آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ دوسرا ٹیسٹ: ’ولیمسن کی ڈبل سنچری بنوا دی اب میچ کون بچائے گا؟‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کرائسٹ چرچ کے ہیگلی اوول میدان میں کیمرہ ڈریسنگ روم میں کھڑے کپتان کین ولیمسن کو بار بار دکھا رہا تھا جو کریز پر موجود اپنے بیٹسمین ڈیرل مچل کو اشارہ کر رہے تھے کہ آپ کے پاس ایک اوور ہے جس میں سنچری کر سکتے ہیں تو کر لیں کیونکہ مجھے اننگز ڈکلیئر بھی کرنی ہے۔
ڈیرل مچل کو اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ دو اوورز مل گئے انھوں نے لیفٹ آرم سپنر ظفر گوہر کے اوور میں گیارہ رنز بٹورے اور پھر نسیم شاہ کے اوور کی پانچویں گیند پر چوکے کے ساتھ تین ہندسوں تک پہنچ کر اپنے کپتان کو موقع دے دیا کہ وہ مزید کسی تاخیر کے اننگز ڈکلیئر کر سکیں۔
ولیم سن نے جب نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز 659 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ کے بھاری سکور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانی ٹیم 362 رنز کے زبردست خسارے تلے دب چکی تھی۔
سوال یہ ہے کہ کین ولیمسن کے کیچز گرا کر ان کی ڈبل سنچری بنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم میں ایسا کون سا بیٹسمین ہے جو کریز پر دو دن کھڑا رہ کر ولیمسن جیسی اننگز کھیل سکے اور پاکستانی ٹیم میچ بچا سکے؟
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیسرے دن پاکستانی ٹیم کو دس اوورز کھیلنے کو ملے لیکن شان مسعود کی وکٹ گرنے کے بعد نائٹ واچ مین محمد عباس کو بھیجنے کی نوبت آ چکی تھی۔
طویل قامت جیمی سن کی بولنگ پر عابد علی بے سکون دکھائی دیے۔ وہ ایک ریویو لے کر اپنی وکٹ بچانے میں ضرور کامیاب رہے ہیں لیکن میچ کے دو دن ابھی باقی ہیں۔ 354 رنز کا خسارہ اور سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی بتا سکتی ہے کہ میچ کس رخ پر جا رہا ہے۔
شان مسعود کے لیے ڈراؤنا خواب
کرکٹ واقعی بڑا ظالم کھیل ہے جہاں ہر کھلاڑی کے لیے صورتحال تیزی سے بدلتی ہے۔ شان مسعود بھی ایک ایسے ہی کھلاڑی ہیں جن کے لیے گزرا سال بہت اچھا رہا تھا اور وہ تین ٹیسٹ سنچریاں بنا کر ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط بنا چکے تھے۔
انگلینڈ کے دورے کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 156 رنز کی شاندار بیٹنگ کے بعد ناکامی نے انھیں بری طرح جکڑ رکھا ہے اور اس سنچری کے بعد سے وہ آٹھ اننگز میں صرف 33 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جن میں چار اننگز ایسی ہیں جن میں بولرز نے انھیں کھاتہ کھولنے کا موقع ہی نہیں دیا ہے۔
وہ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے اور اب دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صفر یعنی پیئر کی خفت سے دوچار ہو کر وہ جنوبی افریقہ کے خلاف آنے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے سلیکشن سے خود کو بہت دور کر چکے ہیں۔
ولیمسن کی ڈبل سنچری اور بڑی شراکتوں کی عادت
کین ولیمسن نے پاکستانی فیلڈرز کی غیرمعیاری کارکردگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چوتھی ڈبل سنچری سکور کی ہے۔ میچ کے تیسرے دن بھی ان کا ایک کیچ گلی پوزیشن میں اظہرعلی نے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر اس وقت گرا دیا جب وہ 177رنز پر کھیل رہے تھے۔
موجودہ سیزن میں یہ ولیمسن کی دوسری ڈبل سنچری ہے۔ اس سے قبل انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہملٹن ٹیسٹ میں اپنے کریئر کا بہترین انفرادی سکور 251 بنایا تھا۔
ولیمسن کے ساتھ پاکستانی بولنگ کو بے بسی کی تصویر بنانے والے ہنری نکلز بھی قسمت کی مہربانی جاری رہی اور جب وہ سنچری سے آٹھ رنز کی دوری پر تھے جب محمد عباس کی گیند پر ان کا کیچ ڈراپ ہوا ۔ فیلڈر کو اظہر علی کہتے ہیں۔
