محمد علی نے جب ’رمبل اِن دی جنگل‘ میں جارج فورمین کو ناک آؤٹ کیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ گذشتہ برس اکتوبر میں شائع کی گئی تھی، جسے آج قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

28 اپریل 1967 کی صبح ہیوسٹن کے امریکی آرمڈ فورسز کے امتحانی مرکز کے باہر خاصی گہما گہمی تھی۔ بڑی تعداد میں مظاہرین جن میں اکثریت طلبہ کی تھی، نعرے لگا رہے تھے کہ ’مت جاؤ مت جاؤ۔ یہ قدم مت اٹھاؤ۔۔۔‘

یہ مظاہرین عالمی ہیوی ویٹ باکسر محمد علی کی وہاں آمد کے موقع پر جمع ہوئے تھے جنھیں امریکی فوج میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

محمد علی نے مظاہرین کے ایک رہنما کی طرف دیکھا اور اندر چلے گئے۔ شہری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی کارکن اور شاعرہ سونیا سانچیز کا کہنا ہے کہ ’اس وقت جو جذباتی کیفیت تھی اسے بیان کرنا مشکل ہے۔

’یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں نوجوان سیاہ فام نوجوان مارے جا رہے تھے اور یہاں یہ خوبصورت نوجوان کھڑے ہو کر کہہ رہا تھا ʹنہیں۔ ایک لمحے کے لیے تصور کریں۔ عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن اور جادوئی شخص رِنگ سے باہر اپنی جنگ لڑ رہا تھا اور ثابت قدم کھڑا تھا۔ اس کا پیغام سب تک پہنچ چکا تھا۔‘

اس مرکز میں چھبیس نوجوانوں کو طلب کر کے ان سے ضروری کاغذات بھروائے جانے تھے، پھر ان کا طبی معائنہ ہونا تھا جس کے بعد بس کے ذریعے انھیں لوزیانا لے جایا جانا تھا۔ یہ تمام نوجوان لیفٹیننٹ سٹیون ڈنکلی کے سامنے کھڑے تھے۔

ایک کے بعد ایک کا نام پکارا جارہا تھا اور بالآخر محمد علی کا نام پکارا گیا۔۔۔ کیسئس کلے۔

محمد علی اپنی جگہ کھڑے رہے۔ اب کی بار علی نام پکارا گیا لیکن محمد علی پھر اپنی جگہ کھڑے رہے۔ ایک افسر انھیں دوسرے کمرے میں لے گیا اور انھیں بتایا کہ انکار کی صورت میں انھیں پانچ سال کی سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔

محمد علی کو ایک اور موقع دیا گیا لیکن اس بار بھی وہ اپنا نام پکارا جانے پر ساکت کھڑے رہے۔

’ویتنام والوں کے لیے ظالم نہیں بنوں گا‘

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب محمد علی نے روم اولمپکس کے لائٹ ہیوی ویٹ مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا اور اس کے بعد وہ پروفیشنل باکسنگ میں آ گئے۔

سنہ 1964 میں انھوں نے مسلمان ہونے کا بھی اعلان کر دیا تھا اور اپنا نام کیسئس کلے کے بجائے محمد علی رکھ لیا تھا۔

اسی دوران انھیں آرمی میں طلب کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ وہ اپنے پہلے امتحان میں ناکام ہو گئے تھے لیکن پھر انھیں بار بار طلب کیا جا رہا تھا اور اب معاملہ ویتنام کی جنگ کا تھا۔

محمد علی اپنا ذہن بنا چکے تھے کہ وہ ویتنام والوں کے لیے ظالم نہیں بنیں گے، اس جنگ کا حصہ بننے کو وہ اسلام کی تعلیمات کے منافی سمجھتے تھے۔

