سری لنکا اور پاکستان کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن بلے باز مشکل میں

سری لنکا اور پاکستان کے درمیان سری لنکا کے شہر گال میں کھیلے جانے والا پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل گیند بازوں کے نام رہا اور پہلے دن مجموعی طور پر بارہ وکٹیں گریں۔

سری لنکا کی پور ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 222 رن بنا کر آوٹ ہو گئی جس کے بعد پاکستان کی ٹیم کو اپنے اننگز کے شروع ہی میں اپنے اوپنر عبداللہ شفیق اور امام الحق آوٹ ہو گئے۔

پاکستانی بلے باز پہلے ہی اوور سے مشکل میں نظر آئے اور صرف 12 کے سکور پر پاکستان کی پہلی وکٹ گری جب امام الحق ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ دوسری وکٹ 21 کے سکور پر گری جب عبداللہ شفیق بھی ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

پہلے دن کے اختتام پر پاکستان کو سری لنکا کی برتری ختم کرنے کے لیے 198 درکار تھے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز چائے کے وقفے تک پاکستان کا پلڑہ بھاری رہا اور پاکستانی بولرز نے سری لنکن بلے بازوں کو پہلے دن کی وکٹ کا فائدہ نہ اٹھانے دیا۔

پاکستان کی جانب سے اس میچ کے لیے بولنگ اور بیٹنگ دونوں میں ہی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ لیگ سپنر یاسر شاہ کو سپن ڈپارٹمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، جبکہ آلراؤنڈر محمد نواز کی شمولیت کے پیچھے بھی سری لنکا کی سپن وکٹیں تھیں۔

ساتھ ہی اس میچ کے لیے فواد عالم کی جگہ بلے باز اور پارٹ ٹائم آف سپنر آغا سلمان کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا تاکہ ٹیم بولنگ اور بیٹنگ کا توازن بہتر کیا جا سکے۔

سری لنکا کی اننگز کا آغاز ہوا تو شاہین آفریدی نے ابتدا کے اوورز میں وکٹیں لینے کی روایت برقرار رکھی اور کپتان کرونارتنے کو صرف ایک رن بنا کر پویلین کی راہ دکھا دی۔

ایسے میں اوپنر اوشاڈا فرنینڈو کا ساتھ دینے کسال مینڈس آئے اور دونوں نے پانی کے وقفے تک 49 رنز کا اضافہ کر کے سری لنکا کی اننگز کو استحکام بخشا لیکن پھر یاسر شاہ بولنگ اٹیک میں آئے اور فوری طور پر چھا گئے۔

انھوں نے پہلے کسال مینڈس اور پھر اینجلو میتھیوز کی اہم وکٹ حاصل کر کے کھانے کے وقفے سے پہلے سری لنکا کی بیٹنگ کو بحران کا شکار کر دیا۔ اس سے قبل حسن علی نے اوشاڈا فرنینڈو کی وکٹ حاصل کی تھی، اور یوں سری لنکا کے چار کھلاڑی صرف 68 رنز پر پویلین لوٹ چکے ہیں۔

کھانے کے وقفے کے بعد بھی صورتحال کچھ زیادہ تبدیل نہ ہوئی اور شاہین آفریدی کی سربراہی میں پاکستانی بولرز پے در پے نقصان پہنچاتے رہے۔

شاہین نے دھننجایا ڈی سلوا اور نروشن ڈکویلا کی اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نسیم شاہ نے رمیش مینڈس جبکہ محمد نواز نے پرابتھ جے سوریا کو آؤٹ کر کے، لگاتار دوسرے سیشن میں بھی سری لنکا کو سنبھلنے نہ دیا۔

تاہم سری لنکا کی جانب سے صرف دنیش چندیمل ہی پاکستانی بولرز کے سامنے ڈٹے اور آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ڈبل سنچری بنانے کے بعد آج نصف سنچری سکور کی اور چائے کے وقفے کے بعد جارحانہ کھیل پیش کرنے کی کوشش میں وہ حسن علی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، یاسر شاہ نے ان کا عمدہ کیچ پکڑا۔ چندیمل نے 10 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 76 رنز بنائے۔