شاہین آفریدی نے وسیم اکرم کی یاد دلا دی

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

نوے کی دہائی کے اواخر میں ساؤتھ افریقہ کی ون ڈے ٹیم دنیا کی بہترین ون ڈے ٹیم تھی۔ گو پاکستان کے بھی حالات ایسے گئے گزرے نہیں تھے۔ دو ڈبلیوز کا شہرہ تھا۔ سعید انور سا اوپنر اور اعجاز احمد سا ون ڈاوْن تھا۔ مگر شان پولاک اور ایلن ڈونلڈ جب بولنگ کا جادو جگاتے تھے تو اس کے سامنے سبھی سٹارز پھیکے پڑ جاتے تھے۔

خواہ پاکستان ساوتھ افریقہ کے دورے پہ جاتا، خواہ ہنسی کرونئے کی ٹیم پاکستان کی میزبانی میں کھیلتی، جیت ہمیشہ ساؤتھ افریقہ کی ہی ہوتی۔ اور یہ سلسلہ ایسے تواتر سے چلتا گیا کہ 1995 سے 2000 تک کے درمیان ایک ایسا بنجر دور آیا جہاں پاکستان کو مسلسل چودہ میچز میں ساؤتھ افریقہ سے شکست ہوئی۔

یہ تب ون ڈے کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کے خلاف پاکستان کا بدترین ریکارڈ تھا۔

اس کے بعد دوسرا ایسا ریکارڈ پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ کو پچھلے چار سال میں حاصل ہوا جہاں کیوی ٹیم مسلسل گیارہ میچز میں پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست رہی۔ ابوظہبی میں امید تھی کہ شاید یہ تسلسل ٹوٹ جائے گا مگر ٹرینٹ بولٹ کی خوش قسمتی ایک بار پھر پاکستان کی بدقسمتی بن گئی۔

حالانکہ اگر جنوری میں دورۂ نیوزی لینڈ پہ اٹھائی گئی پانچ صفر کی خفت کا حساب چکانا ہوتا تو یہ سیریز پاکستان کے لئے بہترین موقع تھی۔ کیونکہ کیویز کو اپنے سٹار اوپنر مارٹن گپٹل کی خدمات بھی میسر نہیں ہیں۔

پچھلے میچ کی شکست کے بعد سرفراز سے جب متواتر بارہویں شکست کی وجہ پوچھی گئی تو ان کی تشخیص بالکل بجا تھی کہ کیوی پیسرز آغاز ہی میں وکٹیں لے کر اننگز کی روانی کو متاثر کر دیتے ہیں اور دھیرے دھیرے میچ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

اس کے دو ہی علاج ممکن تھے۔ یا تو پاکستانی پیسرز بھی اننگز کے آغاز میں کچھ ویسا ہی اضطراب برپا کر دیں جو کیوی بولرز کرتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ پاکستانی مڈل آرڈر میں سے ایک دو پلئیرز سیسہ پلائی دیوار بن کر اٹھ کھڑے ہوں اور شروع کے انتشار کو اپنے اطمینان میں سمیٹ لیں۔

سو، پچھلے ہفتے کی ٹی ٹونٹی سیریز کے برعکس کل ٹاس کے وقت دباؤ ولیمسن پہ نہیں، سرفراز پہ تھا کہ کیا ان کی ٹیم کیویز کے خلاف پچھلے بارہ میچز کے ریکارڈ کو پلٹ پائے گی یا ولیمسن تیرہواں میچ بھی لے اڑیں گے۔

فہیم اشرف نے بولنگ کا آغاز کیا تو نہ وکٹ سے کوئی خاص مدد مل رہی تھی نہ ہی کوئی سوئنگ دیکھنے میں آ رہی تھی۔ مگر جونہی دوسرے اوور کے لئے شاہین شاہ آفریدی آئے، گیند کی چال ڈھال بدلنے لگی۔ آف سٹمپ کے باہر فل لینتھ پہ پھینکی گئی گیندیں ذرا دیر سے ہلکی ہلکی سوئنگ ہونے لگیں۔

اس دوران اچانک ایک گیند پہ منرو نے کچھ ایسی طاقت سے بلا گھمایا کہ بری شاٹ ہونے کے باوجود گیند باونڈری کے پار جا گری۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ شاہین آفریدی ایسے ردھم میں ہونے کے باوجود چھکا لگنے پہ اگلی گیند کیسی پھینکتے ہیں۔

ایسے مواقع پہ بعض بولر ایک اچھی لینتھ پہ سنگل یا ڈاٹ بال دے کر لڑائی کو اگلے اوور تک موخر کر دیتے ہیں۔ لیکن شاہین آفریدی نے منرو سے بچنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ ان کے فیورٹ زون میں ہی دوبارہ ایسی لینتھ دی کہ انہیں اونچا شاٹ کھیلنا ہی پڑا۔ اور حفیظ نے ایک خوبصورت کیچ تھام کر پہلی کامیابی پاکستان کی جھولی میں ڈالی۔

اس کے بعد ولیمسن کے ساتھ جو بدقسمتی ہوئی، اس میں تو شاہین آفریدی کا کردار تھا ہی لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی سولہویں اوور میں ہوئی۔

اس کیوی بیٹنگ آرڈر کا عجیب سا المیہ یہ ہے کہ ایشین کنڈیشنز میں اس کے بہترین بلے باز روس ٹیلر ہی سست ترین بھی ہیں۔ ان کے برعکس وہ واحد کیوی بیٹسمین جن کا ہوم کنڈیشنز کی بجائے ایشیا میں ریکارڈ زیادہ متاثر کن ہے، وہ ہیں ٹام لیتھم۔

ٹام لیتھم سلو پچز سے جلدی ہم آہنگ ہو جاتے ہیں اور ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ سست ترین وکٹوں پہ بھی نہایت تیزی سے رنز بٹورتے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں رن ریٹ غیر محسوس انداز سے بڑھنے لگتا ہے۔ اگر ٹیلر کے ساتھ ان کی پارٹنرشپ جم جاتی تو میچ پھر پاکستان کے ہاتھ سے سرکنے لگتا۔

لیکن جب ٹام لیتھم کریز پہ قدم جمانے کا سوچ ہی رہے تھے، تبھی نجانے کہاں سے ایک ایسا عمدہ یارکر آیا جو بظاہر تو بالکل سیدھی لائن میں تھا مگر بالکل آخر میں ایسی پھرتی سے اندر آیا کہ لیتھم ہی کیا، کوئی بھی بڑے سے بڑا بلے باز ہوتا، یہی کر پاتا جو لیتھم کو کرنا پڑا۔

ٹام لیتھم چکرا کر بکھرے ہوئے سٹمپس کو دیکھ رہے تھے اور شاہین آفریدی میچ بننے سے پہلے ہی اسے تمام کر چکے تھے۔