محمد علی نے سپورٹس السٹریٹڈ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ لوگ مجھے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں یونیفارم پہنوں اور اپنے گھر سے دس ہزار میل دور جا کر ویتنام کے غیر سفید فاموں پر بم اور گولیاں برساؤں جبکہ میرے اپنے علاقے لوئی یول کے سیاہ فاموں کے ساتھ جنھیں یہ لوگ نیگرو کہتے ہیں، جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ میرے پاس دو ہی راستے ہیں کہ میں اللہ کے قانون کو مانوں یا پھر ملک کے قانون کو۔‘

دنیا ہی بدل گئی

محمد علی کو ویتنام نہ جانے کے فیصلے کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑی۔ ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا، ان کا باکسنگ لائسنس معطل کیا گیا اور انھیں اپنے عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل سے بھی محروم ہونا پڑا۔ یہی نہیں بلکہ انھیں پانچ سال قید اور دس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی گی۔

یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں محمد علی کو اپنے ہی ملک میں غدار کہا جا رہا تھا۔ ان کے اپنے علاقے لوئی ویل کینٹکی کی انتظامیہ نے بھی ان کے ویتنام نہ جانے کے فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا لیکن دوسری طرف ان کے مؤقف کی حمایت کرنے والی آوازیں بھی موجود تھیں جن میں ایک نام برطانوی فلسفی برٹرنڈ رسل کا بھی تھا۔

محمد علی کے لیے حالات اس قدر خراب تھے کہ ان کے اپنے وکلا بھی انھیں امید نہیں دلا رہے تھے اور یہی کہہ رہے تھے کہ ان کا باکسنگ کریئر ختم اور اگلی منزل جیل ہے۔ چونکہ محمد علی نے اپیل دائر کر رکھی تھی لہذا وہ جیل جانے سے تو بچ گئے لیکن ان پر زمین تنگ کر دی گئی۔

محمد علی کو بچانے کے لیے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ انھیں آرمی کی ریزرو فورس میں شامل کرا دیا جائے جہاں وہ آرمی والوں کے ساتھ نمائشی مقابلے لڑ سکیں گے لیکن محمد علی نے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس تجویز کو ماننے سے بھی انکار کر دیا۔

20 جون 1967 کو ایک جیوری نے صرف اکیس منٹ کی سماعت میں محمد علی کو قومی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا۔

چار سال بعد سپریم کورٹ نے ان کی اپیل پر ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس تمام عرصے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے حق میں مسلسل آوازیں اٹھاتی رہیں۔ محمد علی خود بھی مختلف کالجوں میں جاتے رہے۔ ہاروڈ یونیورسٹی میں انھوں نے چار ہزار افراد کے سامنے تقریر کی جس کا عنوان تھا ’بلیک از بیسٹ‘ یعنی ’کالا بہترین ہے۔‘

محمد علی کے باکسنگ گلووز کی آٹھ لاکھ چھتیس ہزار امریکی ڈالر میں نیلامی

29 اکتوبر 1960 کو محمد علی نے اپنی پہلی پروفیشنل فائٹ میں ٹونی ہنسیکر کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔

25 فروری 1964 کو انھوں نے سونی لسٹن کو ناک آؤٹ کر کے پہلی مرتبہ عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 22 برس تھی۔

اس فائٹ میں محمد علی نے جو باکسنگ گلووز پہنے تھے وہ سنہ 2014 میں ہونے والی نیلامی میں آٹھ لاکھ چھتیس ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوئے تھے۔

25 مئی 1965 میں دونوں باکسرز دوبارہ رِنگ میں اترے اور اس بار بھی محمد علی نے سونی لسٹن کو ہرا کر اپنے عالمی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

26 اکتوبر 1970 کو محمد علی کے تین سال رنگ سے دور رہنے کے بعد واپسی ہوئی اور انھوں نے تیسرے ہی راؤنڈ میں جیری کیوری کو ناک آؤٹ کر دیا۔

