رشید الحسن: عمران خان پر واٹس ایپ پر تنقید کرنے کے الزام میں سابق اولمپیئن پر ہاکی فیڈریشن نے دس سال کی پابندی عائد کر دی

اولمپیئن رشید الحسن
،تصویر کا کیپشناولمپیئن رشید الحسن
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جمعرات کی شام پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کھلاڑی اور اولمپکس جیتنے والی ٹیم کے رکن رشید الحسن پر وزیراعظم عمران خان کے بارے میں واٹس ایپ گروپ میں ’غیر شائستہ زبان‘ استعمال کرنے کے الزام میں دس سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ان چیف بھی ہیں اور رشید الحسن نے مبینہ طور پر ان کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کی ہے۔

رشید الحسن سنہ 1984 میں لاس اینجلس اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔

اولمپیئن رشید الحسن نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ان پر عائد دس برس کی پابندی کو وہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ فیڈریشن نے انھیں ہراساں کیا اور وہ اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور جلد ہی لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلے میں جو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کے کسی نوٹس کا رشید الحسن نے جواب نہیں دیا۔

رشید الحسن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے ہاکی فیڈریشن کے ایک افسر کی جانب سے ملنے والے پہلے نوٹس کا جواب نہیں دیا تھا لیکن سیکرٹری آصف باجوہ کے دستخط سے ملنے والے دوسرے نوٹس کا جواب دیا تھا جس میں انھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیٹ اپ کا حصہ نہیں بلکہ جب سے انھوں نے ہاکی چھوڑی ہے وہ کبھی پاکستان ہاکی فیڈریشن میں نہیں رہے لہٰذا اس دس سالہ پابندی کا کوئی جواز نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ تو بتایا جائے کہ یہ پابندی کس قانون کے تحت لگائی گئی ہے۔‘

یاد رہے کہ 62 برس کے رشید الحسن پاکستانی ہاکی کی تاریخ کے بہترین رائٹ ہاف کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے 199 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

وہ سنہ 1984 کے لاس اینجلز اولمپکس، 1982 کے ممبئی ورلڈ کپ، 1980 کی چیمپئنز ٹرافی اور سنہ 1982 کے ایشین گیمز میں طلائی تمغے جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔ وہ سنہ 1979 میں پہلا جونیئر ورلڈ کپ جیتنے والی فاتح ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

رشید الحسن سابق اولمپئن منظور الحسن سینئر کے چھوٹے بھائی ہیں۔

رشید الحسن

واٹس ایپ کی گفتگو کی بنیاد پر پابندی

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے رشید الحسن پر جو پابندی عائد کی ہے وہ کسی ٹی وی چینل پر ہونے والی گفتگو پر نہیں بلکہ ایک واٹس ایپ گروپ پر ہونے والی گفتگو کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔

رشید الحسن کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے سابق اولمپیئنز اور دیگر افراد کا ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے جس میں ہاکی سے متعلق گفتگو ہوتی رہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چونکہ ہاکی کا درد رکھتا ہوں لہٰذا پاکستانی ہاکی کی بدترین صورتحال پر فیڈریشن کو ہی نہیں بلکہ عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہوں۔

رشید الحسن نے اس بات سے قطعاً انکار کیا کہ انھوں نے عمران خان کے بارے میں غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ انھوں نے کہا کہ ’البتہ یہ بات بالکل درست ہے کہ میں نے عمران خان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں۔‘

رشید الحسن کا کہنا ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے کنٹینر پر کھڑے ہو کر یہ دعوے کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں کھیلوں خصوصاً ہاکی کی حالت بہتر بنائیں گے لیکن تین سال اقتدار میں رہنے کے باوجود وہ اب تک پاکستان کی ہاکی پر توجہ نہیں دے پائے اور اسی وجہ سے واٹس ایپ گروپ میں ہونے والی گفتگو میں وہ انھیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

رشید الحسن کا کہنا ہے کہ اس گروپ سے ان کی گفتگو فیڈریشن کے عہدیداروں تک پہنچ گئی اور انھیں حیرت اس بات پر ہے کہ فیڈریشن والے اب پیمرا کو بھی کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر پابندی عائد کر دی جائے اور کسی ٹی وی چینل پر مجھے بولنے کا موقع نہ دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے سوشل میڈیا یا میڈیا پر آ کر کچھ نہیں کہا تو پیمرا کو کہاں سے بیچ میں لایا گیا۔‘

رشید الحسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے واٹس ایپ گروپ میں جو بھی خیالات کا اظہار کیا وہ ایک عام شہری کی حیثیت سے کیا، جس کا انھیں حق حاصل ہے۔

یہ فیصلہ ’مضحکہ خیز‘ ہے

پاکستانی ہاکی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اعجاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دس برس کی پابندی کا یہ فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔‘

’یہ فیصلہ کر کے فیڈریشن نے اپنی جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا کیونکہ یہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دائرہ اختیار ہی نہیں کیونکہ رشید الحسن کبھی بھی فیڈریشن کا حصہ نہیں رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل ایسا ہے کہ کسٹمز کا کلکٹر کہے کہ میں پی آئی اے کے کسی افسر پر پابندی لگاتا ہوں۔‘

اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ناکامی سب پر عیاں ہے۔

پاکستان ہاکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی سینیئر اور جونیئر ٹیموں کی کارکردگی اچھی نہیں۔ ورلڈ کپ میں اس کی پوزیشن بارہویں اور ایشین گیمز میں چوتھی رہی۔‘

’اس مایوس کن کارکردگی پر جو بھی سابق اولمپیئن فیڈریشن پر تنقید کرتا ہے وہ انھیں خاموش کرانے پر لگ جاتی ہے۔ کبھی ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کی موجودگی میں ان سے کم سینیئر کھلاڑیوں کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دے کر اور کبھی کچھ کو فیڈریشن میں عہدے دے کر۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس ضمن میں منظور جونیئر کی مثال موجود ہے جو تین سال پہلے تک فیڈریشن پر کھل کر تنقید کرتے تھے لیکن پھر انھیں چیف سیلیکٹر بنا دیا گیا۔ اسی طرح خواجہ جنید کو ہیڈ کوچ بنا دیے گئے وہ بھی فیڈریشن پر بہت تنقید کیا کرتے تھے۔‘

اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کی مایوس کن کارکردگی پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والوں میں رشید الحسن سرِفہرست ہیں۔

’انھوں نے وقتاً فوقتاً وزیراعظم کو خطوط بھی بھیجے ہیں جن میں پاکستانی ہاکی کی بدترین صورتحال پر توجہ دینے کی درخواست بھی کی۔

’وہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے بھی ملے ہیں لیکن چونکہ وہ فیڈریشن کے قابو میں نہیں آ رہے ہیں لہٰذا ایک ایسی گفتگو کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف کارروائی کی گئی جو واٹس ایپ پر ہوئی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ واٹس ایپ پر کس طرح کے میسیجز کا تبادلہ ہوتا ہے۔‘