وراٹ کوہلی کی روہت شرما سے اختلافات کی تردید، مگر کیا سب واقعی ٹھیک ہے؟

،تصویر کا ذریعہNURPHOTO
- مصنف, آدیش کمار گپتا
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کی کرکٹ گذشتہ دو برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر تبدیلی اور تنازعات کا شکار رہی ہے۔
انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی اور اس کی سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو کپتان اور کھلاڑیوں کے درمیان پرانے تعلقات رہے ہیں۔ مگر 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد سے انڈیا کے دو لیجنڈز کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ اور اب ایک مرتبہ پھر وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
گذشتہ کچھ دنوں سے انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ہے کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے۔ جب روہت شرما نے انجری کے باعث جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے معذرت کر لی تو اس نے آگ میں تیل کا کام کیا۔
حال ہی میں روہت شرما کو انڈین ٹیسٹ ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد تین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں انڈیا کے کپتان روہت شرما ہوں گے۔
بی سی سی آئی کی سلیکشن کمیٹی نے گذشتہ ہفتے انڈیا کی ایک روزہ میچوں کی کپتانی روہت شرما کو سونپ دی تھی۔ جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں بھی اب وہ کوہلی کی جگہ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
انڈیا جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گا جوکہ 26 دسمبر سے شروع ہوگی۔ اس کے بعد 19 اور 23 جنوری کے درمیان تین ایک روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔
ایسی صورتحال میں سوال کیا جارہا ہے کہ اگر روہت شرما ون ڈے میچوں سے پہلے صحتیاب نہ ہوئے تو آیا وراٹ کوہلی پھر سے ٹیم کی قیادت کریں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر اس کا جواب ملنے سے پہلے ہی یہ خبر سوشل میڈیا اور اخباروں میں آچکی تھی کہ وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو انڈیا کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے ٹویٹ کیا کہ ٹیسٹ سیریز سے روہت شرما کے جانے کے بعد اب وراٹ کوہلی بھی ون ڈے سیریز نہیں کھیلیں گے۔ ’بریک لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کا وقت بہتر ہونا چاہیے۔ یہ صرف قیاس آرائیوں کو صحیح ثابت کرتا ہے۔‘
اسی دوران وزیرِ کھیل انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ کھیلوں سے بڑا کوئی نہیں ہے۔
سابق انڈین کرکٹر کیرتی آزاد نے کہا کہ اگر روہت اور وراٹ ایک ساتھ نہیں کھیلتے تو اس سے انڈیا کو نقصان ہوگا۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ اب میں ون ڈے کا کپتان نہیں: وراٹ کوہلی
اب تک وراٹ کوہلی یا بی سی سی آئی نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تھی کہ آیا وہ خاندانی مصروفیت کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز نہیں کھیلیں گے یا کچھ اور۔
مگر پھر بدھ کو وراٹ کوہلی نے بالآخر ان خبروں پر ایک پریس کانفرنس میں وضاحت پیش کی اور بتایا کہ ان کے اور روہت شرما کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ گذشتہ دو برسوں سے اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں ہے اور وہ ایسی باتیں بناتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ون ڈے میچز ضرور کھیلیں گے اور ٹیسٹ سیریز میں روہت شرما کی کمی محسوس کریں گے۔
انھوں نے کہا ’میں ایک روزہ میچوں کے لیے دستیاب ہوں‘۔
ون ڈے کی کپتانی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا ’مجھ سے سلیکش کمیٹی کی میٹنگ سے ڈیڑھ گھنٹا پہلے رابطہ کیا گیا۔ چیف سلیکٹر نے ٹیسٹ کی ٹیم پر بات کی۔ کال ختم ہونے سے پہلے سلیکٹرز نے مجھے بتایا کہ اب میں ون ڈے کا کپتان نہیں ہوں اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔‘
وراٹ کوہلی نے یہ بھی کہا کہ روہت شرما کی عدم موجودگی میں ماینک اگروال اور کے ایل راہل کے پاس اچھا موقع ہوگا کہ اوپنر کی حیثیت سے اپنی کارکردگی دکھا سکیں جو میچ کا سب سے اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وراٹ کوہلی نے کئی باتوں پر اپنا موقف پیش کیا جیسے ان کے کپتانی کے دوران ان پر کتنا دباؤ رہا اور اب کپتان نہ ہونے پر وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔
