ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021: سکاٹ لینڈ کے خلاف اپ سیٹ کے بعد بنگلہ دیش کے لیے فائنل راؤنڈ میں جگہ بنانا کتنا مشکل؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کے کوالیفائنگ مرحلے کا آغاز ایک بڑے اپ سیٹ سے ہوا ہے۔ آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں چھٹے نمبر کی ٹیم بنگلہ دیش کے لیے اب سکاٹ لینڈ سے شکست کے بعد فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنا بظاہر مشکل ہو گیا ہے۔
عمان کے ’العامرات کرکٹ سٹیڈیم‘ میں ہونے والے اس میچ کی پہلی اننگز میں سکاٹ لینڈ نے اگرچہ صرف 53 رنز کے مجموعی سکور پر چھ وکٹیں کھو دی تھیں مگر اس کے باوجود بنگلہ دیش یہ میچ ہار گیا۔
یہ سب سکاٹ لینڈ کے لیے اپنا دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے کرس گریوز کی بدولت ممکن ہوا۔ اس میچ میں انھوں نے سکاٹ لینڈ کی باری کو سنبھالا اور محض 28 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ پھر دوسری اننگز میں انھوں نے اپنی لیگ سپن بولنگ سے شکیب الحسن اور مشفیق الرحیم جیسے بلے بازوں کی قیمتی وکٹیں حاصل کر لیں۔
سکاٹ لینڈ نے بنگلہ دیش کو جیتنے کے لیے 20 اوورز میں 141 رنز کا ہدف دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کو آغاز میں ہی دو وکٹوں کا نقصان ہوا جس کے بعد مشفیق الرحیم اور شکیب الحسن نے 7.4 اوورز میں 47 رنز کی شراکت داری قائم کی۔
رنز اور گیندوں میں بڑھتے فرق کے ساتھ بنگلہ دیش پر دباؤ بھی بڑھنے لگا اور مسلسل وکٹیں گِرنے سے وہ مقررہ اوورز میں اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
سکاٹ لینڈ کے بولر بریڈ ویل نے 24 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
برائے مہربانی انتظار کریں
ایمازون کے سابق ڈیلیوری بوائے جنھوں نے سکاٹ لینڈ کو میچ جتوایا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میچ کے اختتام پر سکاٹ لینڈ کے کپتان کائل کوٹزر نے بتایا کہ ’مجھے گریوز پر بہت فخر ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک وہ ایمازون (ای کامرس کی بڑی کمپنی) کے لیے پارسل کی ڈیلیوری کر رہے تھے۔ اب وہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ہیں۔‘
گریوز سکاٹ لینڈ کی ٹیم میں سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں سے بھی نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ رواں ماہ کے آغاز پر ہی کھیلا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس موقع پر گریوز کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ انھیں سکاٹ لینڈ کی باری سنبھالنے کی ذمہ داری ملی تھی جسے انھوں نے بہترین انداز میں سرانجام دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم مشکل صورتحال سے دوچار تھے۔ ہمیں اننگز کی ازسر نو تعمیر کرنا تھی اور دیکھنا تھا کہ ہم اس کے بعد کہاں تک جا سکیں گے۔ مجھے اب بھی یقین نہیں ہو رہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے اس میں ایک کردار ادا کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس سے قبل کوالیفائنگ راؤنڈ کے پہلے میچ میں عمان نے پاپوا نیو گینی کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ گروپ بی کے اگلے میچوں میں منگل کو سکاٹ لینڈ کا سامنا پاپوا نیو گینی سے ہو گا جبکہ بنگلہ دیش اور عمان مدمقابل ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
سوشل میڈیا پر بھی سکاٹ لینڈ کی بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی پر انھیں داد دی جا رہی ہے۔
پاکستانی کرکٹر ثنا میر نے اس میچ کو بنگلہ دیش کے لیے ’اپ سیٹ‘ قرار دیا جبکہ احمر نجیب نامی صارف کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو ’اس دن کی توقع نہیں ہو گی، لیکن وہ کنڈیشنز کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔‘
صحافی ٹِم ویگمور نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’سکاٹ لینڈ کی ٹیم کافی جارحانہ ہے۔ ان کے پاس چھ بولر ہیں۔۔۔ مجھے توقع ہے کہ وہ کوالیفائی کر لیں گے۔‘

’بڑا نام کبھی بھی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا‘
عبدالرشید شکور، بی بی سی اردو
بنگلہ دیش بمقابلہ سکاٹ لینڈ میں یقیناً بنگلہ دیش کا نام بڑا تھا لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ بی کے کوالیفائنگ میچ میں بنگلہ دیش کو سکاٹ لینڈ کے ہاتھوں چھ رنز کی ڈرامائی شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ گروپ جب ترتیب دیے جا رہے تھے تو گروپ بی میں بنگلہ دیش کا نام دیکھ کر ہر کوئی یہی سمجھ رہا تھا کہ پاپوا نیو گینی، عمان اور سکاٹ لینڈ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بنگلہ دیش کی ٹیم آسانی سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مین راؤنڈ تک رسائی حاصل کر لے گی۔ لیکن پہلے ہی میچ میں شکست نے اسے ایسا دھچکہ پہنچایا ہے جس نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔
کوالیفائنگ مقابلے دو گروپس پر مشتمل ہیں۔ ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں ہیں جن کے درمیان راؤنڈ رابن لیگ کے میچ ہوں گے یعنی تمام چاروں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی اور پھر ہر گروپ سے دو ٹیمیں مین راؤنڈ میں جائیں گی۔
بنگلہ دیش کی پہلے میچ میں شکست کے بعد اسے مین راؤنڈ میں آنے کے لیے عمان اور پاپوا نیو گینی کو شکست دینا لازمی ہے لیکن دوسری جانب عمان اور سکاٹ لینڈ نے جس طرح ٹورنامنٹ کا آغاز کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے لیے آثار اچھے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ چھ ہے اس لحاظ سے وہ اس کوالیفائنگ راؤنڈ میں فیورٹ کی حیثیت سے داخل ہوئی ہے۔ سکاٹ لینڈ جس نے اسے پہلے میچ میں شکست سے دوچار کیا ہے اس کی عالمی رینکنگ 14 ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹیم ساتویں مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہے۔
یہ بات یاد رکھی جانے والی ہے کہ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش نے ویسٹ انڈیز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش نے اپنے ملک میں زمبابوے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہیں۔ لیکن یہ تمام میچ جن وکٹوں پر ہوئے تھے ان پر بڑا سکور نہیں بن سکا تھا اور اس وقت بنگلہ دیش والے اس بات پر خوش تھے کہ ان کے سپن بولرز دھڑا دھڑ کامیابیاں حاصل کر رہے تھے۔
لیکن بیٹنگ اس وقت بھی مسئلہ بنی ہوئی تھی اور اب عمان میں بھی بیٹنگ بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑی تشویش کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس نے جس انداز سے عالمی مقابلے کا آغاز کیا ہے وہ اسے عالمی مقابلے سے باہر کرنے کے خطرے سے دوچار کرچکا ہے۔












