جہانگیر خان: ‘چھ مرتبہ ورلڈ اوپن جیتا مگر برٹش اوپن میرے دل کے قریب تھا‘

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ 1990 کی بات ہے۔ سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان برٹش اوپن سکواش کا مسلسل 9واں ٹائٹل جیتنے کے بعد ویمبلے کے چینجنگ روم میں تھے کہ سابق عالمی چیمپئین آسٹریلیا کے جیف ہنٹ اندر داخل ہوئے اور انھیں اس کامیابی پر مبارکباد دی۔

یہ جیف ہنٹ ہی تھے جن کا آٹھ برٹش اوپن ٹائٹل جیتنے کا عالمی ریکارڈ جہانگیر خان نے توڑ کر نئی تاریخ رقم کی تھی۔

دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اس موقع پر ہونے والی گفتگو میں جہانگیر خان کہنے لگے کہ ʹمیں نے آپ کا قائم کردہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے اس کے بعد اب مزید کیا دلچسپی باقی رہ جاتی ہے؟ʹ

جیف ہنٹ نے جہانگیر خان کو مخاطب کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ʹڈبل فگرز دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں۔ʹ

جیف ہنٹ کا مطلب یہ تھا کہ دوہرے اعداد دیکھنے میں زیادہ متاثر کن معلوم ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا جہانگیر خان کو نوویں ٹائٹل پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ مزید جیتنے چاہیے۔

یہ جیف ہنٹ کے الفاظ کا اثر تھا یا خود جہانگیر خان کے اندر مزید جیتنے کی تڑپ باقی تھی کہ وہ اگلے سال پھر برٹش اوپن میں آئے اور لگاتار 10 ویں مرتبہ برٹش اوپن کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔

جہانگیر خان بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ʹچینجنگ روم میں جیف ہنٹ سے ہونے والی گفتگو میں انھوں نے اپنی ممکنہ ریٹائرمنٹ کی بات نہیں کی تھی جیسا کہ مشہور رائٹر ڈکی رتناگر نے اپنی کتاب میں لکھا لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ جب کوئی کھلاڑی کھیل کے بلند ترین درجے پر پہنچ کر کوئی عالمی ریکارڈ یا سنگ میل عبور کر لیتا ہے تو پھر وہ یہی سوچتا ہے کہ اب اس کے آگے مزید کیا ہوسکتا ہے؟ جیف ہنٹ کا خیال تھا کہ میں برٹش اوپن کے مزید ٹائٹل جیت سکتا ہوں۔ʹ

سفر کا عروج 10 واں ٹائٹل

22 اپریل 1991 جہانگیر خان کے بین الاقوامی کیریئر کا ایک اہم دن تھا۔ وہ اپنے آخری برٹش اوپن کے فائنل میں پہنچے تو ان کے اور 10 ویں ٹائٹل کے درمیان انہی کے ہم وطن جان شیر خان کھڑے تھے۔

جان شیر خان نے پہلا گیم جیتا تو دیکھنے والوں کے ذہنوں میں یہ خیال آیا کہ کیا اس بار وہ اپنے روایتی حریف کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

لیکن جہانگیر خان آہستہ آہستہ کھیل پر اپنی گرفت مضبوط کرتے گئے اور اگلی تینوں گیمز جیت کر برٹش اوپن کے لگاتار دسویں ٹائٹل پر اپنا نام درج کرا لیا۔ آخری گیم میں تو وہ جان شیر خان پر اس قدر حاوی تھے کہ انھوں نے جان شیر خان کو ایک بھی پوائنٹ بنانے نہیں دیا۔

یہ جہانگیر خان کے برٹش اوپن کے طویل سفر کا عروج بھی تھا اور فاتحانہ انداز میں اختتام بھی۔ اگرچہ اس کے بعد وہ مزید دو سال انٹرنیشنل سکواش کھیلتے رہے لیکن اپنے پسندیدہ ایونٹ برٹش اوپن کو انھوں نے اپنی کارکردگی کی معراج پر لا کر الوداع کہہ دیا تھا۔

جہانگیر خان کہتے ہیں ʹبرٹش اوپن ہمیشہ سے میرے لیے جذباتی وابستگی کا سبب بنا رہا۔ اگرچہ میں چھ مرتبہ ورلڈ اوپن جیت کر عالمی چیمپئن بنا لیکن برٹش اوپن ہمیشہ میرے دل کے قریب رہا۔ʹ

ʹجب میں نے سنہ 1982 میں ہدی جہاں کو ہرا کر پہلی بار برٹش اوپن ٹائٹل جیتا تھا تو اس وقت میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ سفر اتنا طویل ہو گا اور میں اس ایونٹ کو لگاتار دس سال جیتنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ اس وقت تو ذہن میں بس یہی ایک بات تھی پہلی بار ٹائٹل جیت لوں، جیسا کہ ہر کھلاڑی سوچتا ہے۔‘

جہانگیر خان کہتے ہیں ʹمیں نے 1981 میں بھی برٹش اوپن کا فائنل کھیلا تھا لیکن جیف ہنٹ سے ہار گیا تھا۔ اس وقت مجھے دھچکہ پہنچا تھا کہ میں جیتا ہوا میچ ہارا ہوں لیکن میں نے اس شکست کو اپنے ذہن میں سوار نہیں کیا تھا یہی وجہ ہے کہ نومبر 1981 میں ہی میں نے جیف ہنٹ کو ورلڈ اوپن کے فائنل میں شکست دی تھی۔ʹ

