آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی: جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف چھ وکٹوں سے فتح حاصل کر کے سیریز ایک ایک سے برابر کر دی
پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چار ٹی ٹوئنٹی میچوں کا سیریز کا دوسرا میچ آج جنوبی افریقہ نے باآسانی چھ وکٹوں سے اپنے نام کر لیا ہے اور یوں یہ سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے۔
پاکستان کی جانب سے ایک بیٹنگ وکٹ پر 141 رنز کا ہدف شروع سے ہی کمزور دکھائی دے رہا تھا اور جنوبی افریقی اوپنرز نے ہدف کے تعاقب میں اننگز کا جارحانہ آغاز کر کے پاکستان کو آغاز میں ہی خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔
ملان اور مارکرم نے اس دوران صرف چار اعشاریہ دو اوورز میں 44 رنز کی شراکت جوڑی اور پاکستانی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا تاہم حسن علی نے اپنے پہلے ہی اوور میں اس شراکت کو توڑ دیا اور ملان کو پویلین کی راہ دکھا دی۔
پاکستانی بولرز اس کے بعد مزید تین وکٹیں لینے میں تو کامیاب رہے لیکن جنوبی افریقہ کے بلے باز میچ کے کسی بھی مرحلے پر دباؤ کا شکار نظر نہیں آئے اور یوں صرف 14 اوورز میں ہی اس ہدف کا صرف چار وکٹوں کے نقصان پر تعاقب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارکرم اور کلاسن کی لگاتار دوسرے میچ میں عمدہ بیٹنگ
اوپنر ایڈن مارکرم نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگاتار دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نصف سنچری سکور کی۔ ان کی اننگز میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔
مارکرم اس جنوبی افریقی ٹیم میں سب سے زیادہ تجربہ کار بلے باز کے طور پر ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور وہ اس سال کے آخر میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے کوئنٹن ڈی کاک کے ساتھ اوپن کرنے کے نمایاں امیدوار دکھائی دے رہے ہیں۔
ان کے علاوہ کپتان ہینرک کلاسن بھی عمدہ فارم میں دکھائی دیے اور پچھلے میچ کی طرح آج بھی انھوں نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کو میچ میں حاوی ہونے سے روکے رکھا۔
انھوں نے صرف 21 گیندوں پر چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 36 رنز سکور کیے۔
لنڈا اور ولیمز کی عمدہ بولنگ
جارج لنڈا اور ولیمز نے آج جنوبی افریقہ کی جانب سے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی بیٹنگ کو سنبھلنے نہ دیا۔
پاکستان کی جانب سے پچھلے میچ کے بہترین کھلاڑی محمد رضوان نے آج جارج لنڈا کے پہلی ہی گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کی اور مڈ آف پر کھڑے ایڈن مارکرم کے ہاتھوں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔
ان کے آؤٹ ہونے کے کچھ ہی اوورز کے بعد شرجیل خان بھی لنڈا ہی کی گیند پر مڈآف پر کیچ آؤٹ ہو گئے اور اس طرح پاکستان کا پاور پلے میں جارحانہ انداز اپنانے کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
اس کے بعد محمد حفیظ اور بابر اعظم نے 58 رنز کی شراکت تو بنائی لیکن یہ شراکت 49 گیندوں کے عوض بنائی گئی جس سے پاکستان کی بیٹنگ کو درکار مومینٹم نہیں مل سکا۔
محمد حفیظ بھی جارج لنڈا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے اور اگلے آنے والے بلے باز حیدر علی بھی خاطر خواہ رنز بنانے میں ناکام رہے۔ پاکستان کے لوئر مڈل آرڈر نے بھی اس مرتبہ مایوس کیا اور فہیم اشرف، محمد نواز اور حسن علی ایک اچھے سکور تک پہنچانے میں ناکام رہے۔ ان تینوں کو ولیمز نے آخری اوورز میں آؤٹ کیا۔
چھکوں کا فقدان اور فخر زمان کی کمی
پاکستان کی جانب سے آج بھی سب سے نمایاں بلے باز بابر اعظم ہی تھے اور انھوں نے نصف سنچری بھی بنائی لیکن 100 کے سٹرائک ریٹ سے بنائی گئی یہ نصف سنچری شاید ان کے کریئر کی اچھی اننگز میں سے نہیں تھی۔ وہ اس اننگز کے کسی بھی حصہ میں اپنی عمومی فارم میں نظر نہیں آئے۔
بابر کی نصف سنچری میں صرف پانچ چوکے شامل تھے۔ پاکستان نے آج ان فارم بلے باز فخر زمان کی کمی بھی محسوس کی جو ٹانگ کی الرجی کے باعث یہ میچ نہیں کھیل رہے تھے۔
پاکستان کو جب پاور پلے کے دوران شرجیل خان کا نقصان اٹھانا پڑا تو اس کے بعد مڈل آرڈر میں کوئی بھی کھلاڑی جارحانہ بیٹنگ کرتا نہیں دکھائی دیا۔
پاکستان کی پوری اننگز میں تین چھکے لگے جن میں سے دو نمبر سات پر بیٹنگ کرنے والے حسن علی نے مارے جبکہ اس کے علاوہ صرف شرجیل خان نے پہلے اوور میں چھکا مارا تھا۔
اس کے برعکس جنوبی افریقہ کی اننگز میں آٹھ چھکے شامل تھے۔
’پاکستان کی بیٹنگ برمودہ ٹرائی اینگل سے بھی زیادہ پراسرار ہے‘
پوری سیریز میں اچھی کاکردگی دکھانے والی پاکستان ٹیم آج جنوبی افریقہ کی ایک قدرے کمزور ٹیم سے چھ وکٹوں سے ہاری تو سوشل میڈیا پر صارفین نے اسے پاکستان کے لیے ایک ’ویک اپ کال‘ قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر آپ اس بیٹنگ اور بولنگ کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جائیں گے تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے جیت کے چانسز بہت کم ہیں۔‘
ایک اور صارف نے پاکستان کی بیٹنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی بیٹنگ برمودہ ٹرائی اینگل سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔‘
اسی طرح اکثر صارفین بابر اعظم کی سست رفتار نصف سنچری پر بھی تنقید کرتے دکھائی دیے اور اکثر ان کا دفاع کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے جنوبی افریقہ کا بیٹنگ سکورکارڈ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں اپنی بیٹنگ سے ایسے سٹرائک ریٹ کی امید رکھتا ہوں۔
اسی طرح دیگر افراد نے بابر اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر مرتبہ اچھی بیٹنگ کرتے ہیں لیکن آج دوسرے اینڈ پر ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں تھا، وہ ضرور ’کم بیک‘ کریں گے۔
ایک صارف نے تبریز شمسی کا جوتا کان سے لگا کر وکٹ لینے والے انداز کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’'ہیلو ڈی کوک، ملر، ربادا ہم تمھارے بغیر بھی پاکستان کو ہرا سکتے ہیں۔'