راولپنڈی ٹیسٹ کا چوتھا روز: آسٹریلیا پاکستان کے سکور سے صرف 27 رن پیچھے، عثمان خواجہ کے بعد لبوشین بھی نروس نائنٹیز کا شکار

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کسی بھی بیٹسمین کے لیے دو لمحات انتہائی مایوس کن ہوتے ہیں: ایک جب وہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو جائے اور دوسرا جب وہ سینچری کے بہت قریب آ کر اس سے محروم رہ جائے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ کے نمبر ایک کھلاڑی مارنس لبوشین ان دونوں لمحات سے گزر چکے ہیں۔

نومبر سنہ 2018 میں پاکستان کے خلاف دبئی میں اپنی اولین ٹیسٹ اننگز میں انھیں صفر کی خفت سے دوچار ہونا پڑا تھا اور اب اسی پاکستانی ٹیم کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں وہ صرف دس رنز کی کمی سے اپنی ساتویں سنچری مکمل کرنے سے محروم ہو گئے۔

چوتھے دن صرف 64 اوورز کا کھیل

جب کھیل کم روشی کی وجہ سے تین اوورز پہلے ختم کرنا پڑا تو آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے تھے اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

آسٹریلیا پاکستان کے سکور 476 رنز چار کھلاڑی آؤٹ سے اب صرف 27 رنز پیچھے ہے اور اس کی تین وکٹیں باقی ہیں۔

مارنس لبوشین اور سٹیو سمتھ نے 271 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر اننگز شروع کی تو یہ بات سب کو بتا دی گئی تھی کہ آج 67 اوورز کا کھیل ممکن ہو سکے گا۔

اتوار کی رات کی بارش اور گیلی آؤٹ فیلڈ کے سبب پہلا سیشن کھیل کے بغیر ہی گزر گیا۔

مارنس لبوشین جس انداز سے اننگز کو آگے بڑھا رہے تھے اس کی وجہ سے ان کی 185 اور 162 کی وہ دو شاندار اننگز یاد آ گئیں جو انھوں نے سنہ 2019 میں پاکستان کے خلاف برسبین اور ایڈیلیڈ میں کھیلی تھیں لیکن اس بار یہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

شاہین شاہ آفریدی کو مِڈوکٹ پر چوکا لگانے کے بعد اگلی گیند کا منظر یکسر مختلف تھا۔ اس بار خوشی کا موقع شاہین شاہ آفریدی کے لیے تھا جو لبوشین کو سلپ میں عبداللہ شفیق کے عمدہ کیچ کے ذریعے آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

لبوشین نے 158 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 90 رنز سکور کیے۔ ان کی اننگز میں بارہ چوکے شامل تھے۔ انھوں نے سٹیو سمتھ کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 108 رنز کا اضافہ کیا۔

لبوشین سے قبل عثمان خواجہ صرف تین رنز کی کمی سے سینچری مکمل کرنے سے رہ گئے تھے۔ عثمان خواجہ کی مایوسی اس لیے زیادہ کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ٹیسٹ کریئر میں تیسری مرتبہ 97 کے سکور پر آؤٹ ہوئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو اگلی وکٹ کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ٹریوس ہیڈ صرف آٹھ رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

کپتان بابراعظم نے پانچویں وکٹ کے حصول کے لیے ڈی آر ایس کی مدد لی لیکن نسیم شاہ کی گیند پر کیمرون گرین ایل بی ڈبلیو اس لیے نہیں دیے گئے کیونکہ گیند نے بیٹ کو بھی چھوا تھا۔ پاکستانی ٹیم نے یہ ریویو ضائع کر دیا۔

سمتھ کو کیمرون گرین کی شکل میں بھی ایک قابل اعتماد پارٹنر ملا اور یہ دونوں پانچویں وکٹ کی شراکت میں 81 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیمرون گرین اپنی چوتھی نصف سنچری سے صرف دو رن کی دوری پر نعمان علی کی گیند پر ٹریپ ہو گئے۔ لیگ سٹمپ کے باہر کی گیند کو سوئپ کرنے کی کوشش میں وہ افتخار احمد کو آسان کیچ تھما گئے۔

نعمان علی کو وکٹ کیپر الیکس کیری کی وکٹ بھی مل جاتی اگر ان کے ریورس سوئپ پر گیند کپتان بابر اعظم کے ہاتھ سے نہ نکلتی لیکن انھیں اس سے بھی بڑی وکٹ اس وقت مل گئی جب انھوں نے سٹیو سمتھ کو وکٹ کیپر رضوان کے ہاتھ کیچ کرا دیا۔

یہ گیند بھی لیگ سٹمپ کے باہر تھی، جسے سمتھ سوئپ کرنے گئے تھے۔ انھوں نے 78 رنز 196 گیندوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے سکور کیے۔

پاکستان نے ایک اور ریویو اس وقت ضائع کیا جب شاہین آفریدی کی گیند پر مچل سٹارک کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی جس پر امپائر احسن رضا نے ناٹ آؤٹ کہا۔ کچھ دیر تذبذب کا شکار رہنے کے بعد بابر اعظم نے ریویو لیا لیکن گیند لیگ سٹمپ کے باہر جا رہی تھی۔

آسٹریلیا کی ساتویں وکٹ 444 کے سکور پر گری جب نسیم شاہ نے الیکس کیری کو 19 کے انفرادی سکور پر بولڈ کر دیا۔

لیفٹ آرم سپنر نعمان علی سب سے کامیاب بولر رہے۔ 37 اوورز کی بولنگ کا صلہ انھیں اب تک 197 رنز کے عوض چار وکٹوں کی شکل میں مل چکا ہے۔