’فائٹ آف دی سنچری‘

8 مارچ 1971 کو محمد علی کا مقابلہ جو فریزئر سے تھا جس میں انھیں اپنے کریئر کی پہلی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس فائٹ کو دنیا کے چھتیس ممالک میں دکھایا گیا اور سات سو سے زائد میڈیا والے اس فائٹ کو کور کرنے کے لیے موجود تھے۔اس مقابلے کو ’فائٹ آف دی سنچری‘ کا نام دیا گیا۔

اس فائٹ کے بعد محمد علی کو دوسری شکست کین نارٹن کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی فائٹ ہے جس میں ان کا جبڑا بھی ٹوٹا تھا لیکن اگلی فائٹ میں وہ کین نارٹن کو ہرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اب انھیں جو فریزئر سے مقابلہ کرنا تھا۔ جو فریزئر تازہ تازہ جارج فورمین کے ہاتھوں اپنے ہیوی ویٹ ٹائٹل سے محروم ہوئے تھے۔

28 جنوری 1974 کو نیویارک میں ہونے والے مقابلے میں محمد علی نے جو فریزئر کو شکست دے دی۔ اس طرح عالمی ٹائٹل کے لیے اب ان کا سامنا جارج فورمین سے ہونا تھا۔

’رمبل اِن دی جنگل‘

30 اکتوبر 1974 کو محمد علی اور جارج فورمین کے درمیان زائر (موجودہ کانگو) کے شہر کنشاسا میں ہونے والی فائٹ کو بیسویں صدی کے چند بڑے سپورٹس ایونٹس اور ہیوی ویٹ باکسنگ کی تاریخ کی سب سے بڑی فائٹ سمجھا جاتا ہے۔

جارج فورمین کا شمار ’فولادی مکوں والے باکسر‘ کے طور پر ہوتا تھا جنھوں نے کین نارٹن اور جو فریزئر جیسے طاقتور باکسرز کو دوسرے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا تھا۔

اسی لیے ماہرین محمد علی کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے جو 32 سال کے ہو چکے تھے اور ان کی رفتار اور ریفلکسز میں پہلے جیسی بات نہیں رہی تھی لیکن اگر کسی چیز میں فرق نہیں آیا تھا تو وہ ان کی شعلہ بیانی تھی۔

محمد علی نے ڈیوڈ فراسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں جارج فورمین پر زبردست زبانی وار کیے جس کے لیے وہ مشہور تھے اور جب وہ رنگ میں داخل ہوئے تو اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ تماشائیوں میں بہت مقبول ہیں جو فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے کہ ʹعلی اسے مار ڈالو۔۔۔‘

محمد علی نے اپنے روایتی انداز میں یہ مقابلہ کرتے ہوئے جارج فورمین کو پہلے خوب تھکایا اور پھر آٹھویں راؤنڈ میں جارج فورمین محمد علی کے مکے کھاتے ہوئے لڑکھڑاتے ہوئے رنگ میں گر پڑے۔ دنیا کو یقیناً اسی منظر کا بے تابی سے انتظار تھا۔

جارج فورمین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’میں سمجھ رہا تھا کہ محمد علی بھی میرا ایک اور ناک آؤٹ شکار ثابت ہوں گے لیکن میرے ایک طاقتور مکے کو روکتے ہوئے انھوں نے میرے کان میں آہستگی سے کہا تھا کہ ’جارج تمہارے پاس بس اتنا ہی تھا۔۔۔‘ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں جو سوچ رہا تھا یہ ایسا نہیں۔‘

یہ ٹی وی پر اپنے وقت کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی باکسنگ فائٹ تھی۔

اس فائٹ پر سنہ 1996 میں ایک دستاویزی فلم ʹوین وی ور دی کنگز‘ بھی بنی تھی جس نے اکیڈمی ایوارڈ جیتا تھا۔ جب یہ ایوارڈ دیا جا رہا تھا تو محمد علی اس موقع پر موجود تھے اور حاضرین نے کھڑے ہو کر انھیں خراج تحسین پیش کیا تھا۔

