آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سرگورڈن گرینج: کھاد کے بیجوں کی بوریاں کندھے پر اٹھانے سے جارحانہ بیٹسمین بننے تک
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ویسٹ انڈین جزائر کے ساحلوں سے ٹکرانے والا سمندر گرم نہ سہی لیکن اِن ساحلوں پر کھیلنے والے نوجوان کرکٹرز کا خون یقیناً گرم ہوتا ہے جس کا بھرپور مظاہرہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں آنے کے بعد کرتے ہیں۔
برائن لارا کی 400 رنز کی اننگز ہو یا سر گیری سوبرز کے ایک ہی اوور میں چھ چھکے، ویوین رچرڈز کی ورلڈ کپ فائنل کی دھواں دار بیٹنگ ہو یا پھر کرس گیل کے بھرپور قوت والے سٹروکس، یہ سب ویسٹ انڈین ٹریڈ مارک ہے جسے دنیا دیکھنا پسند کرتی آئی ہے۔
ستر اور اسی کے عشرے میں جب ویوین رچرڈز کا طوطی بول رہا تھا، ایسے میں انھی کے ایک ساتھی کرکٹر گورڈن گرینج بھی حریف بولرز پر بجلی بن کر گرتے تھے اور کسی بھی بولر کے لیے ان سے اپنا دامن بچانا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔
گورڈن گرینج نے اپنی کتاب ’دی مین ان دی مڈل‘ میں لکھا ہے کہ ’میرے لیے دنیا میں سب سے آسان چیز چھکے مارنا رہا ہے۔ رنز بنانے کا یہی سب سے آسان راستہ ہے۔‘
آخر گورڈن گرینج میں ایسی کیا خوبی تھی جس نے انھیں نہ صرف کاؤنٹی کرکٹ بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی ایک زبردست اوپننگ بیٹسمین کے طور پر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ لیکن گورڈن گرینج کے کیریئر کا تفصیلی جائزہ لینے سے قبل ان کی زندگی کے حالات کو دیکھنا ضروری ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بچپن سے انھیں کن مشکلات اور تکالیف سے گزرنا پڑا۔
گورڈن گرینج کا نام کیسے پڑا؟
گورڈن گرینج یکم مئی 1951 کو باربیڈوس کے گاؤں 'بلیک بیس' میں پیدا ہوئے تھے لیکن وہ 12 سال کی عمر تک کتھبرٹ گورڈن لیون کے نام سے پروان چڑھ رہے تھے۔ اُن کی والدہ نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔
بعد ازاں اُن کی والدہ ملازمت کے سلسلے میں انگلینڈ گئیں جہاں انھوں نے ایک بیکری میں کام کرنے کے دوران باربیڈوس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص گرینج سے شادی کر لی اور یوں کتھبرٹ گورڈن لیون کو گرینج کا نام مل گیا۔
گورڈن گرینج جب آٹھ سال کے تھے تو ان کی والدہ کے انگلینڈ چلے جانے کے بعد اُن کی دیکھ بھال اُن کی نانی نے کی اور پھر ان کی والدہ نے انھیں انگلینڈ بلا لیا۔ اُس وقت اُن کی عمر 12 برس تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گورڈن گرینج کے لیے انگلینڈ کا سرد موسم پریشان کُن تھا لیکن اس سے زیادہ تکلیف کا سامنا انھیں الفریڈ سیکنڈری سکول میں کرنا پڑا تھا جہاں اُن پر نسلی تعصب پر مبنی فقرے کسے جانا عام تھا۔
کرکٹ کھیلتے ہوئے لڑکے ان سے جھگڑتے تھے۔ گرینج نے کبھی بدلہ لینا چاہا تو اس مارپٹائی میں خود اپنی ہی ناک اور ہونٹ سے بہتے خون کے ساتھ گھر واپسی ہوتی تھی۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب انھوں نے سکول کو خیرآباد کہہ دیا اور پوری توجہ کھیل پر مرکوز کر دی۔
