شطرنج: انڈیا کا ننھا کھلاڑی جس نے عالمی چیمپیئن کو شکست دی

’میں اب بس سونا چاہتا ہوں۔‘

یہ کہنا تھا 16 سالہ پرگنانندھا کا جو کچھ ہی دیر پہلے شطرنج کے ایک عالمی آن لائن ٹورنامنٹ ’ایئرتِھنگس ماسٹرز‘ میں دنیا کی رینکنگ میں اول نمبر کے کھلاڑی میگنس کارلسن کو ہرا کر آئے تھے۔

انڈیا کے شہر چنئی سے تعلق رکھنے والے دبلے پتلے پرگنانندھا نے پیر کی صبح یہ مقابلہ جیتا اور ان کے لیے شطرنج میں جیت کوئی اجنبی چیز نہیں ہے۔ صرف دس سال کی عمر میں وہ شطرنج کے سب سے کم عمر انٹرنیشنل ماسٹر بن چکے تھے۔

اس کے دو ہی سال بعد 2018 میں انھیں دوسرے کم عمر شطرنج گرینڈ ماسٹر کا اعزاز مل چکا تھا۔ اب ناروے کے 32 سالہ گرینڈ ماسٹر کو مات دے کر وہ اپنا ’سب سے بڑا خواب‘ بھی پورا کر چکے ہیں۔ وہ اس گرینڈ ماسٹر کو ہرانے والے تیسرے انڈین ہیں۔

پرگنانندھا جو پراگ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں، انڈین نوجوانوں کی ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو شطرنج کے اس کھیل میں انڈیا کی بڑھتی ہوئی برتری کی علامت ہیں، جس کی جڑیں چھٹی صدی میں کھیلی جانے والی ایک انڈین بورڈ گیم سے ملتی ہیں جسے دو کھلاڑی کھیلتے تھے۔ یہ کرکٹ کا جنون رکھنے والے ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے گرینڈ ماسٹرز کی تعداد اب 73 ہے جو کہ سنہ 2007 میں 20 تھی۔ ان میں دو خواتین ہیں۔ ان میں 34 سالہ کونیورو ہمپی بھی شامل ہیں جو ورلڈ ’ریپڈ چیس چیمپیئن‘ ہیں۔ انھوں نے یہ اعزاز سنہ 2019 میں اپنے یہاں بچے کی ولادت کے دو سال بعد کھیل دوبارہ شروع کرنے کے بعد حاصل کیا تھا۔

پرگنانندھا کے تین ساتھی ان کی جنریشن کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ہیں۔ ان میں 18 سالہ نہال سارین جو کہ سپیڈ چیس ماسٹر ہیں اور انھوں نے سنہ 2019 میں ایشئین بلِٹز چیمپئن شپ جیتی تھی، 18 سالہ ارجن اریگیزی جنھیں پانچ بار عالمی چیمپئین رہنے والے وشوانتھن آنند انڈیا کی ’بہترین امید‘ کہتے ہیں اور 15 سالہ ڈوماراجو گوکیش جو شطرنج کی تاریخ میں سنہ 2019 میں دوسرے کم عمر ترین گرینڈ ماسٹر بن گئے تھے۔

ای ایس پی این انڈیا کے لیے لکھنے والے سوسن نینان نے سنہ 2018 میں اپنے ایک آرٹیکل میں کہا تھا کہ پرگنانندھا پہلے ہی دنیا کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ ’ایک ایسی عمر میں جب لڑکے کئی گھنٹوں کی گیمنگ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، انھوں نے ایک ایسے آرٹ پر توجہ دی اور اس میں مہارت حاصل کی جسے ہم کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یقیناً یہ نوعمر افراد کی پسندیدہ نہیں۔‘

ان کے ماتھے پر مقدس تِلک لگا ہوا تھا۔ پرگنانندھا بظاہر سیدھے سادے سے اور شرمیلے نظر آتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ ویسے ہی ہوں جیسے نظر آتے ہیں۔

اپنی جنریشن میں پراگ شطرنج کے بہت ہی پرعزم کھلاڑی ہیں۔ جب ان کی عمر آٹھ برس تھی تو وہ جانتے تھے کہ شطرنج ان کی زندگی بننے والی ہے۔ ان کے کوچ آر بی رمیش کہتے ہیں کہ وہ ہر وقت شطرنج کے بارے میں سوچتے تھے۔ رمیشن انھیں تب سے تربیت دے رہے ہیں جب وہ سات سال کے تھے۔