’دشمنی دوستی میں بدل گئی‘

ایک وقت تھا جب محمد علی اور جارج فورمین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے لیکن پھر ان میں ایسی دوستی ہوئی کہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے تھے۔

جارج فورمین نے سنہ 2012 میں محمد علی کی سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ʹمحمد علی کو جو چیز دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں۔‘

’فریزئر کو کھلونا پستول سے ڈرانا‘

محمد علی اور جو فریزئر کے درمیان تعلقات ہمیشہ ناخوشگوار رہے۔ دونوں کے درمیان زبانی جنگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہی۔

اگرچہ محمد علی نے ایک اخباری انٹرویو میں فریزئر کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر معافی مانگ لی تھی لیکن فریزئر کا اصرار تھا کہ وہ براہ راست ان سے معافی مانگیں۔

ان دونوں کی دوسری فائٹ سے قبل ایک ٹی وی پروگرام کے دوران دونوں کے درمیان طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر یہ گتھم گتھا ہو گئے اور بڑی مشکل سے انھیں الگ کیا گیا۔

ایک فائٹ سے قبل محمد علی نے رات کو فریزئر کے ہوٹل کے کمرے کے باہر آوازیں لگا کر انھیں نیند سے اٹھا دیا تھا اور جب فریزئر باہر آئے تو محمد علی نے انھیں کھلونا پستول سے ڈراتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں تمہیں شوٹ کردوں گا۔‘

فریزئر نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پستول اصلی تھی جس کی محمد علی نے تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

محمد علی نے یکم اکتوبر 1975 کو منیلا میں تیسری مرتبہ جو فریزئر سے مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔

15 فروری 1978 کو محمد علی کو اپنے عالمی اعزاز سے محروم ہونا پڑا جب انھیں لیون سپکنس نے شکست دی لیکن اسی سال ستمبر میں وہ یہ اعزاز دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

محمد علی نے جون 1979 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ وہ اکتوبر1980 میں رنگ میں واپس آئے لیکن لیری ہومز نے انھیں ناک آؤٹ کر دیا۔

11 دسمبر 1981 کو ٹریور بربک کے ہاتھوں شکست کے بعد محمد علی نے حتمی طور پر بین الاقوامی باکسنگ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا۔

اپنے بین الاقوامی کریئر میں انھوں نے 61 مقابلے کیے جن میں سے 56 میں انھیں جیت جبکہ پانچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نسلی تفریق کے بارے میں حساس

محمد علی نے جس ماحول میں پرورش پائی اس میں انھوں نے امریکی معاشرے میں نسلی تفریق کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔

بہت کم عمری میں ہی انھوں نے اپنی والدہ سے سوال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ’آپ جب بس میں جاتی ہیں تو کیا لوگ یہ سوچتے ہیں کہ آپ سفید فام ہیں یا دوسرے رنگ کی؟‘

اسی طرح ایک مرتبہ انھوں نے اپنے والد سے بھی یہی بات کہی کہ ’جب میں گھر کا سامان لینے جاتا ہوں تو دکاندار سفید فام ہے، جب میں کسی اور دکان پر جاتا ہوں تو وہ بھی سفید فام ہے۔ بس ڈرائیور بھی سفید فام ہے۔‘

محمد علی کے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا لیکن وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ دس سال کی عمر میں یہ سب کچھ سوچ کر وہ رات کو اپنے بستر پر لیٹے روتے رہتے تھے۔ اس سوچ نے اس وقت ڈرامائی موڑ لیا جب ایک چودہ سال کے لڑکے ایمٹ ِٹل کو دو سفید فام افراد نے ہلاک کر دیا تھا۔

محمد علی کے باکسر بننے میں ان کی سائیکل کی چوری کے واقعے کا بہت ذکر ہوتا ہے لیکن جب ان کے کریئر کے ابتدائی دنوں میں ان سے یہ سوال کیا جاتا کہ وہ باکسر کیوں بنے تو ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاہ فام کے لیے اس ملک میں کچھ بننے کا یہی تیز ترین راستہ تھا۔

