انڈیا کو نیوزی لینڈ سے شکست: ’انڈیا کا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا معجزہ ہی ہو گا‘، سابق کرکٹرز بھی انڈیا کی پرفارمنس سے مایوس

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اتوار کی رات نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد جہاں انڈیا کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے آثار انتہائی کم ہو گئے ہیں وہیں اس شکست نے انڈین ٹیم کی پرفارمنس پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

نیوزی لینڈ نے تو اس میچ میں انڈیا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی لیکن انڈیا کی یہ اس ٹورنامنٹ میں دوسری بڑی شکست تھی۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم نے 24 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں انڈیا کو دس وکٹوں سے شکست دے تھی۔

پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد انڈین ٹیم تو پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی لیکن نیوزی لینڈ کے ساتھ میچ میں شکست نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

غیر متوقع مارجن کی اس شکست کے بعد سوشل میڈیا پر انڈین فینز جہاں اداس اور مایوس نظر آئے وہیں بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔

کسی نے اس شکست کا ذمہ دار ویراٹ کو ٹھرایا تو کسی نے انڈین پریمئیر لیگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ بہت سے صارفین یہ سوال کرتے بھی نظر آئے کہ کیا انڈیا اپنے باقی کے دو میچ جیت پائے گا۔

واضح رہے کہ انڈیا کا اگلا میچ تین نومبر کو افغانستان کے ساتھ جبکہ اس کا نمیبیا کے ساتھ بھی ایک میچ باقی ہے جو پانچ نومبر کو کھیلا جائے گا۔

سابق کرکٹرز کی جانب سے ردعمل

انڈیا کی کیویز سے شکست کے بعد کرکٹ فینز تو ایک طرف لیکن انڈیا کے سابق کرکٹرز بھی خاصے مایوس دکھائی دیے۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز ویرندر سہواگ نے لکھا: ’انڈیا سے بہت مایوسی ہوئی۔ نیوزی لینڈ کمال تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’یہ شکست انڈیا کو بہت نقصان پہنچائے گی۔‘

انڈین کرکٹ ٹیم کے ہی سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے لکھا کہ ’شاباش نیوزی لینڈ آپ نے آج بہت عمدہ کھیلا اور انڈیا کی ٹیم کو خود کو سنبھال کر معجزے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے انڈین کرکٹ ٹیم کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’وقت نکل رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین نے کپتان ویراٹ پر ہونے والی تنقید پر جواب دیتے ہوئے لکھا: ’ویراٹ کوہلی پر تنقید کی جا رہی ہے لیکن یہ پوری ٹیم اور کوچز ہیں جو ناکام ہوئے نہ کہ صرف ایک فرد۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’انڈیا کے شائقین کے لیے یہ میچ ایک خوفناک ہیلووین ثابت ہوا۔‘

صرف یہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے سابق کرکٹرز بھی انڈیا کی مایوس کن پرفارمنس پر حیران نظر آئے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے لکھا: ’انڈیا کے لیے صورتحال اچھی نظر نہیں آ رہی لیکن ہم سب چاہتے ہیں کہ انڈیا ٹورنامنٹ میں رہے۔ انڈیا کا اتنی جلدی نکل جانا ٹورنامنٹ کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔‘

شاہد آفریدی نے لکھا: ’انڈیا کے پاس ابھی بھی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کا موقع ہے لیکن ٹورنامنٹ میں اپنے دو اہم ترین میچز میں انھوں نے جیسے پرفارم کیا، اس کے بعد ان کا کوالیفائی کرنا معجزہ ہی ہو گا۔‘

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم سے شکست کے بعد جب انڈین کپتان ویراٹ کوہلی سے سوالات ہوئے تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس ٹورنامنٹ میں بہت کرکٹ باقی ہے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے میچ کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’کچھ سمجھ نہیں آئی کہ انڈیا کس پالیسی اور کس گیم پلان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سوائے بمرا کے آج کے میچ میں انڈیا کی باقی ٹیم بہت معمولی ٹیم دکھائی دی۔‘

’انڈیا کی ٹیم کو مبارک، آپ نے کامیابی کے ساتھ انڈین فینز کو مایوس کیا‘

انڈیا کی اس شکست سے صرف سابق کرکٹرز کو ہی نہیں بلکہ کرکٹ کا شوق رکھنے والے ہر شخص کو دھچکا لگا۔

پاکستان کی سپورٹس صحافی اور کمنٹیٹر زینب عباس نے انڈیا کے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے ساتھ میچوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا: ’انڈیا کے لیے خطرناک بات یہ ہے کہ دونوں میچز میں بولر وکٹیں لینے میں ناکام رہے۔ پہلا میچ دس وکٹوں سے جبکہ یہ والا آٹھ وکٹوں سے ہارا۔‘

انڈیا سے صارف گتیش مکھر نے سوالیہ انداز میں لکھا: ’انڈیا ہار گیا۔۔۔ اس سے زیادہ برے الفاظ کیا ہو سکتے ہیں؟‘

انھوں نے اپنے اس سوال کو جواب خود ہی دیتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا دوبارہ ہار گیا۔‘

مصنف پرادیپ بھاندرے انڈیا کی شکست پر خاصے غصے میں دکھائی دیا اور انڈین کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’یہ لوگ اچھی کرکٹ کھیلنے کے علاوہ ہر کام کرتے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’انڈیا کی ٹیم کو مبارک ہو، آپ نے کامیابی کے ساتھ انڈین فینز کو مایوس کیا۔‘