عالمی ریکارڈ دوبارہ پاکستان لانا چاہتا تھا

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ʹبرٹش اوپن سے خاص لگاؤ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان نے اس چیمپئن شپ میں زبردست پرفارمنس دکھائی تھی۔ ہاشم خان نے سات مرتبہ یہ اعزاز جیتا تھا۔ ان کا یہ ریکارڈ جیف ہنٹ نے توڑا تھا۔ جب میں چار پانچ مرتبہ برٹش اوپن جیت گیا تو پھر مجھے یہ خیال آنے لگا تھا کہ میں ہنٹ کا ریکارڈ توڑ سکتا ہوں اور یہ ریکارڈ دوبارہ پاکستان کے نام ہو سکتا تھا۔ʹ

یہ بھی پڑھیے

‘آخری چند سال بہت سخت تھے‘

جہانگر خان نے برٹش اوپن کی ان دس کامیابیوں میں سات مختلف کھلاڑیوں سے فائنل کھیلے جن میں ہدی جہاں، گمال عواد، قمر زمان، کرس ڈٹمار، راس نارمن، راڈنی مارٹن، اور جان شیر خان شامل تھے۔

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ʹمیں ساڑھے پانچ سال ناقابل شکست رہا اور تقریباً ساڑھے پانچ سو میچ جیتے۔ یہ وہ دور تھا جب میں اپنے کھیل کے معیار کو اس درجے پر لے گیا تھا جس کا مقابلہ کرنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے ممکن نہ تھا۔‘

’میں اس وقت جوان تھا، فٹ تھا اور میری ٹریننگ دوسروں سے کہیں زیادہ سخت ہوا کرتی تھی تاہم بعد کے دنوں میں، میں فٹنس مسائل سے دوچار ہونے لگا اور دوسری جانب جو نئے کھلاڑی آئے وہ نوجوان تھے اور ان کا کھیل بھی بہت اعلیٰ معیار کا تھا جن میں جان شیر خان اور راڈنی مارٹن قابل ذکر تھے۔‘

جہانگیر خان کا کہنا ہے کہʹیہ میرے لیے سخت چیلنج تھا لیکن میں نے اپنی ٹریننگ کو اس انداز سے رکھا ہوا تھا کہ میں برٹش اوپن کو ایک خاص نظر سے دیکھتا تھا۔ میری توجہ ورلڈ اوپن اور برٹش اوپن پر ہوا کرتی تھی۔‘

’مجھے خود پر اتنا یقین ہوتا تھا کہ میں برٹش اوپن میں ان سب کو ہرا سکتا ہوں۔ میرے حریف کھلاڑیوں پر ایسا دباؤ نہیں ہوتا تھا ان کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوتا تھا لیکن جوں جوں میں جیف ہنٹ کے ریکارڈ کی طرف بڑھ رہا تھا قوم کی توقعات بہت زیادہ ہونے لگی تھیں جس کی وجہ سے میں خود پر دباؤ محسوس کرنے لگا تھا۔‘

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ʹبرٹش اوپن میں میرے لیے سب سے سخت جان حریف راڈنی مارٹن رہے جن کے خلاف میں لگاتار تین فائنل کھیلا تھا۔ وہ ایک ایسے کھلاڑی تھے جن کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی تھی وہ کسی بھی وقت اپنے حریف کو حیران کر دیتے تھے اور دباؤ کا شکار ہو کر نہیں کھیلتے تھے۔ سنہ 1989 میں جب میں نے آٹھویں بار برٹش اوپن جیتی تو فائنل میں میرا راڈنی مارٹن سے پانچ گیمز میں مقابلہ ہوا تھا۔‘

جہانگیرخان کے کوچ رحمت خان کہتے ہیں کہ ʹجب سنہ 1987 میں جہانگیر خان کو جان شیر خان نے کئی میچوں میں ہرایا تو روشن خان نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر یہ سارے ٹورنامنٹس ہار گیا تو برٹش اوپن کا کیا ہو گا؟ اس وقت جہانگیرخان کی ٹریننگ میں کمی آئی تھی لہذا ہم دونوں نے جہانگیرخان سے بات کی کہ سخت ٹریننگ کے بغیر آپ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جس کے بعد انھوں نے ٹریننگ میں دوبارہ پہلے جیسی تیزی دکھائی اور اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔‘

والدہ کا غم اور خوشی

جہانگیر خان بتاتے ہیں کہ ʹجب میں نے پہلی بار ورلڈ اوپن اور برٹش اوپن جیتی تو میری فیملی میں عجیب سی کیفیت تھی۔ سب سے زیادہ اثر میری والدہ نے لیا تھا جو میرے چیمپئین بننے سے صرف دو سال پہلے اپنے بڑے بیٹے کو کھو چکی تھیں اور اب وہ مجھے چیمپئین بنتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔‘

’ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ ہم جس کی خواہش کی تکمیل کے لیے نکل پڑے ہیں وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں۔ ہماری فیملی میں سب کی کہانی ایک جیسی ہی تھی اور پھر یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ جب میں چیمپئین بنا اس وقت ہمارے حالات بھی اچھے نہیں تھے لیکن اللہ نے بڑی مدد کی اور ہماری فیملی نے مشکل وقت سے نکل کر اچھے دن بھی دیکھے۔‘

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ʹبڑے بھائی طورسم خان کی وفات کے بعد میں اپنی فیملی کی امیدوں کا مرکز تھا اور جب میں اپنی کامیابیوں پر اپنے ماں باپ کے چہروں پر خوشی دیکھتا تو مجھے بھی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ میں نے زندگی کی دھوپ چھاؤں کو خود دیکھا ہے۔‘