پاکستان بمقابلہ سری لنکا: 'نہ ہی یاسر شاہ اتنے بے بس نظر آتے'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
خیالی پلاؤ پکانے اور خلائی قلعے تعمیر کرنے کی عادت کچھ اس طرح سے پاکستان کے مجموعی مزاج میں رچی بسی ہے کہ جو کوئی باہر سے آ کر اس کرکٹنگ سیٹ اپ کا حصہ بنتا ہے، وہ بھی زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے اسی رنگ میں رنگا جاتا ہے۔
سال تھا 2017 اور قومی ٹیم کے کوچ ہوا کرتے تھے مکی آرتھر۔ اظہر محمود ان کے ہمراہ بولنگ کوچ تھے اور تب بھی جوان ٹیم بنانے اور جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا خمار اس قدر سر پہ سوار تھا کہ ابوظہبی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں قومی ٹیم نے تین سیمرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
جبکہ اس کے برعکس مہمان ٹیم سری لنکا نے کہیں زیادہ دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور اپنے اٹیک میں سپن کا کوٹہ پاکستان کی نسبت زیادہ رکھا۔ اور نتیجہ گویا ٹیم سلیکشن پہ ہی نوشتۂ دیوار ہو رہا کہ بالآخر رنگنا ہیرتھ نے جھاڑو ہی پھیر دیا اور پاکستان اپنے تجربات کی رو میں بہتے بہتے پہلی بار عرب امارات میں کوئی سیریز ہار گیا۔
جدید کرکٹ میں ٹیم مینیجمنٹ اور تھنک ٹینک کے لئے بہت سہولیات پیدا ہو چکی ہیں کہ ایک ایک گیند کا ڈیٹا اور ریکارڈ میسر رہتا ہے۔ ٹیم چننے سے پہلے محض افرادی وسائل اور پچ کی صورتِ حال ہی ملحوظ نہیں بلکہ اس گراؤنڈ کا پچھلا سارا ریکارڈ بھی فراہم ہوتا ہے۔
اتنے وسیع شماریوں کی فراہمی کے باوجود نجانے کیا سوچ کر شون ٹیٹ یہاں سپن وکٹ کو خارج از امکان قرار دے رہے تھے اور جانے کس بزرجمہر نے کس گمان کے تحت یہ ٹیم منتخب کر ڈالی کہ جس کا توازن ہی گال کی وکٹ سے میل نہیں کھاتا۔ حالانکہ اس گراؤنڈ میں کھیلے گئے اب تک کے تمام تر میچز کا ریکارڈ ہی اٹھا کر دیکھ لیجئے، یہ کوئی دور کی کوڑی نہیں کہ گال کی پچ ہمیشہ سے سپن ہی کی تائید کرتی آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جبکہ پاکستان کے اس سکواڈ میں اظہر علی کے علاوہ فواد عالم ہی وہ بلے باز تھے جن کی سپن کے خلاف مہارت مسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔ سپنرز کے خلاف ان کی اوسط ہی سو کے لگ بھگ ہے۔ مگر اس تھنک ٹینک پہ جانے غیب سے کون سے ایسے مضامین اترے کہ فواد عالم کو ہی ٹیم سے باہر بٹھا دیا۔
اور ستم ظریفی اسی پہ موقوف نہ رہی، بہت اعلیٰ درجے کی فطانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مینیجمنٹ نے تین سیمرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ بھی کر ڈالا۔ لیکن چونکہ سپن کا تناسب بھی درست رکھنا تھا سو دو سپنرز کی شمولیت کی خاطر ایک اضافی بلے باز کی قربانی بھی دے دی گئی جس کی قیمت پہلی اننگز میں ہی بخوبی آشکار ہو چکی ہے۔
یہ دلیل بالکل بجا ہے کہ پہلی اننگز میں پاکستان نے انہی تین سیمرز کی بدولت ابتدائی وکٹیں حاصل کی اور دس میں سے سات وکٹیں بھی سیمرز کے نام رہیں۔ مگر غور طلب پہلو یہ ہے کہ اسی پہلی اننگز میں سری لنکا نے اپنے تین باقاعدہ اور ایک پارٹ ٹائم سپنر کی بدولت ہی پاکستان پہ برتری حاصل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دگرگوں صورتِ حال میں بابر اعظم کی اننگز ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کی اس قائدانہ اننگز نے نہ صرف ڈولتی ناؤ کو بھرپور سہارا دیا بلکہ ٹیم کے مورال کو بھی یکسر گرنے سے بچا لیا۔ مگر ان مشکل ترین حالات میں ایسی فقیدالمثال اننگز کے باوجود پاکستان اس میچ میں ابھی تک سری لنکا سے کوسوں پیچھے رینگ رہا ہے۔
اگرچہ محمد نواز نے پانچ وکٹیں اڑا کر سری لنکا کو گزشتہ ہفتے کے آسٹریلیا ٹیسٹ کی یادیں تازہ کرنے سے کسی حد تک روک دیا ہے مگر اب خسارہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مداوا ناممکن نہ بھی سہی، سخت دشوار ضرور نظر آتا ہے۔ تیسری اننگز میں اب تک پھینکے گئے چھیانوے اوورز میں سے صرف بائیس اوورز کے لئے ہی سیمرز کو زحمت دینا پڑی اور وہ بھی محض ایک ہی کامیابی حاصل کر پائے۔
گال ٹیسٹ میں ہمیشہ تیسری اننگز ہی فیصلہ کن ثابت ہوا کرتی ہے۔ اگر یہاں پاکستان کو یاسر شاہ اور محمد نواز کے ساتھ کوئی تیسرا سپنر بھی میسر ہوتا تو سری لنکن مڈل آرڈر یوں پاکستانی بولنگ کے اعصاب پہ سوار نہ ہو پاتا۔ اور نہ ہی اٹیکنگ لائن برقرار رکھ کر رنز کی مار جھیلنے والے یاسر شاہ اتنے بے بس نظر آتے۔
اگرچہ اس میچ میں ابھی بہت کرکٹ باقی ہے مگر گال کی وکٹ کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ممکنہ طور پہ ساڑھے تین سو کے لگ بھگ ہدف پاکستانی بیٹنگ کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ گو ریکارڈز ہوتے تو ٹوٹنے کے لئے ہی ہیں مگر پہلی اننگز کی پاکستانی بیٹنگ ایسے کسی معجزے کی نوید سنانے سے قاصر نظر آتی ہے










