آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہین آفریدی 2021 کے بہترین کرکٹر اور بابر اعظم بہترین ون ڈے کرکٹر قرار
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نوجوان رکن اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو سال کا بہترین کرکٹر قرار دیا ہے۔
اس سے قبل پیر کو ہی پاکستانی کپتان بابر اعظم کو سال کا بہترین ون ڈے کرکٹر منتخب کیا گیا تھا۔
سنہ 2004 میں آئی سی سی ایوارڈز کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی کرکٹر نے مجموعی طور پر بہترین کرکٹر یا بہترین ون ڈے کرکٹر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
بہترین کھلاڑی کی گیری سوبرز ٹرافی کے لیے شاہین آفریدی کا مقابلہ ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار دیے جانے والے انگلش کپتان جو روٹ، ٹی 20 کے بہترین کھلاڑی قرار دیے جانے والے پاکستان کے ہی محمد رضوان اور نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن سے تھا۔
شاہین آفریدی کو آئی سی سی نے اس سے قبل 2021 کی بہترین ٹیسٹ اور ٹی 20 ٹیموں میں بھی شامل کیا تھا۔
آئی سی سی کی جانب سے شاہین آفریدی کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ طوفانی بولنگ، رفتار اور سوئنگ کا بہترین نمونہ اور کچھ جادوئی لمحات کے ساتھ شاہین آفریدی کو 2021 میں روکنے والا کوئی نہ تھا۔
سال کے بہترین کرکٹر قرار دیے جانے پر شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ 'میں نے کوشش کی کہ پاکستان کے لیے اچھی پرفارمنس دے سکوں۔ 2021 میں ہماری ٹیم نے بہترین کھیل پیش کیا۔ ہم نے کافی اچھے اچھے میچ جیتے۔ ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے لیے اچھی پرفارمنس دوں اور آگے بھی میری یہ کوشش جاری رہے گی۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری ٹیم میں کھلاڑیوں کے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات ہیں اور ہمیں خوشی ہوتی ہے جب ساتھی اچھا کھیل پیش کریں۔ میری کارکردگی کافی اچھی رہی ہے، جیسے ٹیسٹ میں پانچ وکٹوں کے سپیل۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف فتح ان کے لیے سب سے یادگار رہے گی۔ ’یہ ایک تاریخی میچ تھا اور انڈیا کے خلاف میچ میں شائقین کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ میرے لیے انڈیا کے خلاف پرفارمنس 2021 کی ہائی لائٹ تھی۔ یہ سال میرے لیے بہت اچھا رہا ہے اور امید کرتا ہوں کہ 2022 میں بھی آپ اچھی پرفارمنس دیکھیں گے۔'
شاہین آفریدی کے انتخاب کے بعد 2021 میں آئی سی سی ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعداد چار پو گئی ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے سال 2021 کے بہترین کرکٹر قرار دیے جانے کے بعد اس وقت شاہین آفریدی کا نام پاکستانی ٹوئٹر پر صفِ اول کے تین ٹرینڈ میں شامل ہے۔
کرکٹ کے تجزیہ کار مظہر ارشد نے آج کے دن کو پاکستانی کرکٹ کے لیے بہت بڑا دن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ’ 21 سالہ شاہین پہلے پاکستانی اور سب سے کم عمر کرکٹر ہیں جنھوں نے کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتا ہے۔ صرف چار سال پہلے وہ انڈر 19 ٹیم میں کھیل رہے تھے۔‘
پاکستان کے سبھی کرکٹرز کی جانب سے انھیں مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شاداب خان نے شاہین آفریدی کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ’پہلے ہی بتا دیا تھا شاہین آفریدی نمبر ون ہے‘
پاکستانی کرکٹ شائقین گذشتہ برس اکثر اس بارے میں بحث کرتے نظر آئے کہ شاہین کو آرام نہ دینا اور ہر فارمیٹ میں کھلانا ٹھیک ہے یا نہیں، اس جانب اشارہ کرتے ہوئے جبران صدیقی لکھتے ہیں ’اگر شاہین تھکے بھی ہوئے تھے تو انھیں آئی سی سی مینز کرکٹر آف دی ایئر ایوارڈ کی شکل میں شاندار انعام ملا ہے۔‘
’تو دیکھیں کرکٹ پر ہمارے راج کا ٹائم آ گیا‘
بیشتر صارفین انھیں مبارکبادیں دینے کے ساتھ ساتھ حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ان کی انڈین کرکٹر کے ایل راہل کو کرائی گئی گیند کی ویڈیوز شئیر کرتے یہ کہتے نظر آئے کہ ’یہ شاہین کی سب سے بہترین وکٹ تھی۔‘
اس موقع پر کچھ صارفین شاہد آفریدی کے ساتھ ان کے تعلق کا ذکر کرتے بھی نظر آئے۔ مجاہد نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’شاہد آفریدی کتنے خوش قسمت ہیں جنھیں شاہین آفریدی جیسا داماد ملا ہے۔‘
مریم نے شاہین شاہ آفریدی کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا ’یاد ہے ہم کہا کرتے تھے کہ اپنا ٹائم آئے گا، تو دیکھیں کرکٹ پر ہمارے راج کرنے کا ٹائم آ گیا۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے زائرہ نظام نے بھی شاہین کو مبارکباد کے ساتھ یہ بھی حسرت ظاہر کی کہ ’کاش شاہین انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر میں پیدا ہوئے ہوتے۔‘
شاہین آفریدی اور بابر اعظم سے قبل محمد رضوان کو ٹی 20 فارمیٹ کے لیے سال کا بہترین کھلاڑی جبکہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر فاطمہ ثنا کو سال کی بہترین ابھرتی ہوئی کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا تھا۔
