انڈیا بمقابلہ انگلینڈ: جسپریت بمرا، محمد شامی، امیش یادو، ایشانت شرما، کیا انگلینڈ کو ان سے ڈرنا چاہیے؟

    • مصنف, میتھیو ہینری
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹس

انڈیا کی کرکٹ ٹیم میں اب صرف سپن بولنگ ہی خطرہ نہیں۔ گذشتہ چار برس میں انڈیا کی ٹیسٹ کرکٹ میں ساٹھ فیصد وکٹیں تیز رفتار گیند بازوں نے حاصل کی ہے جو کہ گزشتہ 75 برس میں کی اوسط میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

جسپیت بمرا، محمد شامی، امیش یادیو اور ایشانت شرما نے مخالف ٹیموں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ انڈیا کے شہر چینئی میں جمعہ سے شروع ہونے والی انگلینڈ کے خلاف ٹسیٹ سیریز میں انگلینڈ کے بلے بازوں کو اس خطرے کا اندازہ ہو گا۔

بی بی سی سپورٹس نے ان لوگوں سے بات کی ہے جو انڈیا کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے مؤثر اس فاسٹ بولنگ اٹیک کے ساتھ یا تو کھیل چکے ہیں یا انھیں کوچ کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک فرینڈلی سپر سٹار، جسپریت بمرا

بمرا انڈیا کے تیز گیند بازوں کے دستے میں بلاشبہ ایک سپر سٹار ہیں۔ 27 برس کے بمرا نے اپنا نام اور پیسہ انڈیا میں مقامی انڈین پریمیئر لیگ میں ممبئی انڈین کی طرف سے کھیلتے ہوئے کمایا اور اس کے بعد انھوں نے انڈیا ٹسیٹ کرکٹ میں ایک ناقابل یقین کیرئر کا آغاز کیا۔

انڈیا کی کرکٹ کے سابق بلے باز شریش رائنا جو بین الاقوامی سطح پر ان چار گیند بازوں کے ساتھ کھیل چکے ہیں کا کہنا ہے کہ ’کپتان ویراٹ کوہلی ان کو بہت پسند کرتے ہیں۔‘

'جب بھی کبھی کوئی مشکل وقت ہوتا ہے تو ویراٹ کوہلی بمرا ہی سے گیند کرانا چاہتے ہیں۔'

بمرا درست نشانے پر بولنگ کرتے ہیں ایک ایسی مہارت جو انھوں نے سفید گیند سے کھیلی جانے والی کرکٹ میں حاصل کی اور ٹیسٹ میں وہ انتہائی رفتار سے گیند کو دونوں جانب سوئنگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

چھوٹے فاصلے سے دوڑ کر بال کرنے کی صلاحیت جو انھوں نے اپنے گھر کے چھوٹے سے صحن میں کھیل کھیل کر حاصل کی۔ بمرا کریز پر آتے ہیں اور نو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بلے باز کی طرف اپنے بازو کو بہت تیزی سے گھما کر گیند پھینک دیتے ہیں۔

ابھیشیک گھنگھن والا جنھوں نے اپنی کرکٹ کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں بمرا کی گیندوں کو کھیلا ہے وہ کہتے ہیں 'ہم سب کو بتایا جاتا ہے یہ کون ہے اس کا انداز کیا ہے اور کس طرح اسے ممبئی انڈین کی طرف سے کھیلنے کے لیے چنا گیا۔'

بمرا ایک روایتی طور پر غصیلہ تیز رفتار گیند باز نہیں ہے۔ ان کی مسکراہٹ میدان میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑتی اور وہ سکون بخش موسیقی سننا پسند کرتے ہیں۔

رائنا کا کہنا ہے کہ 'انھوں نے جتنے بھی کھلاڑیوں سے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے ان میں وہ سب سے اچھے ہیں۔ وہ دوسرے بولروں کی طرح خوشی کا اظہار نہیں کرتے اور ہمیشہ بہت پر سکون رہتے ہیں۔'

خوابیدہ محمد شامی

شامی ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ کسی دوسرے تیز گیند باز نے گزشتہ چار برس میں انڈیا کے لیے اتنی وکٹیں نہیں لیں جتنی شامی لے چکے ہیں۔

