آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کس پرچم کے ساتھ شریک ہے؟
- مصنف, عبدالرشید شکور، عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس
25 اکتوبر کی شام شارجہ سٹیڈیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان اور سکاٹ لینڈ کے درمیان میچ سے قبل افغانستان کا قومی ترانہ بجا تو افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد نبی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ترانہ گاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔
محمد نبی کے ان جذبات کا پس منظر یہ ہے کہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے ملک کے پرانے پرچم کے ساتھ شریک ہے جبکہ طالبان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد اپنا نیا پرچم دنیا کے سامنے پیش کیا ہے تاہم بین الاقوامی سطح پر ابھی تک افغانستان کا وہی سہ رنگی پرچم نظر آ رہا ہے۔
افغان طالبان سابق دور حکومت کے پرچم اور ترانے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس بڑی تعداد میں افغان شہری ایسے ہیں جو سابق ادوار کے قومی پرچم اور ترانے کو ہی افغانستان کا حقیقی پرچم اور ترانہ سمجھتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد جب افغان شہریوں نے سرخ، سبز اور کالے رنگ کے پرچم یوم آزادی کے دن لہرائے تو افغان طالبان نے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا تھا اور ملک کے مختلف مقامات پر لہراتے سابق دور کے تین رنگ کے پرچم کو اتار کر سفید رنگ کے اپنے پرچم لہرا دیے تھے۔
محمد نبی کے سامنے جب قومی ترانہ بجا تو وہ نہ صرف اس ترانے کو خود گاتے ہوئے بلکہ سٹیڈیم میں موجود شائقین کے ہاتھوں میں افغانستان کے پرچم کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کے پرانے پرچم کی موجودگی کے بارے میں جب بی بی سی اردو نے انٹریشنل کرکٹ کونسل سے رابطہ کیا تو ان کی جنرل منیجر مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشنز کلیر فرلونگ کا کہنا تھا ʹہم افغانستان کا وہ موجودہ تسلیم شدہ قومی پرچم استعمال کر رہے ہیں جو ہمارے ممبر ( افغانستان کرکٹ بورڈ ) نے ہمیں کنفرم کیا۔ʹ
افغان کرکٹرز کے لیے غیرمعمولی حالات
افغانستان کی کرکٹ ٹیم اپنے ملک میں پیدا ہونے والی غیرمعمولی صورتحال سے گزرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ شاید افغانستان کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ نہ لے پائے۔
طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد خواتین کرکٹ کو جاری نہ رکھنے کے بارے میں بیان سامنے آنے کے بعد آئی سی سی کے رکن ممالک کی طرف سے افغانستان کے خلاف کارروائی کی آوازیں اٹھی تھیں تاہم اس وقت آئی سی سی نے کسی فوری اقدام سے گریز کیا تھا۔
البتہ آسٹریلیا نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ اگر افغانستان میں خواتین کرکٹ پر پابندی لگی تو وہ اس سال افغانستان کی ٹیم کی میزبانی نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ افغانستان کی ٹیم کو نومبر میں ہوبارٹ میں ٹیسٹ میچ کھیلنا ہے۔
افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی اور طالبان حکومت قائم ہونے سے پیدا شدہ صورتحال سے افغان کرکٹر بھی لاتعلق نہ رہ سکے تھے۔
مزید پڑھیے
سپنر راشد خان نے اس سال دس اگست کو اپنے ٹویٹ میں عالمی رہنماؤں سے اپیل کی تھی ʹمیرا ملک اس وقت افراتفری میں ہے۔ ایسے میں افغان لوگوں کو افراتفری میں نہ چھوڑا جائے۔ ہر روز بے گناہ لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مر رہے ہیں اور املاک تباہ ہو رہی ہیں۔ افغان لوگوں کی ہلاکت اور افغانستان کی تباہی بند کی جائے ہم امن چاہتے ہیں۔ʹ
افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان کرکٹ ٹیم کی فتح پوری افغان ملت کی فتح ہے اور ہم ان کی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان میں حکومت کے کسی اہلکار نے ان کھلاڑیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ سرکاری سطح پر ان کی فتح کو سراہا گیا۔
افغانستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں سکاٹ لینڈ کو 130 رنز سے شکست دی تھی اور اب افغانستان کا دوسرا میچ آج پاکستان کے ساتھ ہے۔
سہیل شاہین سے جب پوچھا گیا کہ جنرل مبین نے افغان کرکٹ ٹیم کے بارے میں جو بیان دیا اس پر آپ کیا کہیں گے تو سہیل شاہین نے کہا کہ پہلے تو یہ کہ جنرل مبین نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے اور دوسرا یہ کہ ان کا بیان ذاتی نوعیت کا تھا جو سرکاری سطح پر نہیں دیا گیا تھا اور ان کے اس بیان سے افغان حکومت کا کوئی سروکار نہیں۔
جنرل مبین کون ہیں؟
جنرل مبین کے پاس اس وقت افغان طالبان کی حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے متحرک رکن ہیں اور افغان طالبان کے ایک کمانڈر تھے۔
افغانستان کرکٹ ٹیم کے سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ کے دوران جب افغانستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے پرچم اور ترانے سے محبت کا اظہار کیا تو اس پر جنرل مبین نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واپس اپنے ملک تو آئیں گے۔
افغانستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور افغانستان میں بھی ان سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔ اس موقع پر جنرل مبین کے بیان پر عام شہریوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
اس بارے میں جنرل مبین نے ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ انھیں اپنے بیان پر افسوس ہے اور انھیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس طرح کی باتین اپنے ایک دوست کے ساتھ ایسے ہی کر رہے تھے جسے دوست نے اپنے مفاد کے لیے سوشل میڈیا پر ڈال دیا تھا۔