کرکٹ میں کرپشن: مسٹر ایکس، بٹ کوائن میں ادائیگیاں اور مفرور ہوتے مشتبہ افراد

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سٹیفن شیملٹ
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹس

گذشتہ ماہ جب زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ سٹریک پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آٹھ سال کی پابندی لگائی تو اس کے بعد آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے لیے ایک نیا چیلنج سامنے آیا۔ وہ تھا بکیز کا میچ فکس کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بٹ کوائن کے ذریعے پیسوں کی ادائیگی کرنا۔

ہیتھ سٹریک کو بطور کوچ حساس نوعیت کی معلومات بکیز کو فراہم کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

سٹریک نے آئی سی سی اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی اپنے کوچنگ کریئر کے کئی مرحلوں پر کی۔ انھوں نے زمبابوے، بنگلہ دیش، افغانستان پریمیئر لیگ، اور انڈین پریمیئر لیگ میں کوچ کے عہدے پر رہتے ہوئے بکیز کو حساس معلومات فراہم کیں۔

ایلکس مارشل آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ ہیں۔ اس وقت ان کی زیر نگرانی ایسے چالیس کیسز ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں اور آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ صرف اس سال اب تک چھ لوگوں کو سزا دے چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جو ممالک کرکٹ کا مرکز ہیں ان میں سے کئی میں جوا غیر قانونی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ چیز بہت مقبول بھی ہے۔‘

مارشل، جو کہ 37 برس تک ہیمپشائر پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اس چیز کی ایک بہت بڑی اور بے ضابطہ مارکیٹ موجود ہے۔

کرکٹ میں کرپشن کے حوالے سے مزید پڑھیے

ICC anti-corruption unit general manager Alex Marshall

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایلکس مارشل

’جن جگہوں پر یہ چیز باضابطہ طور پر کی جاتی ہے وہاں پر آپ ایک ایلگورتھم کا استعمال کرتے ہیں اور آپ کو پتہ لگ جاتا ہے کہ جوا لگانے (بیٹنگ) کے طریقہ کار میں کسی قسم کی اونچ نیچ ہوئی ہے یا نہیں۔ لیکن بے ضابطہ مارکیٹوں میں آپ کو ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہوتی تو اس میں آپ خرابی کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے۔ اسی لیے اس طرح کے کیسز میں آپ معلومات اور انٹیلیجنس پر کام کرتے ہیں جو کہ عموماً وہی لوگ آپ کو دیتے ہیں جو کہ کرکٹ سے منسلک ہوں یا پھر خود بکیز ہوں۔‘

آئی سی سی جب میچ فکسنگ کے فیصلے سناتی ہے تو اس میں یہ بھی درج ہے ہوتا ہے کہ ’فکس‘ اصل میں کیا کیسے کیا گیا تھا۔

کئی بار یہ بہت معمولی انداز میں کیا جاتا ہے جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے کھلاڑیوں محمد نوید اور شائمان انور کے کیس میں ہوا تھا جو کہ سمندر کنارے کافی پیتے ہوئے اپنے پلان کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔

زیادہ تر فکسر کسی بھی کرکٹر کو ہوٹل کی لابی میں جا کر میچ فکسنگ کے بدلے رقم کی پیش کش نہیں کرتے بلکہ یہ ایک انتہائی جامع طریقہ کار ہوتا ہے۔ 59 سالہ مارشل کہتے ہیں کہ اس میں کئی ماہ کی پلاننگ شامل ہوتی ہے۔

'ہم نے ایسے کیسز دیکھے ہیں جس میں فرنچائز کے مالکان جان بوجھ کر چھوٹے لیول کے ٹورنامنٹ میں شرکت کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ بھاری رقوم کی ادائیگی بھی کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ٹیم کو لمبے عرصے تک کرپٹ رکھنا اور بکیز اور اندر کی خبریں دینا ہوتا ہے۔‘

مارشل بتاتے ہیں کہ جب ایک ڈرافٹ شروع ہونے والا ہوتا ہے تو اس میں بہت سے کھلاڑیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ فرینچائز مالکان کے لیے ایسا کچھ کر سکتے ہیں تو آپ کو ٹیم میں شامل کر لیا جائے گا۔

’ہو سکتا ہے کہ فرنچائز مالکان بکیز کے لیے کام کر رہے ہوں اور ان کے پاس بڑے پیمانے پر وسائل موجود ہوتے ہیں۔ جب لوگ ایک ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم فرنچائز ٹیم پر خریدنے کے لیے لگاتے ہیں تو آپ ایک بہت اہم سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر وہ اتنا زیادہ پیسہ لگا رہے ہیں تو بدلے میں وہ کس قسم کی آمدنی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہRobert Cianflone

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 کے آئی پی ایل میں انڈیا کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی (دائیں جانب) کی ٹیم چنائی سپر کنگز کے پرنسپل کو مبینہ طور پر بیٹنگ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا

