عبداللہ شفیق کی گال ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست سنچری کی بدولت پاکستان سری لنکا پر چار وکٹوں سے فاتح

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستانی ٹیم کی جانب سےگال ٹیسٹ کا چوتھا دن مستحکم پوزیشن پر ختم کرنے کے باوجود شائقین کے ذہنوں میں ایک عجیب سی کشمکش موجود تھی کہ کیا اس بار نتیجہ 2009 کے گال ٹیسٹ جیسا تو نہیں ہو گا جہاں پاکستانی ٹیم آخری آٹھ وکٹیں صرف 46 رنز پر گنوا کر 50 رنز سے ٹیسٹ ہار گئی تھی یا پھر پاکستانی ٹیم 2015 کے پالیکلے ٹیسٹ کی کارکردگی دوہرانے میں کامیاب ہو گی جہاں اس نے یونس خان اور شان مسعود کی سنچریوں کی بدولت 377 رنز کا ہدف آسانی سے عبور کر لیا تھا۔

بدھ کو پہلے سیشن میں گرنے والی دو وکٹوں اور دوسرے سیشن کی ابتدا ہی میں مزید ایک وکٹ گرنے نے کپتان بابر اعظم کی بےچینی میں اضافہ کیا اور جب جیت صرف 11 رنز کی دوری پر رہ گئی تھی تو بارش نے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کی تاہم پاکستانی ٹیم ان تمام مشکلات پر قابو پا کر 342 رنز کا ہدف چھ وکٹوں کے نقصان پر عبور کر کے یہ ٹیسٹ چار وکٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔

بابراعظم کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کی 12 ٹیسٹ میچوں میں یہ آٹھویں کامیابی ہے۔

اس جیت کے مرکزی کردار اوپنر عبداللہ شفیق تھے جنھوں نے اپنے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے 160 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس طویل بیٹنگ میں انھوں نے 408 گیندوں کا سامنا کیا اور اس اننگز میں ان کے چھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

عبداللہ شفیق کی ثابت قدمی نے انھیں دنیا کے ان گنے چنے بیٹسمینوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جنھوں نے کسی ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں 400 سے زائد گیندیں کھیلی ہیں۔ ان سے قبل صرف چار بیٹسمین انگلینڈ کے مائیک ایتھرٹن اور ہربرٹ سٹکلف، بھارت کے سنیل گاوسکر اور پاکستان کے بابر اعظم یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستانی ٹیم نے چوتھے دن کھیل کا اختتام 222 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر کیا تو اسے جیت کے لیے مزید 120 رنز درکار تھے۔

مبصرین اور ماہرین نے اس جانب اشارہ کر دیا تھا کہ چوتھے دن آخری چند اوورز میں وکٹ سپن فرینڈلی ہو گئی تھی اور میزبان بولرز کے چہروں پر مسکراہٹ واپس آ گئی تھی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ میزبان ٹیم چوتھے دن کھیل ختم ہونے سے پہلے بابر اعظم کی قیمتی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔

سری لنکا کو آخری دن لیفٹ آرم سپنر پراباتھ جے سوریا سے بڑی ُامیدیں تھیں کہ وہ اسی گال کے میدان میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ جیسی بولنگ کر کے پانسہ پلٹ دیں گے۔ انھوں نے اپنے طور پر کوشش کی تاہم دوسرے اینڈ سے انھیں جس مدد کی ضرورت تھی وہ نہ مل سکی۔

عبداللہ شفیق اور محمد رضوان کی پارٹنر شپ پاکستان کے نکتۂ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ محمد رضوان کریز پر آخری تجربہ کار بیٹسمین تھے۔

ان دونوں کے لیے پانچویں دن کا آغاز آزمائش سے کم نہ تھا۔ عبداللہ شفیق کے خلاف مینڈس کی گیند پر بیٹ پیڈ کی اپیل مسترد ہوئی۔ 135 کے سکور پر وہ ڈی سلوا کی گیند پر انھی کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے جبکہ انھیں دوسرا موقع 151 کے سکور پر ملا جب ڈی سلوا کی گیند پر سکوائر لیگ پر ان کا آسان کیچ گرا دیا گیا۔

محمد رضوان کے خلاف جے سوریا کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ کی اپیل پر کپتان کرونا رتنے نے فوراً ریویو لیا تاہم ریویو نے فیلڈ امپائر دھرماسینا کا ناٹ آؤٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔

عبداللہ اور رضوان نے کسی قسم کی جلدبازی سے پرہیز کرتے ہوئے اننگز کو آہستہ آہستہ آگے بڑھایا تاہم جےسوریا نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا جب وہ محمد رضوان کو ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رضوان نے ریویو کی مدد لی لیکن امپائر کا فیصلہ بولر کے حق میں رہا۔

