ٹی 20 ورلڈ کپ شیڈول اور پوائنٹس ٹیبل: پاکستان کے میچ کب، کہاں اور کس کے خلاف ہوں گے؟

متحدہ عرب امارات اور عمان میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ساتویں ایڈیشن کے سپر 12 مرحلے میں پاکستان نے اپنے پہلے تمام میچوں میں فتح حاصل کر لی ہے اور اب اس کا مقابلہ جمعرات کے روز آسٹریلیا سے دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ہو گا۔

یہ ورلڈکپ مقابلوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان نے انڈیا کو شکست دی جبکہ نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف پاکستان نے پانچ، پانچ وکٹوں سے، نمیبیا کو باآسانی 45 رنز جبکہ سکاٹ لینڈ کو 72 رنز سے شکست دے چکا ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ آج ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں مدِمقابل ہوں گے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا ساتواں ایڈیشن سنہ 2020 میں منعقد ہونا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کا سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے مقابلہ کب اور کہاں ہو گا، اور اب تک ہونے والے مقابلوں کا مختصر احوال درج ذیل ہے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا (دوسرا سیمی فائنل)

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدِ مقابل ہوں گے۔ آسٹریلیا کی ٹیم گروپ 1 میں سے پانچ میچوں میں سے چار فتوحات حاصل کر کے نیٹ رن ریٹ کے باعث سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

یہ میچ پاکستان کے وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہو گا۔

پاکستان بمقابلہ سکاٹ لینڈ

پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 72 رنز سے شکست دی ہے اور گروپ 2 میں پہلی پوزیشن برقرار رکھی۔ پاکستان اس وقت ٹورنامنٹ میں واحد ٹیم ہے جو ناقابلِ شکست ہے۔

پاکستان نے سکاٹ لینڈ کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 189 رنز بنائے جس میں بابر اعظم اور شعیب ملک کی نصف سنچریاں نمایاں تھیں۔ شعیب ملک نے صرف 18 گیندوں پر چھ چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کر کے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں تیز ترین نصف سنچری بیٹسمین بن گئے۔

دوسری جانب سکاٹ لینڈ کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر صرف 117 رنز ہی بنا سکے۔

پاکستان بمقابلہ نمیبیا

پاکستان نے نمیبیا کو باآسانی 45 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ پکی کر لی ہے۔ پاکستان نے اس میچ میں اپنے بیٹنگ کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا اور ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کی۔

پاکستانی اوپنرز کو آغاز میں مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑا لیکن وقت کے ساتھ جب دونوں کی ٹائمنگ بہتر ہونے لگی، تو پاکستان کا رن ریٹ بھی بہتر ہو گیا۔ ایک وقت میں پاکستان کے 10 اوورز میں صرف 59 رنز تھے، تاہم 20 اوورز کے اختتام پر پاکستان نے 189 رنز بنا لیے تھے۔ اس میں بابر اعظم اور محمد رضوان کی 113 رنز کی شراکت تھی۔

بابر اعظم نے 49 گیندوں پر 70 رنز بنائے جبکہ محمد رضوان نے 50 گیندوں پر 79 رنز بنائے اور پاکستان کو ایک مستحکم ٹوٹل تک پہنچا دیا۔

نمیبیا نے اپنی بیٹنگ کا آغاز تو اچھا کیا اور پاکستانی بولرز کو خوب ٹکر بھی دی، لیکن پھر وقت کے ساتھ یہ ٹوٹل ان کے لیے بہت زیادہ ثابت ہوا۔ نمیبیا کی ٹیم پانچ وکٹوں کے نقصان پر 144 رنز ہی بنا سکی۔

نمیبیا میں بیٹنگ میں ڈیوڈ ویزے نے 31 گیندوں پر 43 رنز بنائے جبکہ کریگ ولیمز نے 40 رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان بمقابلہ افغانستان