تیس برس کے اس گیند باز کو اپنی بولنگ پر کمال کا کنٹرول حاصل ہے اور وہ گیند کو فضا میں اور پیچ پر پڑنے کے بعد سوئنگ کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے لیے ناگزیر بن گیا ہے۔

لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ گھنگھنوالا جو بنگال میں ان کے ساتھ ایک ٹیم میں کھیل چکے ہیں اور ان کے ساتھ کئی مرتبہ ایک کمرے بھی رہ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ شامی کو کھانا اور سونا بہت پسند ہے۔

'جب کبھی بھی ہمارا کوئی میچ نہیں ہوتا تھا تو دوسرے کھلاڑی کچھ نہ کچھ کرنے میں مصروف ہو جاتے تھے جبکہ شامی سارا دن بستر میں پڑا رہتا تھا۔ دن کے چوبیس میں سے 18 گھنٹے وہ بستر میں گزار دیتے تھا اگر کوئی میچ نہ ہو تو۔'

'ہم سب کو معلوم تھا کہ اس میں صلاحیت ہے۔ لیکن اس کا طرز عمل ٹھیک نہیں۔ ہم سب ان سے کہتے تھے کہ اپنی فٹنس پر دھیان دو۔ ہمارا خیال تھا کہ اگر وہ اپنے طور طریقے بدل لے تو وہ ایک دن انڈیا کے لیے ضرور کھیلے گا۔'

سنہ 2012 اور 2013 کے ڈومیسٹک سیزن میں متاثر کن کارکردگی دکھانے کے بعد شامی نے جنوری سنہ 2013 میں ایک روزہ میچوں میں اپنا پہلا میچ کھیلا اور اسی سال انھیں ٹسیٹ ٹیم میں بھی منتخب کر لیا گیا۔

گھنگھنوالا کے مطابق اس وقت شامی کو احساس ہوا کہ وہ اب صرف تفریح کے لیے نہیں کھیل رہا بلکہ وہ اپنے ملک کے لیے کھیل رہا ہے۔

اب وہ میدان سے باہر بھی زیادہ پرعزم دکھائی دینے لگے۔ 'ان کا انداز زیادہ جارحانہ نہیں تھا۔ ہم ان سے کہتے ہیں انھیں مخالف بلے بازوں پر غصہ دکھانا چاہیے لیکن انھیں ڈرانا دھمکانہ نہیں آتا۔'

'ڈریسنگ روم میں بھی وہ ان کھلاڑیوں میں نظر نہیں آتے جو گپیں مار رہے ہوں یا ادھر ادھر اچھل کود کر رہے ہوں۔'

شامی امیش یادیو کی طرح وہ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ وہ زخمی ہیں۔

امیش یادو، وہ جو نظر انداز ہونے سے بچ گئے

امیش کا گزشتہ چار برس میں سٹرائیک ریٹ 42 فیصد رہا جو کہ اس عرصے میں پچاس وکٹ لینے والے بولروں میں سب سے آگے ہیں۔

امیش جو 33 سال کے ہیں وہ بمرا، شامی اور ایشانت کی عدم موجودگی میں انڈیا کے پہلے متبادل ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا ریکارڈ ایسا ہے جو دنیا کے کسی بھی بہترین بولر کے مقابلے کا ہے۔

قدرتی طور پر ان کی جسامت ایک اتھلیٹ جیسی ہے اور وہ اپنے رفتار سے کسی بھی بلے باز کو پریشان کر سکتے ہیں۔ امیش انڈیا کے تیز رفتار بولر ہے لیکن وہ ایسے نہیں تھے۔

سکول کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے پولیس میں بھرتی ہونے کی درخواست دی۔ پولیس میں بھرتی ہونے کے عمل میں اگر ان کو دو پوائنٹس اور مل جاتے تو ان کی زندگی آج بالکل مختلف ہوتی۔

امیش انڈیا کے شہر ناگپور میں سیکنڈ ڈویژن کی کرکٹ کھیل رہے تھے جب ایک ایمپائر کی نظر ایک ایسے تیز رفتار گیند باز پر پڑیں جو کرکٹ کے لیے مخصوص 'سپائک' والے جوتوں کے بجائے 'سٹڈ' والے جوتے پھن کر گیند کر رہا تھا جن کی گیند اِدھر اُدھر جا رہی تھی۔

