آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملکھا سنگھ: ’فلائنگ سکھ‘ کے نام سے مشہور انڈین ایتھلیٹ کی کورونا وائرس کے سبب 91 سال کی عمر میں وفات
انڈیا کے نمایاں ترین ایتھلیٹوں میں سے ایک ملکھا سنگھ کی کووڈ 19 سے وابستہ پیچیدگیوں کے سبب 91 سال کی عمر میں موت ہو گئی ہے۔
'فلائنگ سکھ' یا 'اڑن سکھ' کے نام سے مشہور ملکھا سنگھ نے ایشین گيمز میں چار طلائی تمغے جیتے تھے اور سنہ 1960 کے روم اولمپکس میں 400 میٹر کے فائنل میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔
سنہ 2013 میں ان کی زندگی پر مبنی بالی وڈ کی فلم 'بھاگ ملکھا بھاگ' ریلیز کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سنگھ کی اہلیہ نرمل کور جو کہ انڈین والی بال ٹیم کی سابق کپتان تھیں وہ بھی اسی ہفتے 85 سال کی عمر میں کووڈ کی وجہ سے ہلاک ہو گئیں۔
ملکھا سنگھ کو گذشتہ ماہ کووڈ 19 کا انفیکشن ہوا تھا اور جمعہ کی شام انڈیا کے شمالی شہر چنڈی گڑھ کے ایک ہسپتال میں انھوں نے آخری سانسیں لیں۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایتھلیٹ کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور انھیں آزاد ہندوستان کا پہلا سپورٹنگ سپر سٹار قرار دیا ہے۔
مشاہیر نے کیا یاد
اداکارہ فرحان اختر نے ملکھا سنگھ کی زندگی پر مبنی فلم 'بھاگ ملکھا بھاگ' میں ملکھا سنگھ کا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے ملکھا سنگھ کی موت پر ایک جذباتی پوسٹ لکھی ہے:
'محترم ملکھا جی، مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ آپ نہیں رہے۔ شاید آپ کی ضد میرے اندر ضم ہوگئی ہے۔۔۔ یہ ایسی بات ہے کہ ایک بار جب یہ دل و ماغ میں بیٹھ جائے تو آپ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔ سچ یہ ہے کہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ کیونکہ آپ ایک بڑے دل، محبت کرنے والے، پُرجوش اور عاجزی و انکساری رکھنے شخص سے بھی کہیں بڑھ کر تھے۔ آپ نے ایک خواب کی ترجمانی کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ مزید لکھتے ہیں 'آپ نے دکھایا کہ سخت محنت، ایمانداری، دیانت اور عزم کے ساتھ انسان آسمان کو چھو سکتا ہے۔ ہم سب کی زندگیوں پر آپ کا اثر رونما ہوا ہے۔‘
فرحان نے لکھا ’جو آپ کو ایک والد اور دوست کے روپ میں جانتے تھے یہ ان لوگوں کے لیے اعزاز کی بات تھی۔ جو آپ کو نہیں جانتے تھے ان کے لیے آپ ایک ایسے شخص کی مانند تھے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی اور جو کامیابی کے بعد بھی عاجزی و انکساری کی یاد دلاتا تھا۔ میں آپ کو دل سے چاہتا ہوں۔'
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا: 'ملکھا سنگھ نہ صرف سپورٹس سٹار تھے بلکہ اپنی لگن اور ہمت کی وجہ سے لاکھوں انڈینز کے لیے ایک مثال تھے۔ ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے میری تعزیت۔'
انڈیا کے مشہور سابق کرکٹر سچن تنڈولکر نے بھی ٹویٹر پر ملکھا سنگھ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سچن نے اپنے ٹویٹ میں لکھا: 'آپ کی موت نے ہر انڈین کے دل میں ایک خلا چھوڑ دیا ہے لیکن آپ آنے والی کئی نسلوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔'
دوڑ کے شعبے میں ملکھا سنگھ کے کارنامے افسانوی شہرت کے حامل ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی ایتھلیٹک چیمپینشپ میں پانچ طلائی تمغے جیتے اور سنہ 1959 میں انھوں نے 80 بین الاقوامی ریسز میں سے 77 میں کامیابی حاصل کی۔
انھوں نے سنہ 1958 میں انڈیا کے لیے دولت مشترکہ کے کھیلوں میں پہلا طلائی تمغہ بھی حاصل کیا تھا۔
برصغیر کی تقسیم سے قبل سنگھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں بڑے ہوئے۔ ان کے بچپن میں ہندوستان پر برطانوی راج تھا۔
ملتان کے ایک دور دراز گاؤں میں رہنے والے نو عمر ملکھا سنگھ نے سنہ 1947 میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے دوران اپنے والدین اور سات بہن بھائیوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
جب ان کے والد مرنے لگے تو انھوں نے ملکھا سے جو آخری الفاظ کہے تھے وہ تھا 'بھاگ ملھا بھاگ' اور انھوں نے زندگی کی خاطر جان کی بازی لگا دی اور بھاگ نکلے۔
اس نو عمر نے پہلے اپنی جان بچانے کی خاطر دوڑنا شروع کیا اور پھر بعد میں تمغے جیتنے کے لیے دوڑتے رہے۔
سنہ 1947 میں یتیم کی حیثیت سے انڈیا پہنچنے کے بعد زندگی کی بقا کی خاطر انھوں نے چھوٹے موٹے جرائم تک کیے یہاں تک کہ انھیں انڈین فوج میں جگہ مل گئی، اور وہیں انھوں نے اپنی اتھلیٹک صلاحیتوں کو دریافت کیا۔