رضوان نے 40 رنز کی اہم اننگز کھیلی اور عبداللہ شفیق کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں71 رنز کا اضافہ کیا۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے آغا سلمان نے پیڈل سوئیپ سے اپنا کھاتہ کھولا اور پھر مینڈس کی گیند پر ریورس سوئپ سے چار رنز بھی حاصل کیے لیکن جس دعوے کے ساتھ انھیں ٹیم میں لایا گیا تھا وہ اسے درست ثابت نہ کر سکے ۔نہ ان کی آف سپن کا آپشن ٹیم کے کام آسکا اور نہ دونوں اننگز میں بیٹنگ اور تجربہ کار فواد عالم کی جگہ انھیں ٹیسٹ کیپ دیے جانے کا فیصلہ بیک فائر ہو گیا۔

جے سوریا نے انھیں 12 کے انفرادی سکور پر وکٹ کے پیچھے آؤٹ کر کے پاکستانی ڈریسنگ روم میں فکرمندی کے آثار پیدا کر دیے تھے۔ یہ اس اننگز میں جے سوریا کی اپنے پچاسویں اوور میں چوتھی وکٹ تھی ۔

کھانے کے وقفے کے فوراً بعد حسن علی دھنن جایا ڈی سلوا کو وکٹ تھما کر پاکستانی ٹیم کی پریشانی میں اضافہ کر گئے۔ چھٹی وکٹ گرنے پر پاکستانی ٹیم جیت سے 38 رنز دور تھی۔

محمد نواز کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ وہ آخری بیٹسمین ہیں جو عبداللہ شفیق کا ساتھ دے کر ٹیم کی نیا پار کرا سکتے ہیں کیونکہ ڈریسنگ روم میں بیٹھے آخری تین بیٹسمین ٹیل اینڈرز تھے اور پھر ان دونوں نے قیمتی 39 رنز کا اضافہ کر کے پاکستانی ٹیم کو جشن منانے کا موقع فراہم کر دیا۔

عبداللہ شفیق کی مستقل مزاجی

عبداللہ شفیق نے 2019 کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں اپنے کریئر کا آغاز سنچری سے کیا تھا۔ وہ چوتھے بیٹسمین تھے جنھوں نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنے اولین ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری بنائی تھی۔ اسی سیزن میں انھوں نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز بھی سنچری سے کیا۔

عبداللہ نے اپنے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کریئر کی ابتدا زمبابوے کے خلاف پنڈی میں 41 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ کی تھی لیکن نیوزی لینڈ کے دورے میں وہ دونوں ٹی ٹوئنٹی میچوں میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے برعکس ٹیسٹ ٹیم میں عبداللہ نے ایک قابل اعتماد بیٹسمین کی حیثیت سے اپنی جگہ مستحکم کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف اپنے اولین ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بناتے ہوئے انھوں نے دونوں مرتبہ عابد علی کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے سنچری شراکتیں قائم کی تھیں۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تینوں میچوں میں بھی انھوں نے شاندار پرفارمنس دی۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں ناقابل شکست 136رنز سکور کرنے کے بعد انھوں نے کراچی میں 96 اور لاہور میں 81 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔

تین سو یا زائد کے ہدف

ٹیسٹ کرکٹ میں یہ چوتھا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم نے تین سو یا زائد رنز کا ہدف عبور کرکے ٹیسٹ میچ جیتا ہے اور پاکستانی ٹیم ایسا کارنامہ کرنے والی واحد ایشیائی کرکٹ ٹیم ہے۔

2015 کے پالیکلے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے377 رنز کا ہدف تین وکٹوں پر حاصل کیا تھا۔ اس اننگز میں یونس خان اور شان مسعود کی سنچریاں اور مصباح الحق کی ناقابل شکست نصف سنچری شامل تھی۔

اس سے ایک برس قبل 2014 میں پاکستانی ٹیم نے شارجہ ٹیسٹ میں 302 رنز کا ہدف پانچ وکٹوں پر حاصل کیا تھا۔ اس جیت میں اظہر علی کی سنچری، مصباح کے 68 رنز اور سرفراز احمد کے 48 رنز نمایاں تھے۔

پہلی بار پاکستان نے یہ کارنامہ 1994 میں پاکستانی ٹیم نے انضمام الحق اور مشتاق احمد کی آخری وکٹ کی پارٹنر شپ کے نتیجے میں 314 رنز کا ہدف عبور کر کے کراچی ٹیسٹ ڈرامائی انداز میں ایک وکٹ سے جیت کر سرانجام دیا تھا۔