کراچی ٹیسٹ: پاکستانی بیٹسمینوں کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ 148 آل آؤٹ، آسٹریلیا کی 489 رنز کی مجموعی برتری

کراچی ٹیسٹ

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کے بکھرنے کی وجہ نیشنل سٹیڈیم کی وکٹ نہیں بلکہ بیٹسمینوں کی اپنی غیرذمہ داری تھی جس نے میزبان ٹیم کو دوسرے ٹیسٹ میں مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

آسٹریلیا کے اسکور 556 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں پاکستانی ٹیم تیسرے دن اپنی پہلی اننگز میں صرف 148 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور اسے فالو آن کا سامنا تھا لیکن پیٹ کمنز نے دوبارہ بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

آسٹریلیا نے کھیل ختم ہونے پر دوسری اننگز میں صرف ڈیوڈ وارنر کی وکٹ گنوا کر 81 رنز بنائے تھے۔ عثمان خواجہ 35 اور مارنس لبوشین 37 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

عثمان خواجہ 30 رنز پر اس وقت آؤٹ ہونے سے بچے جب ساجد خان کی گیند پر محمد رضوان کیچ لینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

آسٹریلیا کی مجموعی برتری 489 رنز کی ہوچکی ہے۔

بیٹسمینوں کو کس بات کی جلدی تھی؟

پنڈی ٹیسٹ میں سنچری شراکت بنانے والے اوپنروں عبداللہ شفیق اور امام الحق کے لیے یہاں حالات بالکل مختلف رہے اور صرف 26 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کے بعد عبداللہ شفیق ایک ایسے رن پر آؤٹ ہوگئے جو کسی صورت میں نہیں بنتا تھا۔

امام الحق نے نیتھن لائن کو بیک ورڈ پوائنٹ کی طرف کھیلا لیکن اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے مچل سویپ سن کے تھرو نے عبداللہ شفیق کو کریز میں پہنچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور انہیں 13 رنز پر مایوس لوٹنا پڑا۔

امام الحق نے بھی اپنی وکٹ خود اپنے ہاتھوں سے گنوائی۔ کھانے کے وقفے کے بعد پہلے ہی اوور میں انھوں نے نیتھن لائن کو باہر نکل کر کھیلنا چاہا لیکن ایک آسان کیچ مڈ آن پر کھڑے پیٹ کمنز کو تھما دیا۔اس وقت ان کا سکور 20 اور پاکستان کا مجموعی سکور 45 رن تھا۔

پیٹ کمنز

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان کی اننگز میں اسوقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب مچل اسٹارک نے اپنے ساتویں اوور میں لگاتار گیندوں پر اظہرعلی اور فواد عالم کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

اظہرعلی 14 رنز بناکر باہر جاتی ہوئی گیند پر دوسری سلپ میں کیمرون گرین کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ مچل سٹارک کی اگلی ہی گیند پر فواد عالم بھی اپنی وکٹ نہیں بچا سکے۔ فواد نے ریویو لیا لیکن اس یارکر کے صحیح نشانے پر لگنے کے بارے میں دو رائے نہیں تھی۔

60 رنز پر 4 وکٹیں گرنے سے جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی اس کی مرمت کے لیے تمام تر ُامیدیں بابراعظم اور محمد رضوان سے وابستہ تھیں لیکن رضوان جو پیٹ کمنز کی گیند پر سلپ میں سٹیو سمتھ کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے تھے ان کے اگلے ہی اوور میں وکٹ کیپر الیکس کیری کے ہاتھوں آؤٹ ہونے سے نہ بچ سکے۔

کپتان بابراعظم نے ابھی اکاؤنٹ بھی نہ کھولا تھا کہ پیٹ کمنز کی گیند پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی ُپرزور اپیل ہوئی۔ آسٹریلوی ٹیم نے فوراً ریویو لیا تاہم ٹی وی امپائر کا فیصلہ بابر کے حق میں گیا لیکن بابراعظم نے اپنے سامنے چھ وکٹیں گرتے دیکھیں اور پھر خود بھی 36 رنز بناکر ٹیسٹ کرکٹ میں مچل سویپ سن کی ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی وکٹ بن گئے۔

کپتان بابراعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

یہ بھی پڑھیے

دلچسپ بات یہ ہے کہ سویپ سن کی گیند پر ان کا کیچ عثمان خواجہ نے لیا جنہوں نے ٹیسٹ میچ کے آغاز پر انھیں ٹیسٹ کیپ پہنائی تھی۔

سویپ سن نے شاہین آفریدی کو ایل بی ڈبلیو کرکے آخری وکٹ کی 30 رنز کی شراکت ختم کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو اپنے انجام پر پہنچادیا۔

واضح رہے کہ بابراعظم نے آخری ٹیسٹ سنچری فروری 2020ء میں بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی میں سکور کی تھی۔ اس کے بعد سے وہ تین ہندسوں کے بغیر 19 اننگز کھیل چکے ہیں۔

آسٹریلوی اننگز میں کیا ہوا؟

آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز505 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی اور 35 منٹ کی بیٹنگ کے بعد 556 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی۔

اس دوران اس نے 51 رنز کا اضافہ کیا۔ مچل اسٹارک نے دو گھنٹے سولہ منٹ کی بیٹنگ میں 28 رنز سکور کیے۔ کپتان پیٹ کمنز 34 اور مچل سویپ سن 15 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستانی بولروں کے غیرمتاثر کن بولنگ اعداد و شمار میں فہیم اشرف اور ساجد خان دو دو وکٹیں لینے میں کامیاب ہوسکے جن میں ساجد خان 167 رنز دینے کے خطاوار تھے۔ نعمان علی نے ایک وکٹ کے حصول کے لیے 134 رنز دیے تھے۔