سنگھ نے سنہ 1958 میں کارڈف میں منعقد کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور روم اولمپکس میں 400 میٹر میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ لمحے کے ایک حصے کی کمی کے سبب کانسے کے تمغے سے محروم رہ گئے تھے۔
سنہ 1960 میں لاہور پاکستان میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ایتھلیٹک مقابلے میں انھیں 200 میٹر ریس کے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا۔ سنہ 1947 میں فرار ہونے کے بعد سے وہ پاکستان واپس نہیں آئے تھے اور ابتدائی طور پر وہاں جانے سے انکار کردیا تھا۔
لیکن بالآخر وہ پاکستان گئے جہاں ان کے سخت حریف پاکستان کے عبدالخالق بھی سٹیڈیم میں مقابلے کے لیے موجود تھے۔ ملکھا نے اس ریس میں کامیابی حاصل کی جبکہ عبدالخالق کو کانسے کے تمغے پر صبر کرنا پڑا۔
'پاکستان کا شکریہ جس نے یہ خطاب دیا'
پاکستان کے دوسرے صدر جنرل ایوب خان نے مقابلے میں کامیاب لوگوں کو میڈلز سے نوازا تھا۔ انھوں نے ملکھا کو اس دن جو نام دیا وہ ان کی زندگی کے ساتھ وابستہ رہا اور لوگ انھیں اسی نام سے آج بھی یاد کرتے ہیں۔
ملکھا سنگھ نے بعد میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ فلائنگ سکھ کا خطاب انھیں پاکستان نے دیا تھا اور وہ اس کے شکر گزار ہیں۔
سنہ 2012 میں انھوں نے بتایا کہ میڈل دیتے وقت ایوب خان نے پنجابی زبان میں کہا 'ملکھا سنگھ، توسی پاکستان د وچ آکے دوڑے نئی، توسی اڑے ہو۔۔ آج پاکستان تینو فلائننگ سنگھ دا خطاب دیندیا اے۔'
ملکھا سنگھ نے سنہ 2012 میں دلی کے گالف کلب میں خواتین کی ایک گالف ٹورنامنٹ کے دوران یہ بات بتائی اور وہ جذباتی ہوکر کہنے لگے کہ اس اعزاز کے لیے 'میں پاکستان کا شکرگزار ہوں'۔
یہ بھی پڑھیے
اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پاکستان سے آنے والی گالفر سے معافی مانگتے ہوئے ملکھا سنگھ نے کہا 'میں نے 1960 میں لاہور میں ہونے والی ایک دوڑ میں حصہ لینے کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا کیونکہ میں اس وقت تک تقسیم کی دردناک یادوں کو بھلا نہیں پایا تھا۔'
تقسیم کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں 'میں نے اس وقت لاشوں سے بھری ٹرینوں کو جو دیکھا تھا وہ میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو پا رہی تھی۔'
انھوں نے بتایا کہ ان کے پاکستان نہ جانے کی خبر اگلے دن کےاخباروں کی سرخیاں بنیں 'ملکھا سنگھ پاکستان دوڑنے نہیں جائیں گے۔'
جب یہ خبر اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ملی تو انھوں نے ملکھا سنگھ کو بلوايا اور ساری باتیں جاننے کے بعد انھیں سمجھایا کہ ساری پرانی باتیں بھول کر لاہور جاؤ، آج سے تمہارے ماں - باپ انڈیا اور پاکستان ہیں۔
اس کے بعد ملکھا سنگھ واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے۔ انھیں کھلی جیپ میں لاہور لے جایا گیا۔ پندرہ کلو میٹر تک سڑک کے دونوں طرف کھڑی بھیڑ کے ہاتھوں میں اس وقت انڈیا اور پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔
ملکھا سنگھ جب پاکستان پہنچے تو اگلے دن کے اخبارات کی سرخیاں تھیں- 'انڈیا اور پاکستان کی ٹکر'
ملکھا سنگھ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا مجھے 'فلائنگ سنگھ' کہتی ہے لیکن یہ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ خطاب مجھے پاکستان نے دیا۔
اگرچہ انھوں نے کبھی بھی اولمپک تمغہ نہیں جیتا لیکن ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ 'انڈیا کے لیے کسی اور کو یہ میڈل جیتنا چاہیے۔'
سنگھ نے ایک بار بی بی سی کو بتایا کہ وہ روزانہ چھ گھنٹے دوڑ تھے۔
'میں اس وقت تک رکتا جب تک کہ میں نے اپنے پسینے سے ایک بالٹی نہ بھر دیتا۔ میں خود پر اتنا زور دیتا کہ آخر کو بے ہوش ہو کر گر پڑتا اور ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا جہاں میں خدا سے دعا کرتا کہ آئندہ محتاط رہوں گا لیکن پھر ٹھیک ہونے کے بعد وہی کام کرتا۔'
جب ان کی زندگی پر مبنی فلم 2013 میں ریلیز ہوئی تو ملکھا سنگھ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ 'اگلی نسل کو متاثر کرے گی۔'
انھوں نے کہا: 'ہمارے دور میں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ایتھلیٹوں اور دوسرے کھیلوں کے کھلاڑیوں نے زیادہ پیسہ نہیں کمایا۔ ہم نے تعریف اور نام کمانے کے لیے کام کیا، لوگوں کی تعریف نے ہماری حوصلہ افزائی کی، ہم ملک کے لیے دوڑتے رہے۔'