وہ ایک بینک مینیجر اور ایک گھریلو خاتون کے بیٹے ہیں۔ رمیشن کہتے ہیں کہ پرگنانندھا بہت دوستانہ ہیں۔ وہ چنئی میں اپنے دوستوں کے ہمراہ کرکٹ اور ٹیبل ٹینس کھیلنا اور تمل زبان میں ٹی وی پر نشر ہونے والے کامیڈی شوز کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

جب ای ایس پی این کی سوزن سنہ 2018 میں ان کے گھر گئیں تو انھوں نے دیکھا کہ وہ انہماک سے ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے تھے جن میں اس وقت جاری انتخابات کے اعدادو شمار کے بارے میں رپورٹ چل رہی تھی۔ انھوں نے سوزن سے کہا ’اسے دیکھیں۔۔۔ یہ دلچسپ ہے۔‘

کورونا سے پہلے وہ ہر ماہ کے پندرہ دن دنیا بھر میں ہونے والے ٹورنامنٹس کے لیے سفر میں گزارتے تھے۔ اس سے بھی مدد ملتی ہے کہ انھیں روز سکول نہیں جانا پڑتا اور وہ صرف امتحانات سے پہلے کلاسز میں جاتے ہیں۔ ان کی بہن وشالی جو کہ انڈیا میں شطرنج کی ویمن ٹیم کی کھلاڑی ہیں، کا شمار اس کھیل کو کھیلنے والی فرسٹ جنریشن میں ہوتا ہے۔ ان کی والدہ چاول بنانے والے کُکر کے ساتھ پوری دنیا میں ان کے ہمراہ جاتی ہیں اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے دوران بیٹے کو اس کے پسندیدہ تمل کھانے بنا کر کھلاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

رمیش کہتے ہیں کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ وہ دیگر کھانوں سے بھی واقف ہو جائے‘۔

اس نسل میں شامل اپنے جیسے دیگر کھلاڑیوں کی طرح پرگنانندھا نے شطرنج کے کھیل میں وشواناتھن آنند سے متاثر ہیں جنھوں نے ملک میں شطرنج سے متعلق سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔

آج دنیا میں سرفہرست 100 کھلاڑیوں میں سے سات کا تعلق انڈیا سے ہے۔ 52 سالہ آنند ان سات میں سے اب بھی سب سے پہلے نمبر پر ہیں اور ان کا رینک 16 ہے۔

جب سنہ 2000 میں انھوں نے پہلی عالمی چیمپیئن شپ کا ٹائٹل حاصل کیا تھا تو اس وقت انڈیا کے شہر چنئی میں ٹریفک رک گئی تھی اور وکٹورین سٹائل کی بگی پر انھیں چنئی ائیرپورٹ سے گھر لے جایا گیا تھا۔

آج دو دہائیوں کے بعد یہ کھیل فروغ پا رہا ہے۔

آل انڈیا شطرنج فیڈریشن کے سیکریٹری بھارت سنگھ چوہان کے مطابق انڈیا میں شطرنج کے سرکاری طور پر رجسٹرڈ کھلاڑیوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔ مگر کم ازکم 10 لاکھ لوگ ایسے ہیں جو کہ ملک میں مقامی سطح پر ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے ہیں۔

ان کھلاڑیوں میں اوبر اور آٹو رکشہ ڈرائیور اور کنسٹرکشن کا کام کرنے والے مزدور بھی شامل ہیں جو مفت داخلے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ اپنی کارکردگی سے ورلڈ چیس فیڈریشن کی ریٹنگ میں شامل ہو سکیں۔

فیڈریشن کے ذریعے جسے بنیادی طور پر سابقہ کھلاڑی چلا رہے ہیں، ملکی سطح پر 20 چیمپیئن شپس چلائی جا رہی ہیں۔ ان میں کھلاڑیوں کی عمر سات سے کم سے شروع ہوتی ہے اور ہر سال انعام کی قیمت 20 ملین ہوتی ہے۔

رواں برس انڈیا 12 بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کر رہا ہے۔