وہ ایمپائر پریتم گاندھے کے بھائی تھے جو ایک مقامی فرسٹ کلاس ٹیم کے کپتان تھے۔ انھوں نے امیش کو نیٹس میں بلا لیا۔

گاندھے نے کہا کہ ان کا 'رن اپ' ٹھیک نہیں تھا اور وہ وکٹوں کی طرف پشت کر کے گیند کروا رہے تھے لیکن ان کی رفتار تیز تھی۔

کپتان ان کے حق میں تھے لیکن سلیکٹر اور کوچ نہیں

گاندھے نے کہا کہ ابتدا میں لوگ ان سے زیادہ متاثر نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بہت کم عمر ہیں، ذرا خام تھے اور درست لائن اور لینتھ پر بولنگ نہیں کر رہے تھے۔

'میرا ذہن بالکل صاف تھا۔ میں ہر قیمت پر اسے کھلاؤں گا۔ اگر اس نے ہر اوور میں صرف تین گیندیں بھی درست جگہ پر کر دیں تو وہ مخالف ٹیم کو آؤٹ کرنے کے لیے کافی ہوں گا۔'

امیش جن کی عمر 21 سال تھی اور ببلو کے نام سے پکارے جاتے تھے وہ رنجی ٹرافی میں ویدبا کی طرف سے مدھ پردیش کے خلاف کھیلے۔ گاندھے نے کہا کہ ان کی ایک گیند ایک کھلاڑی کی ہیلمٹ پر لگی اور وہ چٹخ گئی۔ ایک اور بلے باز کی چھاتی کے گارڈ پر لگی اور وہ بھی چٹخ گیا۔

گاندھے نے بتایا کہ پانی کے وقفے کے دوران مخالف ٹیم کا ایک بلے باز ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ یہ نیا بولر کون ہے۔ اُس نے کہا کہ اُسے ایسا محسوس ہو رہا کہ جیسے وہ ویسٹ انڈیز کے بولروں کے خلاف کھیل رہا ہو۔

امیش نے اس میچ میں 72 رنز دے کر چار وکٹ حاصل کیں اور اس کے بعد سے اب تک وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 148 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

مزاحیہ ایشانت شرما

ایشانت شرما انڈیا کی ٹیم کے سب سے تجربہ کار بولر ہیں اور 97 ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ ان چاروں تیز گیند بازوں میں سب سے لمبے قد کے مالک گیند کو بہت خطرناک جگہ سے بھی اوپر لا سکتے ہیں اور اکثر اوقات وہ بلے باز کے قدموں کے قریب گیند کرتے ہیں۔

کاونٹی کرکٹ میں سسکس کی طرف سے 2018 میں حصہ لینے سے انھیں بہت فائدہ ہوا۔ یہاں وہ بن براؤن کے ہمراہ کھیلے۔

بن براؤن نے کہا کہ ان دنوں کوہلی انڈیا کی طرف سے ہماری خوب پٹائی لگاتے تھے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے میں پچاس اوور کے میچ میں ہمارا سکور برابر کر دیتے تھے۔

ایشانت بہت مزاحیہ ہیں اور بہت لطیف حس مزاح کے مالک ہیں۔ ہن براؤن نے بتایا کہ ’ایک دن ہم واگاماما کھانے گئے اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ سب سے اچھی ڈش فائر کریکر ہے لیکن ہم اس کا آرڈر نہ کریں کیونکہ یہ ہمارے لیے بہت مرچوں والی ہو گی۔'

انھوں نے خود وہی ڈش منگائی اور اُس نے ان کو چکرا کے رکھ دیا۔ وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہے تھے یہ مرچیں وہ بھی برداشت نہیں کر سکے۔

ایشانت 32 سال کے ہو چکے ہیں لیکن وہ میدان میں بہت کارگر ہیں۔ براؤن نے کہا کہ وہ میدان سے باہر ایک دلچسپ آدمی ہوتے ہیں لیکن میدان کے اندر انتہائی سنجیدہ۔

ایشانت انڈیا کی طرف سے سو ٹیسٹ کھیلے والے باولر بننے والے ہیں۔