جب قسمت مہربان ہو تو پھر شراکت لمبی اور ریکارڈ ساز بن ہی جاتی ہے۔ ولیم سن اور ہنری نکلز نے چوتھی وکٹ کے لیے 369 رنز کا اضافہ کر ڈالا۔ یہ نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے جبکہ نیوزی لینڈ کی رنز کے اعتبار سے بڑی شراکتوں میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔
کین ولیمسن کے لیے جس طرح بڑی اننگز کھیلنا مسئلہ نہیں رہا اسی طرح ان کے لیے بڑی شراکتوں میں شریک ہونا بھی معمول بن چکا ہے۔
نیوزی لینڈ کی آٹھ ڈبل سنچری پارٹنر شپس میں ولیمسن کا نام درج ہے۔
نیوزی لینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر برینڈن مک کلم کہتے ہیں کہ انھیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کین ولیمسن نیوزی لینڈ کی تاریخ کے سب سے بہترین بیٹسمین ہیں۔
اننگز میں پانچ وکٹیں ماضی کی بات
کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ کس پاکستانی بولر نے آخری بار غیر ملکی سر زمین پر کھیلے گئے ٹیسٹ میں اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں؟
اس سوال کا جواب فوری طور پر کسی کے لیے دینا اس لیے ممکن نہ ہو گا کہ اچھا خاصا وقت ہو چکا ہے جب کسی پاکستانی بولر نے ملک سے باہر ٹیسٹ میں ایسا کیا ہو۔
یاد رہے کہ مئی 2018 میں آئرلینڈ کے خلاف ڈبلن ٹیسٹ میں محمد عباس نے اننگز میں پانچ وکٹیں چھیاسٹھ رنز دے کر حاصل کی تھیں جس کے بعد پاکستانی ٹیم ملک سے باہر انگلینڈ میں دو بار اور آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں ایک ایک ٹیسٹ سیریز کھیل چکی ہے اور ان چاروں سیریز کے کل ملا کر دس ٹیسٹ میچوں میں کوئی بھی پاکستانی بولر اننگز میں پانچ وکٹیں لینے میں ناکام رہا ہے۔
موجودہ ٹیسٹ سیریز کے دونوں ٹیسٹ بھی اسی طرح گزر چکے ہیں۔
مصباح اور وقار کا مستقبل کیا ہے؟
مصباح الحق نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے بحیثیت چیف سلیکٹر آخری سلیکشن کر کے اس عہدے سے الگ ہو چکے ہیں گویا اب ان کے پاس ہیڈ کوچ کا عہدہ ہے لیکن اس عہدے پر بھی ان کی کارکردگی پر ان کے معترضین اور عام لوگ تنقید کرتے آ رہے ہیں۔
ان کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد سے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز ہارچکی ہے اور اب نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کا نتیجہ یقیناً ان پر ہونے والی تنقید کی شدت میں اضافہ کردے گا۔
پاکستانی بولرز کی بڑی ٹیموں کے خلاف کارکردگی بھی سوالیہ بنی ہوئی ہے کہ کیا یہ بولنگ اٹیک کسی ٹیسٹ میچ میں بیس وکٹیں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ بولنگ کوچ وقاریونس اس دورے میں اپنے بولرز کے ساتھ نیٹ پریکٹس کے دوران بہت زیادہ محنت کرتے نظر آئے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ یہ بولرز جب میدان میں اترتے ہیں تو ان کی باڈی لینگویج مختلف ہو جاتی ہے۔
نسیم شاہ کی عمر پر طنز
پاکستانی ٹیم خصوصاً بولرز کی مایوس کن کارکردگی پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے تنقید کے تیر برسانے شروع کر دیے ہیں۔
ٹوئٹر پر حمزہ کلیم بٹ نے نسیم شاہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’برائے مہربانی نسیم شاہ کو تنقید کا نشانہ مت بنائیے وہ ابھی سولہ سال کا ہے اور ہمیشہ سولہ سال کا رہے گا اسے اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے کہ بولنگ کیسے ہوتی ہے۔‘
ایک صارف جہانزیب نے شان مسعود پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے شان مسعود کا ایک اور صفر۔ لیجنڈ ہمیشہ لیجنڈ ہوتا ہے۔
اسی طرح تحریم نے بھی شان مسعود کے بارے میں لکھا ہے ایک اور سنچری شان مسعود مکمل نہ کر سکے اس بار صرف سو رنز کی کمی سے۔
لیاقت علی نے لکھا ہے کہ محمد آصف اب بھی موجودہ بولرز سے بہتر بولنگ کر سکتے ہیں۔
رضوان حیدر کا ٹوئٹ ہے کہ بالآخر ایک کیچ۔ ’ولیمسن کی 238 رنز کی بہترین اننگز۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ وہ تین سو کر کے ہی جائیں گے۔ ُتسی گریٹ ہو جی۔‘