پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز مہمان ٹیم 217 رنز پر آؤٹ، محمد عباس کی دو وکٹیں

پاکستان ویسٹ انڈیز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب دو ٹیسٹ کی سیریز کے پہلے میچ کی ابتدا میں ہی کسی بھی ٹیم کا ٹاپ آرڈر پویلین واپس بھیج دیا جائے تو اس کی جیت کے امکانات کافی کم دکھنے لگتے ہیں۔ مگر یہاں مقابلہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہو رہا ہے اور اس میچ میں کسی بھی انہونی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کی دعوت پر پاکستان نے جمعرات کو پہلی اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 217 رنز بنائے جس کے جواب میں دن کے اختتام تک میزبان ٹیم نے محض دو رنز پر دو کھلاڑی گنوا دیے۔ پہلے روز ویسٹ انڈیز نے بس چار اوورز کھیلے جن میں پاکستان نے ان پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے میچ میں واپسی کی کوشش کی۔

پاکستان کو فی الحال ویسٹ انڈیز پر 215 رنز کی سبقت حاصل ہے جس کی ایک وجہ فواد عالم اور فہیم اشرف کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 85 رنز کی شراکت ہے۔

ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان: پہلے ٹیسٹ کا پہلا روز

ٹاس جیت کر کپتان کریگ بریتھویٹ نے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جسے ان کے بولرز نے درست ثابت کیا۔

کیمار روچ اور جیڈن سیلز نے اپنی ماہرانہ تیز سوئنگ بولنگ سے پہلے اوپنرز عمران بٹ اور عابد علی کی وکٹیں حاصل کیں جو مجموعی طور پر صرف 21 رنز بنا سکے۔

اور اس کے بعد انھوں نے اظہر علی اور کپتان بابر اعظم کو آؤٹ کر کے بڑے سکور کے امکان کو کم کر دیا۔ بابر نے کچھ اچھی شاٹس ضرور کھیلیں مگر وہ 30 رنز پر روچ کا شکار بنے۔

وکٹ کیپر محمد رضوان، جنھوں نے رواں سال پاکستانی بیٹنگ کو کافی سہارہ دیا، بھی زیادہ دیر کریز پر نہ رُک سکے۔ انھوں نے 30 گیندوں پر 23 رنز بنائے، پانچ چوکے بھی لگائے۔ مگر جیسن ہولڈر کی گیند پر سکوائر لیگ کو آسان کیچ دے بیٹھے۔

پاکستان ویسٹ انڈیز

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنفہیم اشرف (دائیں) اور فواد عالم (بائیں) نے پاکستانی بیٹنگ کو سہارا دیا

101 رنز پر آدھی ٹیم واپس جا چکی تھی مگر کریز پر فواد عالم کے ساتھ فہیم اشرف بیٹنگ کو آئے۔ دونوں نے پہلے مزاحمت دکھائی مگر پھر سکورننگ ریٹ کو بڑھایا۔

85 رنز کی اہم شراکت اس وقت ختم ہوئی جب ایک غلط رن لیتے ہوئے فہیم اشرف 44 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے۔ جسین ہولڈر نے فواد عالم کو ان کی نصف سنچری کے بعد 56 کے سکور پر بولڈ کیا۔ جبکہ پاکستان کی ٹیل زیادہ رنز نہ جوڑ سکی۔

یہ بھی پڑھیے

ویسٹ انڈیز

،تصویر کا ذریعہWest Indies Cricket

،تصویر کا کیپشنسیلز (بائی) نے اظہر علی سمیت تین وکٹیں حاصل کیں

سیلز اور ہولڈر کی تین، تین وکٹوں کے بعد اپنے 217 رنز کے سکور کے دفاع میں دن کے اختتام تک پاکستانی بولرز کو صرف چار اوورز کا کھیل ملا۔ کپتان بابر اعظم نے گیند محمد عباس کے ہاتھ میں تھمائی جنھوں نے لگاتار دو گیندوں پر ویسٹ انڈیز کے دو بلے بازوں کائرن پوول اور کروما بونر کی وکٹیں حاصل کیں۔

اس طرح ان دو وکٹوں سے پاکستان کے لیے کھیل کے ایک مشکل دن میں بھی میچ جیتنے کی امید تازہ ہو گئی۔

’عمران بٹ اس طرح کے کیچ پکڑنے کے لیے ٹیم میں ہیں‘

پاکستانی وقت کے مطابق اس میچ کا آغاز رات آٹھ بجے جبکہ دن کا اختتام رات گئے ہوتا ہے۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسے بخوبی دیکھا ہے۔ نہیں تو اگلے دن وہ اس کی جھلکیاں دیکھتے رہیں گے۔

کئی صارفین پاکستانی اوپنرز سے ناخوش ہیں اور ان کی طرف سے رنز نہ بنائے جانے پر ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔

مگر صحافی مظہر عباس کی رائے میں ’پاکستان تو اوپنرز کے ساتھ کھیلتے ہی نہیں۔ چاہے ٹیسٹ ہو، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی۔‘

پاکستان ویسٹ انڈیز

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ٹاپ آرڈر کی وکٹیں گِرنے پر سویرا پاشا نے کہا کہ ’پاکستان نے اب تک کافی مایوس کن کرکٹ کھیلی ہے۔ جیڈن اور روچ نے پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔‘

اس دوران فواد عالم کے فینز کے لیے یہ ایک مزید موقع تھا کہ وہ سب کو یاد دلا سکیں کہ ان کے ساتھ بورڈ نے ’اچھا نہیں کیا۔‘

تاہم صحافی فیضان لاکھانی لکھتے ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا جب ٹیسٹ کرکٹ میں فواد عالم اپنی نصف سنچری کو سنچری میں تبدیل نہیں کر سکے۔

پاکستان ویسٹ انڈیز

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سعد ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی تعریف کی کہ انھوں نے ’فارمیٹ دیکھتے ہوئے فہیم اشرف کو کھلایا‘ جہاں ان کا ریکارڈ بہتر ہے۔

بہت سے صارفین دیر رات تک میچ کے فالو کر رہے تھے مگر ان کی آنکھ لگ گئی۔ جب وہ صبح اٹھے تو حالات بدل چکے تھے۔

خان ان لوگوں میں سے ہیں جو کہتے ہیں کہ ’صبح اُٹھ کر دیکھا کہ پاکستان نے دن کا اختتام کافی اچھا کیا ہے۔۔۔ دوسرے روز ویسٹ انڈیز کو کم رنز پر آؤٹ کرنا اہم ہے۔‘

زینب رضوی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

عباس کی دو وکٹوں نے پاکستانی فینز کو کافی متاثر کیا۔ زینب رضوی کہتی ہیں کہ ’میں اس قدر اونچی آواز میں چیخی کہ پڑوسیوں نے بھی سُن لیا ہوگا۔ میرے بچے ڈر گئے ہیں۔‘

اوپنر عمران بٹ بیٹنگ میں صرف 11 رنز بنا سکے تھے مگر عباس کی گیند پر ان کے ایک کیچ نے شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔ زینب نے لکھا ہے کہ ’عمران بٹ کو اس طرح کے کیچز کے لیے ٹیم میں رکھا تھا۔‘

عمران بٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

بعض صارفین کے خیال میں وہ اس ٹیم میں ’صرف سلپ فیلڈر کے طور پر‘ بھی کھیل سکتے ہیں۔