گورڈن گرینج کے لیے مالی مشکلات کے سبب کرکٹ جاری رکھنا آسان نہ تھا اور یہ شوق سردخانے کی نذر ہو گیا۔ انھیں 12 پاؤنڈ فی ہفتہ کی ملازمت پر مجبور ہونا پڑا جس میں انھیں کھاد کے بیج کی بھاری بھرکم بوریاں اپنے کندھے پر اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانی پڑتی تھیں۔
اس محنت مزدوری سے جو وقت مل جاتا تو وہ چرچ میں گزارتے تھے۔ درحقیقت جب انھوں نے سکول چھوڑا تھا تو انھوں نے مذہب کی تبلیغ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔
ٹرائلز میں آنے کا کرایہ جان آرلٹ نے دیا
گورڈن گرینج نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کرکٹر کے طور پر انھیں دریافت کرنے کے سلسلے میں ہمپشائر کے کوچ آرتھر ہالٹ اور کمنٹیٹر جان آرلٹ کے نام آتے ہیں۔ جب ہمپشائر کاؤنٹی نے انھیں ٹرائلز کے لیے بلایا تھا تو ریڈنگ سے ساؤتھمپٹن پہنچنے کا کرایہ بھی ان کے پاس نہ تھا اور یہ چار پاؤنڈ جان آرلٹ نے ادا کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
اپریل 1968 میں گورڈن گرینج کو ہمپشائر کے گراؤنڈ سٹاف کا کنٹریکٹ مل گیا۔ اُن کا کام صرف سیکنڈ الیون کی طرف سے کھیلنا ہی نہیں تھا بلکہ ساؤتھمپٹن گراؤنڈ کی سیٹوں پر رنگ کرنا بھی ان کی ذمہ داری میں شامل تھا۔
جان آرلٹ کی دو کرکٹرز کی ورلڈ الیون
کرکٹ کمنٹیٹر جان آرلٹ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آپ اپنی ورلڈ الیون میں کن کن کرکٹرز کو شامل کریں گے؟ جان آرلٹ کا جواب تھا ’بیری رچرڈز اور گورڈن گرینج۔‘
سوال کیا گیا باقی نام؟ جان آرلٹ کا جواب تھا ’پہلے ان دو کو تو آؤٹ کر لو۔‘
گورڈن گرینج اور بیری رچرڈز نے ہمپشائر کاؤنٹی کی طرف سے 10 سال ایک ساتھ کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کے انمٹ نقوش چھوڑے اور کئی ریکارڈز اپنے نام کیے۔
اتفاق سے کاؤنٹی کرکٹ کے بعد کیری پیکر سیریز میں بھی گورڈن گرینج اور بیری رچرڈز ورلڈ الیون میں شامل رہے۔
گورڈن گرینج اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ʹجب ہماری رفاقت قائم ہوئی اس وقت بیری رچرڈز منجھے ہوئے بیٹسمین کے طور پر اپنی شناخت کروا چکے تھے جبکہ میں 19 سال کا نوجوان بیٹسمین تھا۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ میں نے انھیں کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا کہ وہ سفید فام جنوبی افریقی بیٹسمین ہیں جن کے ملک میں سیاہ فاموں کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔‘
بیری رچرڈز کے بعد گورڈن گرینج اور ڈیسمنڈ ہینز کی جوڑی بھی بہت مشہور ہوئی۔ ان دونوں ویسٹ انڈین اوپننگ بیٹسمینوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی شراکت میں مجموعی طور پر 6482 رنز بنائے جو عالمی ریکارڈ ہے۔
نشہ اُترا نہیں اور ڈبل سنچری بنا دی
سنہ 1974 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے دورے میں ڈیرک رابنس الیون کے خلاف ایسٹ بورن میں میچ کھیل رہی تھی۔ میچ سے ایک رات پہلے گورڈن گرینج بیری رچرڈز کے ساتھ ڈنر پر گئے جہاں انھوں نے معمول سے زیادہ شراب پی لی۔ جب وہ صبح اٹھے تو اس کے اثرات باقی تھے۔
گراؤنڈ پہنچے تو سردرد کی وجہ سے بیٹنگ مشکل تھی اس لیے کپتان سے درخواست کی کہ انھیں اوپنر کی بجائے تیسرے نمبر پر بھیجا جائے لیکن بیری رچرڈز کے جلد آؤٹ ہو جانے کی وجہ سے گرینج کو میدان میں جانا ہی پڑ گیا۔