فٹبال یا باسکٹ بال کا کھلاڑی بننے کے لیے ضروری تھا کہ آپ کالج میں جائیں اور امتحان پاس کریں اور ڈگریاں حاصل کریں۔ باکسر کے لیے صرف اتنا ہے کہ وہ ِجم میں جائے، ورزش کرے، پروفیشنل باکسر بن جائے، فائٹ جیتے اور اگر وہ بہت اچھا ہے تو پیسہ کمائے۔

شعلہ بیانی سے حریف کو مشتعل کرنا

محمد علی کی ہمیشہ یہ عادت رہی کہ وہ فائٹ سے قبل اپنے حریفوں کو اپنے دلچسپ جوشیلے انداز میں ادا کیے گئے فقروں سے مشتعل کرتے تھے اور یہ سب کچھ فائٹ سے قبل ایک زبردست ماحول پیدا کرتا تھا۔

سونی لسٹن سے فائٹ سے قبل انھوں نے اپنے حریف کو ’بدصورت ریچھ‘ کہا تھا اور یہ بھی کہ وہ انھیں شکست دے کر اس ریچھ کو چڑیا گھر کو عطیہ کر دیں گے۔ جب دونوں باکسرز کا وزن ہو رہا تھا تو اس وقت بھی محمد علی چلا رہے تھے کہ ’آج رات کوئی مرنے والا ہے‘۔

ارنی ٹیرل سے مقابلے کے دوران بھی وہ اپنے حریف پر فقرے کس رہے تھے اور مکے برساتے ہوئے کہتے جارہے تھے ’انکل ٹام میرا کیا نام ہے میرا کیا نام ہے۔۔۔‘

دراصل فائٹ سے پہلے ٹیرل نے محمد علی کوʹ کلے کلےʹ کہہ کر پکارا تھا جس پر وہ غصے میں تھے۔

اولمپک گولڈ میڈل کو دریا میں پھینکنا

روم اولمپکس میں محمد علی کے جیتے ہوئے گولڈ میڈل کے بارے میں مختلف نوعیت کی کہانیاں موجود ہیں۔

محمد علی کی سوانح حیاتʹ دی گریٹسٹʹ میں لکھا ہے کہ انھوں نے یہ گولڈ میڈل دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا کیونکہ سیاہ فام ہونے کی وجہ سے انھیں اپنے ہی علاقے کے ایک ریستوران میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور اس کے فوراً بعد موٹر سائیکل گینگ نے ان سے یہ میڈل چھیننے کی کوشش کی تھی۔

تاہم ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی انھوں نے گولڈ میڈل دریا میں پھینک دیا تھا تو ان کا جواب تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ وہ میڈل انھوں نے کہاں رکھ دیا تھا بلکہ محمد علی نے سوال کرنے والے کو یہ کہہ کر حیران کر دیا تھا کہ انھوں نے اپنی ہی سوانح حیات ʹدی گریٹسٹʹ نہیں پڑھی۔

محمد علی کو اٹلانٹا اولمپکس کے دوران انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر یوآن انتونیو سمارانچ نے خصوصی طور پر دوبارہ تیار کردہ گولڈ میڈل پیش کیا تھا۔

محمد علی کی سوانح حیات ʹدی گریٹسٹʹ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس پر عالی جاہ محمد کی تنظیم ’نیشن آف اسلام‘ کا خاصا کنٹرول تھا اور کئی باتیں اس تنظیم کی مرضی کی شامل کی گئی تھیں جبکہ اسے تحریر کرنے والے رچرڈ ڈرہم کو لکھنے کی محدود آزادی حاصل تھی۔