کیا وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بیچ اختلافات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرکٹ تجزیہ کار پردیپ میگزین نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’ناٹ جسٹ کرکٹ‘ ہے۔ بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ آیا وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے درمیان واقعی اختلافات ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ’آج کے دور میں کسی بھی صحافی کے پاس دونوں کھلاڑیوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے صحیح معلومات کے لیے ذرائع تک مکمل رسائی نہیں۔ اگر ان کے تعلقات اچھے نہیں تو ایسے کسی جواب کی توقع خود ان سے ہونی چاہیے تھی۔
’اگر ایسا ہے تو کوئی کھلاڑی کھلے عام اس کا اظہار نہیں کرتا۔ اگر دونوں کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تب بھی وہ یہ نہیں چاہیں گے کہ ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو۔‘
پردیپ کہتے ہیں کہ ’وراٹ کوہلی کی پریس کانفرنس اہم ہے کیونکہ ایک طرح سے انھوں نے بتایا کہ انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا تھا۔ وہ اس فارمیٹ میں کپتان رہنا چاہتے تھے۔ یہ کہنا کہ ان سے مشورہ کیا گیا صحیح نہیں کیونکہ وراٹ نے کہا کہ انھیں اس بارے میں ٹیم کے اعلان سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ قبل بتایا گیا تھا۔
’وراٹ نے بتایا کہ بورڈ کے کسی رکن نے ان سے نہیں کہا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سے استعفیٰ دیں کیونکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ بورڈ کے صدر سورو گنگولی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے لیے الگ ٹیمیں نہیں چاہتے۔ تو مختلف کپتان بھی نہیں ہوسکتا۔ اس طرح وراٹ کوہلی نے ایک طرح یہ بتا دیا کہ بورڈ اور اس کے عہدیدار سچ نہیں بتا رہے۔‘
تو کیا اس کا مطلب ہے بورڈ کپتان بنا سکتا ہے اور ہٹا بھی سکتا ہے؟ اس کے جواب میں پردیپ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وراٹ کوہلی کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ سلیکٹرز کا تھا۔
’بورڈ خود اس حوالے سے سلیکٹرز کو آگاہ کرتا ہے۔ بورڈ میں اسی طرح کئی برسوں سے ہورہا ہے۔ ہر کسی کو لگتا تھا کہ آج کے دور میں ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وراٹ کوہلی جیسے بڑے کھلاڑی کو بس ایک گھنٹہ قبل پتا چلتا ہے کہ انھیں کپتانی سے ہٹایا جا رہا ہے تو یہ صحیح نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کوئی بھی کھلاڑی انجری کے بہانے کسی کپتان کے نیچے نہ کھیلنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
’روہت شرما فارم میں ہیں اور انگلینڈ کے خلاف انھوں نے اوپنر کی حیثیت سے اچھی کارکردگی دکھائی۔ ان کا کیریئر اور مستقبل داؤ پر ہے۔ اس صورتحال میں یہ قیاس آرائی ایک مذاق ہوگی، یعنی کوئی کھلاڑی اس حد تک بھی جاسکتا ہے۔‘
’روہت شرما کے بغیر کوہلی مشکل میں ہوں گے‘
پردیپ کے مطابق ’اگر روہت ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلتے اور وراٹ ون ڈے سیریز نہیں کھیلتے تو اس دورے پر دونوں ٹیمیں بہت کمزور ہوں گی۔ روہت شرما انڈیا کے بہترین اور اِن فارم بلے باز ہیں۔ وراٹ کوہلی کے لیے ٹیسٹ سیریز ایک چیلنج ہے کیونکہ انڈیا کبھی جنوبی افریقہ میں نہیں جیتا۔
’روہت کے بغیر وہ مشکل میں ہوں گے۔۔۔ وراٹ نے گذشتہ دو برسوں میں کسی بھی فارمیٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے باوجود ون ڈے کرکٹ میں ان کا شمار بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ ان کا حریف صرف روہت شرما ہے۔ ان کا جانا انڈین کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بارے میں ایاز میمن کہتے ہیں کہ ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں اور اس میں کوئی سازش نہیں ہے۔ ’باہمی اختلافات کے باوجود انھیں انڈیا کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنی ہوگی۔‘
ان کے مطابق ’روہت شرما کو اس فارم میں ضرور کھیلنا چاہیے کیونکہ ایسا موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ وہ انجری کی وجہ سے باہر ہوئے ہیں۔ اور یہ بات سمجھ سے باہر ہوگی اگر وہ جان بوجھ کر دورے پر نہ گئے تو۔ اس کے باوجود اگر ایسا کچھ ہے تو اس کی ذمہ داری بی سی سی آئی پر عائد ہوگی۔‘
سینیئر صحافی اور کرکٹ کے تجزیہ کار وجے لوکپلی کہتے ہیں کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بیج اختلافات کی خبروں کو اب تھم جانا چاہیے۔
’دونوں ایک ہی ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں اور کسی نے بھی دوسرے کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ روہت شرما نے کچھ دیر قبل اس بارے میں واضح کیا تھا۔ اب وراٹ نے بھی اس پر اپنا ردعمل دیا ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھا ہے۔‘
اب معاملہ یہ ہے کہ اگر روہت شرما ون ڈے سیریز میں بھی نہیں کھیلتے تو کے ایل راہل یا ریشبھ پنت کپتانی کا بوجھ سنبھال سکتے ہیں۔ اس طرح وراٹ کوہلی اپنی بلے بازی پر دھیان دے سکیں گے۔