کورونا کے دوران جب بورڈ گیمز کا انعقاد ممکن نہیں تھا تب دس ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں نے ملک بھر میں آن لائن مقابلوں میں حصہ لیا۔

رواں ہفتے ملک کے شمالی شہر کان پور میں 200 کھلاڑیوں کے درمیان آن بورڈ قومی چیمپئین شپ کھیلی جا رہی ہے۔ اس میں 25 گرینڈ ماسٹرز شامل ہیں۔ انعام کی رقم 30 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔

شطرنج شاید کبھی بھی شائقین میں مقبول نہ ہو اور ایسے لوگوں کے لیے بورنگ ہو سکتی ہے جو اس کھیل کو فالو نہیں کرتے۔ مگر رواں برس انڈیا شطرنج لیگ کی شروعات کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انڈیا میں کرکٹ کے لیے آئی پی ایل ہے جو چھ سے آٹھ فرنچائز کے ساتھ چل رہی ہے جن کی ملکیت کسی بزنس ہاؤس کے پاس ہوتی ہے۔

اس کھیل کی ڈیمانڈ اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب تربیت کروانے کے لیے ماہر اساتذہ کی کمی ہو گئی ہے۔

چوہان کہتے ہیں کہ ’اب اتنے کھلاڑی ہیں کہ تربیت کرنے والوں کی کمی ہو گئی ہے۔ شطرنج کے تمام سابقہ کھلاڑی تربیت فراہم کرنے کی نوکریاں کر رہے ہیں۔‘

پرگنانندھا کے کوچ رمیش ایک مثال ہیں۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں شطرنج کے چیمپئین رہے ہیں۔ سنہ 2008 میں انھوں نے حکومتی آئل کمپنی کی نوکری چھوڑ دی اور کھیل سے ریٹائرمنٹ لے کر چنئی میں ایک کوچنگ سکول کھولا تھا۔

آج دنیا بھر سے ان کے سکول میں سات سے 18 برس کی عمر کے ایک ہزار سے زیادہ سٹوڈنٹس ہیں۔ ان سٹوڈنٹس میں سے تقریباً ایک تہائی کو مفت تربیت دی جاتی ہے۔

رمیشن کہتے ہیں کہ 'انڈین بچے جیت کے لیے بہت پرعزم، لگن رکھنے والے اور محنت سے کام کرنے والے ہیں۔ انڈیا میں اس کھیل کے بڑھنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بطور گرینڈ ماسٹر تربیت دینے والے قابل افراد ہیں اور اچھے کھلاڑی خود ٹیچرز بن رہے ہیں۔‘

گرینڈ ماسٹر پراوین تھپسے کا خیال ہے کہ ابھی انڈیا میں شطرنج کھیلنے کی صلاحیت رکھنے والوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے میں وقت لگے گا۔ انھوں نے اس کھیل کے ایک اعلیٰ درجے کے گرینڈ ماسٹر کی بات کی اور کہا کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سپانسر ہے اور نہ ہی مالک۔

وہ کہتے ہیں کہ ریاست کی جانب سے چلائی جانے والی آئل کمپنیوں نے شطرنج کے کھلاڑیوں کو نامزد تو کیا ہے لیکن کسی ٹورنامنٹ میں انعام میں ملنے والی رقم عموماً اب بھی ان کی معمولی تنخواہوں سے بھی کم ہے۔

انڈیا کو شطرنج کے میدان میں کھلاڑی پیدا کرنے کے لیے مزید بڑے سپانسرز کی ضرورت ہے۔

تھپسے کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ہر کسی کی مزید مدد کی ضرورت ہے۔‘

بے انتہا ٹیلنٹ کے اس پول میں دنیا کے ٹاپ کے 100 کھلاڑیوں میں سے انڈین شہریوں کی تعداد فقط سات ہے۔ روس جو کہ شطرنج کا پاور ہاؤس کہلاتا ہے اس کے کھلاڑیوں کی تعداد 23 ہے۔

لیکن اب پرگنانندھا شطرنج میں توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

رمیشن کہتے ہیں کہ 'وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے سفر کی شروعات ہے اور ابھی انھوں نے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔

'آپ ان کے بارے میں مستقبل میں اور سنیں گے۔'