گورڈن گرینج کا کہنا ہے ’میں یہی سوچ رہا تھا کہ جو میری حالت تھی اس میں میری وکٹ بھی جلد گر جائے گی۔ میں نے ہر گیند کو مارنا شروع کر دیا۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کون فاسٹ بولر اور کون سپنر اور نہ ہی مجھے اپنا کوئی ایک خاص شاٹ بھی یاد ہے لیکن جب میں ناٹ آؤٹ واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ میں اپنے کریئر کا بہترین سکور 273 رنز بنا چکا ہوں۔‘
’میں نے اس اننگز میں 13 چھکے اور 31 چوکے مارے تھے۔ دراصل یہی وہ اننگز تھی جس نے ویسٹ انڈین ٹیم میں آنے کا میرا کیس مضبوط بنا دیا تھا۔‘
گرینج انگلینڈ میں رہنے کی وجہ سے انگلینڈ کی نمائندگی کے اہل ہو چکے تھے لیکن وہ ویسٹ انڈیز کی طرف سے کھیلنا چاہتے تھے۔
بھکاریوں کے نرغے میں
گورڈن گرینج پہلی بار ویسٹ انڈین ٹیم میں شامل ہوئے تو انڈیا کا دورہ اُن کے لیے دلچسپ تجربہ تھا۔
وہ کہتے ہیں ’ٹیم کے ان کھلاڑیوں کے لیے یہ دھچکہ تھا جو پہلی بار انڈیا کا دورہ کر رہے تھے۔ وہاں کئی لوگ ہمیں اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے ہم کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں۔ ممبئی میں ہوٹل سے باہر نکلنا محال تھا کیونکہ وہاں بھکاریوں کی بڑی تعداد کھلاڑیوں کی منتظر رہتی تھی جو انھیں دیکھتے ہی پیسے مانگنے لگ جاتے۔ میں نے ممبئی شہر میں بہت غربت دیکھی تھی۔‘
بیٹی کی موت
اپریل 1983 میں گورڈن گرینج انڈیا کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں بیٹنگ کر رہے تھے اور پہلے دن کے اختتام پر اُن کا سکور 154 رنز ہو چکا تھا۔
ان کے لیے اطمینان کی بات یہ تھی کہ وہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد پہلی سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن انھیں اپنی دو سالہ بیٹی ریٹا کی بیماری کی اطلاع ملی جو گردے میں انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال میں تھی۔
مزید پڑھیے
گورڈن گرینج میچ چھوڑ کر فوراً باربیڈوس روانہ ہو گئے۔ دو روز بعد ان کی بیٹی وفات پا گئی۔
آئی سی سی نے گرینج کی اننگز کو ریٹائرڈ ناٹ آؤٹ قرار دیا جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
کیا گرینج ویوین رچرڈز کے ہم پلہ تھے؟
گورڈن گرینج اور ویوین رچرڈز ہم عصر کرکٹرز تھے۔ دونوں کا ٹیسٹ کریئر ایک ہی ٹیسٹ میچ میں شروع ہوا تھا۔ ویوین رچرڈز کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ جدید کرکٹ کے دور کے سب سے بڑے بیٹسمین ہیں۔
ویوین رچرڈز نے 121 ٹیسٹ میچوں میں 24 سنچریوں کی مدد سے 8540 رنز بنائے۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی سنچریوں کی تعداد 11 جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ تعداد 114 ہے۔
گورڈن گرینج نے 108 ٹیسٹ کھیلے اور 19 سنچریوں کی مدد سے 7558 رنز سکور کیے۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں انھوں نے 11 سنچریاں سکور کیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں وہ 92 سنچریاں بنانے میں کامیاب رہے۔
اتفاق سے دونوں کرکٹرز کو سر کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔
ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے ’گورڈن گرینج کے مقام سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ اگر سر آئزک ویوین رچرڈز نہ ہوتے تو دنیا سر گورڈن گرینج کا ہی ذکر کر رہی ہوتی۔‘