کرکٹ میں کرپشن کی سب سے مقبول مثال تین پاکستانی کھلاڑیوں کی ہے۔ جب 2010 میں برطانیہ میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران محمد آصف اور محمد عامر نے جان بوجھ کر نو بالز کیں اور اس منصوبے میں اس وقت کے کپتان سلمان بٹ بھی شامل تھے۔

لیکن اس واقعے کے بعد ایک غلط تاثر یہ پیدا ہو گیا کہ کرکٹ میں میچ فکسنگ عموماً چھوٹے پیمانے پر ہوتی ہے۔

عامر اور آصف نے تو جان بوجھ کر نو بال کی لیکن عموماً اس طرح کی نو بال فکسنگ کا اشارہ ہوتا ہے اور اس کا اثر اس کے بعد ہونے والی چیزوں پر پڑتا ہے۔

مارشل بتاتے ہیں ’فکس عموماً کھیل کے سیشن پر مبنی ہوتا ہے۔ کرپٹ لوگ عام طور پر اوپننگ بیٹسمین، بالر یا پھر کپتان سے رابطہ کرتے ہیں تاکہ کھیل کے سیشن پر اثر ڈالا جا سکے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پورے میچ میں یہ چیز ہو رہی ہو۔ بہت کم مواقع ایسے ہیں جہاں ایسا ہوا ہے لیکن یہ اتنا عام نہیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی صرف ایک گیند پر کرپشن کی گئی ہو۔‘

متحدہ عرب امارات کی ٹیم سے تعلق رکھنے والے محمد نوید، شائمان انور اور قدیر احمد پر رواں برس پابندی لگائی گئی۔

اسی طرح سری لنکن کھلاڑی دلھارا لوکوہیٹگے اور نوان زوئسا جبکہ زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ سٹریک کو بھی آئی سی سی کی طرف سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان چھ کھلاڑیوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اپنے ممالک میں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کرکٹ سے کچھ زیادہ آمدنی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے جس کا کرپٹ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کمزوریوں کی تلاش اکثر کھیل کے دوسرے حصوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ مارشل کہتے ہیں کہ خواتین کھلاڑیوں کو سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

’ابھی تک خواتین کے میچوں میں جوا لگانے کا تناسب بہت کم رہا ہے۔ کرپٹ لوگوں کے لیے میچ جتنا بڑا ہو گا آمدنی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ انڈر 19 بہت مقبول ہے۔ ان میں مارکیٹ بھی ہے اور جوا لگانے کا ایک سلسلہ بھی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کئی بار نوجوان کھلاڑیوں سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ان سے معلومات بھی پوچھی جاتی ہیں۔‘

اگر کوئی بھی کھلاڑی، کوچ یا میچ آفیشل اس لالچ میں آ جاتا ہے تو انھیں پابندی کا سامنا ہوتا ہے۔

باہر سے آنے والے کرپٹ لوگوں کے حوالے سے آئی سی سی کی تحقیقات کے دائرہ کار کی ایک حد مختص ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مارشل اور ان کی ٹیم کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔

پاکستانی کرکٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اگر وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک جرم ہے تو ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان لوگوں کی معلومات فراہم کرتے ہیں اور ساتھ بارڈر ایجنسیوں کو بھی چوکنا کرتے ہیں تاکہ انھیں ملک کے اندر آنے یا باہر جانے سے روکا جا سکے۔‘

’اگر یہ لوگ کسی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں تو ہم ان کے مالکان تک یہ بات پہنچاتے ہیں۔ اگر اس سے ہماری پبلسٹی ہونے کے امکانات ہوں تو ایسے میں ہم ان کا نام پبلک ڈومین میں بھی ڈال دیتے ہیں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ان لوگوں کے نام شائع کر سکیں گے جن پر کرپشن کی وجہ سے پابندی لگ چکی ہے۔ اس کے لیے ایک قانونی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔‘

میچ فکسنگ کی وجہ سے کرکٹ کے چاہنے والوں میں ایک خطرناک تاثر یہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ جو وہ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت میں اتنا زبردست نہ ہو۔

کرکٹ کی دنیا میں کرپشن کو قریب سے دیکھنے والے مارشل کہتے ہیں کہ انھیں ابھی بھی اس کھیل پر اعتماد ہے۔

’میں ایک ایسا مداح ہوں جس کی آنکھں کھلی ہوئی ہیں۔ میں جب میچ دیکھ رہا ہوتا ہوں تو مجھے اس کھیل پر تقریباً ہر بار اعتماد ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کرپٹ لوگ بھی یہ میچ دیکھ رہے ہیں اور کمزوریاں تلاش کر رہے ہیں۔‘

مارشل کہتے ہیں کہ کھیل کو خطرہ ہمیشہ رہے گا لیکن وہ کرپٹ لوگوں کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں اور کھیل سے منسلک لوگوں میں ایسی چیزوں سے دور رہنے کے حوالے سے آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔

’آپ کو اس کھیل پر یقین ہونا چاہیے۔ جیسا کہ مجھے ہے۔‘