پاکستان نے افغانستان کے خلاف ایک دلچسپ مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔ پاکستان نے سپر 12 مقابلوں میں اپنا یہ میچ پانچ وکٹوں سے ایک اوور پہلے ہی جیت لیا لیکن شاید اس میچ کا یہ خلاصہ اس کے ساتھ انصاف نہ کر سکے۔

پہلے دو میچوں میں ٹاس جیتنے کے بعد بابر اعظم افغانستان کے خلاف ٹاس ہار گئے لیکن افغانستان نے بھی شاید وہی فیصلہ کیا جو بابر خود کرنا چاہتے تھے، یعنی پاکستان کو پہلے فیلڈنگ کی دعوت دی۔

پاکستان کے بولرز ایک مرتبہ پھر پاور پلے میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور ایک موقع پر افغانستان کے 70 کے سکور پر چھ کھلاڑی آؤٹ کر دیے۔ افغانستان کے کپتان محمد نبی اور گلبدین نائب نے یہاں ٹیم کو سہارا دیا اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کا ٹوٹ 147 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دونوں نے 35، 35 رنز بنائے جبکہ پاکستان کی جانب سے عماد وسیم نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ باقی تمام بولرز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ٹوٹل پاکستان کے لیے خاصا مشکل ثابت ہونا تھا اس کا اندازہ اکثر تجزیہ کار بہت پہلے لگا چکے تھے۔ تاہم پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز پہلے کی طرح محتاط طریقہ سے کیا۔

افغانستان کو اس دوران آغاز میں ہی رضوان کی وکٹ حاصل ہو گئی، لیکن پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور فخر زمان نے اس موقع پر 63 رنز کی شراکت قائم کر اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کے لوئر آرڈر کو راشد خان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بابر اعظم نے 51 رنز سکور کیے لیکن جب وہ آؤٹ ہوئے تو اس وقت بھی میچ پاکستان کی گرفت سے کچھ باہر تھا۔ ایسے میں آصف علی آئے اور پھر چھا گئے، انھوں نے کریم جنت کے اوور میں چار چھکے مار کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ

شارجہ کے میدان پر گروپ 2 کے تیسرے میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دی۔ ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کرنے والی پاکستانی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور نیوزی لینڈ کو مقررہ 20 اوورز میں صرف 135 رنز بنانے دیے۔

اس بولنگ پرفارمنس میں سب سے بہترین کارکردگی حارث رؤف کی تھی جنھوں نے صرف 22 رنز کے عوض چار اہم وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کو کسی بھی موقع پر تیزی سے رنز نہیں کرنے دیا۔ ادھر پاکستانی سپنرز خصوصاً عماد وسیم کی بولنگ بھی انتہائی نپی تلی رہی، اور انھوں نے چار اوورز میں 24 رنز دے کر ایک کھلاڑی آؤٹ کیا۔

تاہم پاکستان کی جانب سے حسن علی گو کوئی وکٹ نہیں لے پائے لیکن انھوں نے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو رن آؤٹ کیا جو 25 کے مجموعی سکور پر کریز پر موجود تھے اور بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔

تاہم جب پاکستان نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو کپتان بابر اعظم جلد پویلین لوٹ گئے۔ محمد رضوان نے ایک مرتب پھر ایک اینڈ سنبھالا اور 33 رنز کی محتاط اننگز کھیل کر پاکستان کو ایک چھوٹے ٹوٹل کے حصول میں مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔ فخر زمان اور محمد حفیظ نے 11، 11 رنز بنائے اور ایک وقت میں جب رضوان اور عماد وسیم کی وکٹ بھی گر گئی تو پاکستان کو جیت کے لیے 31 گیندوں پر 48 رنز چاہیے تھے۔

یہاں شعیب ملک اور آصف علی کی انتہائی اہم شراکت کی بدولت پاکستان یہ ہدف آٹھ گیندوں قبل ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ آصف علی نے تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 12 گیندوں پر 27 رنز کی میچ بدلنے والی اننگز کھیلی، جبکہ شعیب ملک کے 20 گیندوں پر 26 رنز اس انتہائی نازک موقع پر اہم ثابت ہوئے۔

