیدہ نوعیت کی انجری سے بحالی کے مراحل طے کر رہے ہوتے اور آگے ایسا مصروف کرکٹ کیلنڈر درپیش ہوتا تو کیا شاہین آفریدی کی طرح اُنھیں بھی ایسی معمولی اہمیت کی سیریز میں بہرطور سکواڈ کا حصہ بنایا جاتا؟
کچھ عرصہ قبل ہم یہ بہت واضح طور سے دیکھ چکے ہیں کہ انڈین کرکٹ بیک وقت دو، تین الگ الگ انٹرنیشنل سکواڈز ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ اس صلاحیت کو قطعی مخفی نہیں رہنے دیتی بلکہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے مہروں پر داؤ لگا دیتی ہے۔
مگر اس کے برعکس پاکستان کا المیہ دیکھیے کہ ایک بھرپور سیکنڈ الیون تشکیل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود نیدرلینڈز کے خلاف بھی اسے اپنے کپتان کے طور پر بابر اعظم ہی کی خدمات درکار ہیں اور اگلے چند ماہ کی انتہائی اہم کرکٹ اور مصروف ترین شیڈول کے باوجود اپنے انجرڈ سٹار شاہین شاہ آفریدی کو ہی سکواڈ میں رکھنا ضروری ہے۔
مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ مقابلے پر کھڑے ڈچ سکواڈ میں اولین انتخاب سمجھے جانے والے نصف درجن نام اس وقت قومی ٹیم کو دستیاب نہیں ہیں کیونکہ وہ انگلینڈ کے ڈومیسٹک ون ڈے کپ اور ’ہنڈرڈ‘ میں مصروف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سو آج میدان میں اترنے والی دونوں ٹیموں میں سے زیادہ نئے چہرے ڈچ سائیڈ میں نظر آئیں گے جبکہ واضح فیورٹ پاکستانی سائیڈ اجنبی چہروں کو بھرتی کرنے کا خطرہ مول لینے سے زیادہ تر گریزاں ہی دکھائی دے گی۔
یہ بھی پڑھیے
ویسے تو پاکستان کرکٹ میں ٹیم سلیکشن ہمیشہ ہی اک معمہ سا رہی ہے اور فواد عالم اس معمے کی کلاسک مثال ثابت ہوئے ہیں مگر گمان یہ ہے کہ شاید اس ’معمہ سازی‘ سے پی سی بی کا دل ابھی بھرا نہیں ہے، جبھی شان مسعود کی شکل میں ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے۔
بھلا ڈومیسٹک سرکٹ اور انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے علاوہ اور کون سی ایسی امتحان گاہ ہو گی جہاں شان کو اپنی ہستی کا جواز ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کے چئیرمین بورڈ، چیف سلیکٹر اور کپتان مطمئن ہو جائیں اور اُنھیں بھی تزئینِ گلستان کا کوئی موقع مل جائے؟ یہ سوال تاحال اپنی جگہ تشنۂ جواب ہے۔
زمبابوے کے خلاف پاکستان کے ایک میچ کے دوران کمنٹری کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا تھا ’چھوٹی ٹیموں کے خلاف میچز بڑی ٹیموں کے لیے دونوں طرح سے ہار کی طرح ہوتے ہیں کہ اگر جیت جائیے تو کوئی کمال نہیں، اور خدانخواستہ ہار جائیے تو وبال ہی وبال ہے۔‘
اس بے جوڑ دوطرفہ ون ڈے سیریز کے لیے بابر اعظم جس قدر بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے، فیورٹ تو یقیناً انہی کی ٹیم ہو گی۔ جبکہ، اپنے چنیدہ کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث جس کم مائیگی سے ڈچ ٹیم دوچار ہے، شاید ان کی ساری دوڑ محض ہزیمت کا مارجن کم سے کم رکھنے تک ہی محدود رہ جائے گی۔