پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: 164 کے تعاقب ٹم سائیفرٹ اور ولیمسن کی برق رفتار نصف سنچریوں کی بدولت کیویز کی نو وکٹوں سے جیت، ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح

نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کے 164 رنز کے جواب میں کیویز نے ٹم سائیفرٹ کی مسلسل دوسری اور کپتان کین ولیمسن کی برق رفتار نصف سنچریوں کی بدولت ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر پورا کر کے سیریز میں جیت حاصل کر لی ہے۔

گذشتہ میچ میں نصف سنچری بنانے والے سائیفرٹ اور کین ولیمسن نے پاکستانی بولنگ کے پرخچے اڑا دیے اور 129 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی جس کی مدد سے انھوں نے 164 کا ہدف باآسانی پورا کر لیا۔

چار وکٹیں حاصل کرنے پر ٹم ساؤتھی کو مین آف دا میچ کا اعزاز ملا۔

پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف نے سب سے نپی تلی بولنگ کی اور واحد وکٹ لینے والے بھی وہی تھے۔

لیکن کپتان شاداب خان کے علاوہ اور کوئی بولر ان کی مدد نہ کر سکا۔ وہاب ریاض بالخصوص سائیفرٹ کے زیر اعتاب آئے اور صرف ایک اوور میں 19 رنز دیے اور دوبارہ انھیں بولنگ نہیں ملی ۔

اور اسی اوور کے بعد پھر ولیمسن اور سائیفرٹ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور بالترتیب 64 گیندوں پر 57 اور 63 گیندوں پر 84 رنز حاصل کیے۔

مجموعی طور پر کیوی بلے بازوں نے چھ چھکے اور 17 چوکے لگائے۔

نیوزی لینڈ کے لیے گپٹل نے تیز آغاز کیا اور 11 گیندوں پر دو چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 21 رنز بنائے لیکن فہیم اشرف کو دوسرا چھکا لگانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ کیچ آؤٹ ہو گئے۔

فوراً بعد ولیمسن بچ گئے جب گیند نے ان کے بلے کا باہری کنارہ لیا اور سلپ کے بیچ سے نکل گئی اور انھیں چار رنز مل گئے۔

لیکن اس کے بعد سائیفرٹ نے پاکستانی بولنگ کو آڑے ہاتھ لینا شروع کیا اور حارث اور فہیم کی قدرے بہتر بولنگ کے باوجود پریشان نہیں ہوئے اور وہاب ریاض کو ان کے پہلے ہی اوور میں تین بلند و بالا چھکے رسید کر کے 19 رنز حاصل کیے۔

پاکستانی اننگز کا حال

پاکستانی اننگز کا سارا دارو مدار محمد حفیظ کے کندھے پر رہا جنھوں نے پانچ چھکوں اور دس چوکوں کی مدد سے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے 99 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

کیویز کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے اپنے چار اوورز کے سپیل میں عمدہ بولنگ کی اور 21 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کے پہلے اوور میں رضوان نے دو چوکے لگائے اور دوسرے اوور میں حیدر علی نے ایک بلند و بالا چھکا لگا کر اپنے عزائم ظاہر کیے لیے ساؤتھی نے ان کو دو گیندوں بعد ایک اور شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا اور وہ ولیمسن کے ہاتھ کیچ ہو گئے۔

اوور کی آخری گیند پر نوجوان بیٹسمین عبداللہ شفیق صفر پر ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے اور ساؤتھی کو اوور میں دوسری وکٹ دے دی۔

چھٹے اوور میں ساؤتھی نے اپنی خوبصورت سوئنگ بولنگ جاری رکھی اور محمد رضوان نے باہر جاتی ہوئی ایک گیند کا تعاقب کیا اور کیچ ہو گئے۔

اننگز کے آٹھویں اوور میں نئے بولر کوگیلئین آئے تو محمد حفیظ نے جارحانہ انداز اپنایا اور اوور میں دو چوکے لگائے۔

نویں اوور میں جمی نیشم اپنا پہلا اوور کرانے آئے تو انھوں نہ شاداب خان کو شارٹ پچ گیند کرائی اور کپتان شاداب اسے کنٹرول نہیں کر سکے اور کیچ ہو گئے۔

نیوزی لینڈ کے عمدہ بولنگ کے سامنے پاکستانی بیٹنگ کھل کر نہ کھیل سکی لیکن حفیظ اور خوشدل نے مزاحمت کا اچھا مظاہرہ کیا اور 15ویں اوور میں حفیظ نے نہ صرف اپنی ففٹی مکمل کی بلکہ وہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بھی بن گئے۔

لیکن اش سودھی کے اوور میں ان دونوں کی 62 رنز کی شراکت ختم ہو گئی جب خوشدل نے ایک اونچا شاٹ کھیلا جو یقینی چھکا تھا لیکن باؤنڈری پر کیویز کے سب سے اچھے فیلڈر گپٹل موجود تھے جنھوں نے کیچ پکڑ لیا۔