مزید پڑھیے

پاکستان بمقابلہ انڈیا

پاکستان نے انڈیا کو ورلڈ کپ مقابلوں میں پہلی مرتبہ شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی مہم کا فاتحانہ آغاز کر دیا ہے۔ تاہم پاکستان کا یہ میچ جیتنے کا مارجن اکثر افراد کے لیے حیران کن تھا۔ پاکستان نے انڈیا کو 10 وکٹوں سے شکست دی ہے اور میچ میں کسی بھی موقع پر انڈین ٹیم کا پلڑہ بھاری نہیں ہونے دیا۔

پاکستان کی قسمت ٹاس پر ہی چمک چکی تھی جب بابر اعظم نے ایک انتہائی اہم ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ دبئی میں شام کو اوس پڑتی ہے جس سے بولنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے اور دوسری بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے۔

لیکن پاکستان کو پھر بھی ایک مضبوط انڈین ٹاپ آرڈر سے نبرد آزما ہونا تھا۔ ایسے میں شاہین آفریدی نے بلاشبہ اپنے کریئر کا بہترین سپیل کروا کے پاکستان کو آغاز میں ہی انڈیا پر حاوی کر دیا۔

شاہین نے اپنے پہلے ہی اوور میں روہت شرما کو ایل بی ڈبلیو کیا، اور پھر دوسرے اوور میں ان فارم لوکیش راہول کو بولڈ کر کے میچ میں پاکستان کو برتری دلوا دی۔

انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا لیکن دوسری طرف سے وکٹیں گرتی رہیں، سوریا کمار یادو حسن علی کا شکار ہوئے اور پھر رشبھ پنت اور کوہلی کی 53 رنز کی شراکت نے کچھ دیر پاکستان کو تنگ کیا، لیکن پھر شاداب کی بولنگ پر پنت بھی آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کے بولرز نے کوہلی کو بھی آزادانہ طور پر نہیں کھیلنے دیا اور اننگز کے اختتام پر انڈیا 151 رنز ہی بنا سکی۔

پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے 31 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ حسن علی نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کے لیفٹ آرم سپنر عماد وسیم کے دو اوورز میں 10 رنز اور حارث رؤف کی چار اوورز میں 25 رنز کے عوض ایک وکٹ بھی انتہائی اہم رہی۔

پاکستان نے جب اپنی اننگز کا آغاز کیا تو یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ عام طور پر ہدف کے تعاقب میں اعصابی تناؤ کا شکار ہونے کے لیے مشہور ٹیم کو دوبارہ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہو گا، لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا اور انڈیا کے بولرز بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ شراکت ہی توڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

بابر اعظم نے 52 گیندوں پر دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 68 رنز بنائے جبکہ محمد رضوان نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ یوں پاکستان نے یہ میچ 13 گیندیں پہلے ہی بغیر کسی نقصان کے حاصل کر لیا۔

پاکستان کا سکواڈ

ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے 18 رکنی سکواڈ میں خصوصی کووڈ پروٹوکولز کے تحت تین ریزرو کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر جس سکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا اس میں نیشنل ٹی 20 ٹورنامنٹ کے بعد چار تبدیلیاں کی گئی ہیں اور جہاں سرفراز احمد، شعیب ملک اور حیدر علی پہلی مرتبہ سکواڈ کا حصہ بنے ہیں وہیں فخر زمان کو ریزرو کھلاڑی سے مرکزی سکواڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے چار ایڈیشنز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے دو ایڈیشنز میں فائنل اور اگلے دو میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم سنہ 2014 اور 2016 کے ورلڈ کپ میں پاکستان سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔

پاکستان کے سکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، محمد رضوان (وکٹ کیپر)،فخر زمان، محمد وسیم جونیئر، شعیب ملک، محمد حفیظ، محمد نواز، عماد وسیم، حسن علی، سرفراز احمد، حیدر علی، آصف علی، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، عثمان قادر (ریزرو)، خوشدل شاہ (ریزرو) اور شاہنواز دھانی (ریزرو) شامل ہیں۔