پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ چوتھا ٹی ٹوئنٹی: سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کی فتح پر خوشی، تو مڈل آرڈر کی کارکردگی پر مایوسی

پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں چار میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا چوتھا اور فیصلہ کن میچ آج سنچورین میں کھیلا گیا جس میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو تین وکٹوں سے شکست دے کر چار میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کر لی ہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پاکستان کو 145 رنز کا ہدف دیا گیا جو پاکستان نے سات وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

میچ جب شروع ہوا تو گذشتہ میچ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے محمد رضوان صفر پر آؤٹ ہوگئے لیکن اُن کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم کی شراکت میں پاکستان نے سکور میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن اس کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم بالترتیب 60 اور 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

اُن کے بعد آنے والے محمد حفیظ اور حیدر علی بھی ٹیم کو مجموعی طور پر صرف 13 رنز ہی دے سکے اور یوں ایک وقت میں جب میچ مکمل طور پر پاکستان کے ہاتھ میں نظر آ رہا تھا، وہاں پاکستان مشکلات کا شکار دکھائی دینے لگا۔

پاکستان کا مڈل آرڈر ٹیم کو مضبوط سہارا فراہم نہ کر سکا اور میچ جتوانے کے لیے پاکستانی بولرز کو دباؤ کے لمحات میں وکٹیں سنبھال کر رکھنی پڑیں۔

پاکستانی فتح پر جشن تو مڈل آرڈر کی ناکامی پر مایوسی

سوشل میڈیا صارفین جہاں پاکستان کی فتح پر خوشی مناتے ہوئے نظر آئے تو وہیں یہ بھی دیکھا جا سکتا تھا کہ خوشی کے ساتھ ساتھ مڈل آرڈر کی کارکردگی پر بھی مایوسی ہے۔

صارف عثمان قریشی نے گذشتہ میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستانی ٹیم ہی 205 کا ہدف دو اوورز باقی رہتے ہوئے حاصل کر سکتی ہے اور شائقین کو 145 کا ہدف حاصل کرتے ہوئے ہارٹ اٹیک دے سکتی ہے۔

صحافی خاور گھمن نے کہا کہ ہمیں آسان فتوحات پسند نہیں ہے۔ کچھ ’ایکسائٹمنٹ‘ بھی تو ہونی چاہیے۔

صارف تمثین فاطمہ نے لکھا کہ میچ بہت سنسنی خیز تھا مگر شکر ہے اللہ نے عزت رکھ لی۔ رمضان جو ہے۔

صارف اسد قاسم نے لکھا کہ پاکستان کو سیریز کی فتح پر جنوبی افریقہ کے ناتجربہ کار بولرز کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ مڈل آرڈر بالکل ایسے تھا جیسے وجود ہی نہیں رکھتا۔

جہانزیب نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہر چیز عارضی ہے مگر پاکستان کا مِنی ہارٹ اٹیک دے کر جیتنا مستقل ہے۔

جنوبی افریقہ کے بلے باز بھی آج کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور پاکستانی بولرز نے اُنھیں کم سکور تک محدود رکھا۔

ایڈن مرکرام کو محمد نواز نے آؤٹ کیا اور جے ملان فہیم اشرف کی گیند پر فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ہائینریک کلاسین تھے جو اپنی ٹیم کے سکور میں صرف نو رنز کا اضافہ کر سکے اور چھکا مارنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوئے۔

ریسی وان ڈر ڈسین نے 33 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی مگر دو مزید رنز بنانے کے بعد ہی وہ بھی پویلین لوٹ گئے۔

جارج لِنڈے بھی صرف تین رنز بنا سکے جس کے بعد وہ فہیم اشرف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

حسن علی نے ویان ملڈر کو چھ رنز پر آؤٹ کیا اور اس کے فوراً بعد اینڈیلے فیفلکوایو کو بھی آؤٹ کر دیا۔

پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں فہیم اشرف اور حسن علی نے لیں جنھوں نے تین تین بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

پاکستان کی ٹیم: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، فخر زمان، محمد حفیظ، حیدر علی، آصف علی، محمد نواز، فہیم اشرف، حسن علی، حارث رؤف، شاہین آفریدی۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم: ایڈن مارکرم، یانیمن ملان، راسی وینڈرڈوسن، فورٹوئن، ہینرک کلاسن (کپتان اور وکٹ کیپر)، ویان ملڈر، جارج لنڈا، اینڈیلے فیفلکوایو، سسانڈا مگالا، لیذاڈ ولیمز، تبریز شمسی۔