آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈی آر ایس تنازع: ’بالآخر کوہلی نے ثابت کر دیا کہ سعید اجمل بالکل صحیح تھے‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جنوبی افریقہ اور انڈیا کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن میزبان ٹیم کی اننگز کے 21 ویں اوور کی چوتھی گیند پر آف سپنر روی چندرن اشون نے کپتان ڈین ایلگر کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی جس پر امپائر ایراسمس نے انگلی فضا میں بلند کر دی۔
ایلگر نے امپائر کے آؤٹ دیے جانے کے فیصلے پر ریویو لے لیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نہ صرف انڈین کپتان وراٹ کوہلی اور ان کے کھلاڑیوں کے لیے بلکہ خود امپائر ایراسمس کے لیے بھی حیران کن تھا۔
اشون کی گیند گھٹنے کی اونچائی پر وکٹ کے بالکل سامنے ایلگر کے پیڈ پر لگی تھی۔ بلّا دور دور تک نہیں تھا لیکن بال ٹریکنگ نے دکھایا کہ گیند لیگ سٹمپ کے اوپر جا رہی تھی۔
وراٹ کوہلی بمشکل اپنے جذبات پر قابو رکھ سکے اور انھوں نے ہوا میں لات چلانے پر ہی اکتفا کیا۔
امپائر ایراسمس نے جب میدان کی بڑی سکرین پر ایلگر کو ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے کا منظر دیکھا تو سٹمپ مائیک پر ان کی آواز سنائی دی یہ ناممکن ہے۔ انھیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
سٹمپ مائیک پر انڈین کھلاڑیوں کی آوازیں بھی صاف سنی گئیں۔ اشون یہ کہتے ہوئے پائے گئے ’سپر سپورٹ (براڈ کاسٹر) تمھیں جیتنے کا کوئی بہتر طریقہ تلاش کرنا چاہیے۔‘
لوکیش راہول بھی اس موقع پر خاموش نہ رہ پائے تھے اور ان کا جملہ تھا پورا ملک 11 کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہا ہے۔
یہاں تک کہ خود کپتان وراٹ کوہلی بھی سٹپمس کی جانب جھکے اور وکٹ پر لگے مائیکس میں ڈی آر ایس پر تنقید کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
سب کو سعید اجمل یاد آ گئے
اشون کی گیند پر ڈین ایلگر کو ناٹ آؤٹ دیے جانے کے اس واقعے نے جہاں ڈی آر ایس کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے وہیں اس واقعے کے بعد سب کو پاکستانی آف سپنر سعید اجمل یاد آگئے جن کی گیند پر انڈین بیٹسمین سچن تندولکر کو ناٹ آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 2011 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پیش آیا تھا جب سعید اجمل کی گیند پر سچن تندولکر ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیے گئے تھے لیکن ڈی آر ایس ٹیکنالوجی کا فیصلہ سعید اجمل کے خلاف گیا تھا۔
اشون اور ڈین ایلگر کے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا آغاز ہو گیا ہے۔
عائز شیخ نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’بالآخر کوہلی نے ثابت کر دیا کہ سعید اجمل بالکل صحیح تھے۔‘
سیج صادق نے اپنی ٹویٹ میں سعید اجمل کے بیان کا حوالہ دیا ہے کہ جب ان کی گیند پر ریویو نے تندولکر کے بارے میں فیصلہ بدل دیا تو انھیں یہ کہا گیا کہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ درست ہے لیکن آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔
سیج صادق نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں سعید اجمل کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ جب ایک واضح فیصلہ آپ کے خلاف جاتا ہے تو آپ کے لیے اسے قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
’سچن تندولکر کے خلاف ان کی گیند سٹمپس کو مس نہیں کر رہی تھی بالکل ایسے ہی جیسے اشون کی ایلگر کو کی گئی گیند سٹمپس مس نہیں کر رہی تھی۔ یہ واضح آؤٹ تھا۔‘
پاکستان کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے ٹویٹ کیا کہ آؤٹ یا ناٹ آؤٹ۔ بال ٹریکنگ سسٹم میں کہیں نہ کہیں خرابی ہے۔ شواہد کے مطابق یہ آؤٹ ہے۔
کرکٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غلطیوں کا امکان کم سے کم ہو سکے تاہم اس کے باوجود اکثر اوقات تنازعات سامنے آتے رہے ہیں اور ٹیکنالوجی پر بھی سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں۔
ولید عباسی نامی صارف نے لکھا کہ انڈین کرکٹ پرستاروں کو یہ سمجھنے میں تقریباً 10 سال، نو ماہ اور 14 دن لگے کہ ہمارے احساسات اس وقت کیا تھے۔
سویاش سری واستو نامی صارف نے لکھا کہ اب مجھے ورلڈ کپ 2011 کی سیمی فائنل میں سچن تندولکر کے ایل بی ڈبلیو فیصلے پر پاکستان کا درد محسوس ہو رہا ہے۔