والدہ کو ناک آؤٹ کر دیا

محمد علی کی والدہ اوڈیسا کہتی تھیں کہ ’چھ ماہ کے محمد علی نے ایک مرتبہ بستر پر لیٹے لیٹے اتنی تیزی سے اپنا بازو ہلانا شروع کیا کہ ایک ُمکا میرے منہ پر لگا اور میرا ایک دانت ہل گیا۔ اس لیے میں ہمیشہ یہ کہتی رہی ہوں کہ محمد علی کا پہلا ناک آؤٹ پنچ میرے منہ پر لگا تھا۔‘

محمد علی کے والد کہتے تھے کہ ان کا بیٹا ہر وقت باتیں کرتا رہتا تھا کبھی خاموش نہیں بیٹھتا تھا۔ صرف آٹھ سال کی عمر میں وہ گھر کے باہر لڑکوں کی محفل سجا کر ایسے بیٹھتے تھے جیسے خطاب کر رہے ہوں۔

گانا ʹبلیک ُسپرمینʹ پہلے کسی اور کے لیے تھا

محمد علی کے باکسنگ کریئر میں ʹبلیک سپر مینʹ گانے نے لازوال مقبولیت حاصل کی۔ یہ گانا برطانوی گلوکار جانی واکِلن کی تخلیق ہے اور اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

سنہ 1972 میں جانی واکلِن نے یہ گانا لکھ کر جس باکسر کے لیے ریکارڈ کرایا وہ ہنگری میں پیدا ہونے والے جو بگنر تھے۔ اس گانے کا ٹائٹل ’ہنگیریئن سپرمینʹ تھا لیکن یہ گانا مقبولیت حاصل نہ کر سکا۔

جو بگنر کو سنہ 1973 میں محمد علی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران جانی واکلن کے ذہن میں اس گانے کو نئے انداز سے تیار کرنے کا خیال آیا۔ ُاس وقت محمد علی ʹرمبل ان دی جنگلʹ مقابلے میں جارج فورمین کو ہرا کر شہرت کی بلندیوں پر تھے۔

جانی واکلن نے اس گانے کی موسیقی مشرقی یورپ سے ویسٹ انڈین سٹائل میں تبدیل کی اور یہ گانا سنہ 1974 کے اواخر میں دوبارہ منظرعام پر آیا۔

محمد علی کی ازدواجی زندگی

محمد علی نے چار شادیاں کیں جن سے ان کے نو بچے، سات لڑکیاں اور دو لڑکے پیدا ہوئے۔ ان کی بیٹی لیلیٰ علی بھی پروفیشنل باکسر رہی ہیں۔ محمد علی ان کے باکسنگ کھیلنے کے سخت مخالف تھے لیکن پھر انھیں اپنی رائے تبدیل کرنا پڑی۔

محمد علی پر لکھی گئی کتاب ’علی اے لائفʹ کے مصنف جوناتھن ایگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ محمد علی رنگ میں عظیم چیمپیئن تھے جو شہری حقوق کی آواز اٹھانے میں پیش پیش تھے لیکن وہ ’نہ اچھے شوہر تھے نہ ہی اچھے والد بلکہ عورتوں کے ساتھ ان کا برتاؤ بھی بہت ُبرا تھا‘۔

محمد علی پارکنسن کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔ حریف باکسرز کے مکوں کی ضرب نے ان کے دماغ کو خاصا متاثر کیا تھا۔

ʹعلی اے لائف ʹکے مصنف جوناتھن ایگ کہتے ہیں کہ ان کے ڈاکٹر فرڈی پیچیکو کا کہنا تھا کہ دماغ کے متاثر ہونے کے آثار سنہ 1971 میں ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے اور ان کی گفتگو کی رفتار میں بتدریج کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔

محمد علی کے یادگار باکسنگ مقابلوں کے بعد جس منظر نے دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا سنہ 1996 کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل روشن کرنا تھا۔

ان کی بیگم لونی کا کہنا تھا کہ ʹیہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے محمد علی نے ہیوی ویٹ کا عالمی اعزاز چوتھی مرتبہ جیت لیا ہو۔‘