بابر اعظم کو آئی سی سی نے اس سے قبل 2021 کی بہترین ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم میں نہ صرف شامل کیا تھا بلکہ ان دونوں ٹیموں کی کپتانی بھی انھیں سونپی گئی تھی۔
سال کے بہترین ون ڈے کرکٹر کے اعزاز کے لیے بابر اعظم کا مقابلہ جنوبی افریقہ کے جانیمن ملان، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن اور آئرلینڈ کے پال سٹرلنگ سے تھا۔
بابر اعظم نے اگرچہ 2021 میں صرف چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے لیکن ان میچوں میں ان کی کارکردگی متاثر کن رہی اور انھوں نے 67.50 کی اوسط سے 405 رنز بنائے جن میں دو سنچریاں شامل تھیں۔
اپنے انتخاب کے بعد ویڈیو پیغام میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ پہلے تو اپنے مداحوں کی جانب سے حمایت اور پسندیدگی پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ آئی سی سی، پی سی بی اور خصوصی طور پر پاکستان ٹیم کے شکرگزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح انھوں نے مجھے سپورٹ کیا اور بیک کیا ان کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا تھا۔ مجھے بہت فخر ہے کہ میرے پاس ایسی ٹیم ہے۔ میں اپنے والدین کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے میرے لیے کافی دعا کی ہے۔‘
سال کی بہترین اننگز کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ ’اگر آپ مجھ سے بہترین اننگز کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ انگلینڈ والی تھی۔ میرے خیال میں میرے کریئر کی بہترین اننگز تھی کیوں مجھے وہاں کچھ مشکلات کا سامنا تھا اور مجھے ایک اچھی اننگز کی ضرورت تھی جو مجھے ملی اور جس سے مجھے کافی اعتماد حاصل ہوا۔‘
انگلینڈ کے خلاف اس ون ڈے سیریز میں اگرچہ پاکستان کو تین صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس سیریز میں بابر اعظم نے اپنے کریئر کی بہترین انفرادی اننگز کھیلتے ہوئے158 رنز بنائے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
بابر اعظم نے گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں پاکستان کی دو ایک کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ جیتے گئے دونوں میچوں میں مین آف دی میچ رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ملک میں ہر ٹیم کے خلاف رنز کیے جائیں اور یہی مقصد ہوتا ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز بہت مدد گار تھی اس کے بعد ہمیں مومینٹم ملا۔ ہمیں بطور ٹیم اور مجھے بطور کھلاڑی اور کپتان کافی اعتماد ملا۔‘
بادشاہوں کا بادشاہ بابر اعظم
آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو 2021 میں ون ڈے کا بہترین کھلاڑی نامزد کرتے ہی سوشل میڈیا پر بابر اعظم ٹرینڈ کر رہے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق کرکٹرز کے علاوہ عام پاکستانیوں نے انھیں اس اعزاز پر مبارکباد دی اور ساتھ ہی اسے پاکستان کے لیے ایک بہترین لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابر ایک ہیرو ہیں۔
سوشل میڈیا صارف ارسلان نے بابر اعظم کی ایک بچپن کی تصویر کے ساتھ تبصرہ کیا کہ کسے پتا تھا کہ یہ چھوٹا سا بچہ ایک دن آئی سی سی کا ون ڈے پلیئر آف دی ایئر ایوارڈ جیت کر پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ بابر اعظم تو ہیرا ہے۔
صحافی ماریہ میمن کا کہنا تھا کہ ’ہم کرکٹ کے عہدِ بابری میں جی رہے ہیں۔‘
سوشل میڈیا صارف کشف نے لکھا کہ یہ بابر اعظم کا دور ہے جبکہ مدثر بھٹی نامی ٹوئٹر صارف نے تین لفظوں میں ہی بات ختم کر دی۔’بادشاہوں کے بادشاہ‘۔
ماہوبلی کے نام سے ٹوئٹر پر موجود مہوش بھٹی کا کہنا تھا کہ ’یہ بابر اعظم اور رضوان کا اور پاکستان کا دور ہے۔ ہم نے وہ کر دکھایا جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا‘۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مذاق اڑایا گیا، اسے دیوار سے لگایا گیا، بےعزتی کی گئی لیکن یہ سب ان حالات سے نبرد آزما رہے اور ان (پاکستانی کرکٹ ٹیم) کی توجہ اپنے مقصد پر مرکوز رہی۔
انگلینڈ کے جو ُروٹ سال کے بہترین ٹیسٹ کرکٹر
آئی سی سی کے بہترین ٹیسٹ کرکٹر کے ایوارڈ کے لیے پیر کو ہی انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان جو ُروٹ کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔
اس ایوارڈ کے لیے انگلینڈ کے جو ُروٹ، انڈین آف سپنر روی چندرن ایشون، نیوزی لینڈ کے طویل قامت فاسٹ بولر کائل جیمیسن اور سری لنکا کے اوپنر ِدیُموتھ کرونا رتنے کی نامزدگی عمل میں آئی تھی۔
انگلینڈ کے جو روٹ نے گذشتہ سال 15 ٹیسٹ میچوں میں 1708 رنز بنائے جن میں چھ سنچریاں اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ صرف 81 رنز کی کمی سے محمد یوسف کا ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ 1788 رنز کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہے تھے۔