ٹم ساؤتھی نے اپنے واپسی کے میچ میں بہترین بولنگ کرتے ہوئے اپنے چار اوورز میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس میں آخری وکٹ فہیم اشرف کی تھی جو 18ویں اوور میں چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

تین میچوں کی سیریز میں جمعے کو کھیلے جانے والے پہلے میچ میں میزبان نیوزی لینڈ نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی تھی۔

آج کے میچ میں کیویز کے کپتان کین ولیمسن کی ٹیم میں واپسی ہو گئی ہے جو اپنی پہلی اولاد کی پیدائش کے باعث سیریز کا پہلا میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

نیوزی لینڈ نے کے پہلے میچ کے ہیرو ڈفی کو دوسرے میچ میں ٹیم سے ڈراپ کر دیا اور مجموعی طور پر چار تبدیلیاں کی ہیں جن میں کپتان کین ولیمسن اور تجربہ کار بولر ٹم ساؤتھی کو شامل ہیں جبکہ پاکستان نے وہی ٹیم برقرار رکھی ہے۔

گذشتہ میچ میں کپتان شاداب خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور بیٹنگ کو خاصی پذیرائی ملی تھی اس لیے اس میچ میں اب یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ بولنگ میں ٹیم کے لیے کتنے مفید ثابت ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ گذشتہ میچ میں فہیم اشرف نے اپنی آلراؤنڈ پرفارمنس سے سب کو حیران کیا تھا اور حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی نے اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے گذشتہ میچ میں اوپنر ٹم سائیفرٹ نے عمدہ نصف سنچری کی تھی اور آج ان کین ولیمسن کی ٹیم میں شمولیت کے بعد نیوزی لینڈ کی بیٹنگ بھی مزید تجربہ کار نظر آئے گی۔

شکست کے بعد سوشل میڈیا پر شدید رد عمل

پاکستانی ٹیم کی لگاتار دوسری شکست پر شائقین کرکٹ نے حسب معمول اپنا غصہ اور تجزیہ سوشل میڈیا پر نکالا۔

کہیں تو لوگوں نے اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا، کچھ نے اس تاسف کا کہ ہم یہ کیوں دیکھ رہے ہیں، اور کئی نے ٹیم کی انتظامیہ اور ان کی حکمت عملی کو اسی طرح آڑے ہاتھ لیا جیسے سائیفرٹ نے وہاب ریاض کی بولنگ کو۔

الجزیرہ سے منسلک صحافی اسد ہاشم پہلے پاکستانی بیٹنگ پر تبصرہ کیا کہ 'پاکستانی حکومت نے نیوزی لینڈ کی حکومت سے ساؤتھی اور جیمیسن کی سوئنگ بولنگ پر سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔'

اس کے بعد محمد حفیظ کی بلے بازی نے انھیں کچھ حوصلہ دیا لیکن جب ولیمسن اور سائیفرٹ نے چھکوں کی بارش کر دی تو وہ لکھتے ہیں 'اب ہماری بولنگ اس مرحلے پر آ گئی ہے جس میں سوچتا ہوں کہ میں یہ ابھی تک کیوں دیکھ رہا ہوں؟'

ایک صارف کہتے ہیں کہ میں نے تو چھٹیاں لی تھیں یہ سیریز دیکھ سکوں لیکن اب یہ فیصلہ غلط لگ رہا ہے۔

صارف عامر محمد حفیظ کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر گالف کھیلنے سے وہ بہتر بلے باز بن سکتے ہیں تو کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ قومی کرکٹ اکیڈمی بن کر دیں اور کھلاڑیوں کو رایا گالف کلب بھیج دیں۔

دوسری جانب شائقین کی ایک بڑی تعداد نے انتظامیہ کی حکمت عملی پر شدید تنقید کی۔

کرکٹ اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد لکھتے ہیں کہ پاکستان میچ بیٹنگ پاور پلے میں ہارا اور رضوان اور عبداللہ ٹی ٹوئنٹی کے ٹاپ آرڈر میں نہیں ہونے چاہیے۔ ان کا کہنا تھا 'قدامت پسند حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان سیریز ہار گیا۔'

محمد رضوان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت پر کافی سخت رد عمل سامنے آیا اور صارف نوید ندیم نے سائیفرٹ، نکولس پورن، لوکیش راہل، جاز بٹلر جیسے وکٹ کیپر بلے بازوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ہر جدت پسند ٹیم ایسے بلے باز تیار کر رہی ہے جسے وہ اپنے ٹاپ فائیو میں کھلا سکے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر حسن چیمہ بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائیفرٹ نے پانچ نصف سنچریاں بنائیں ہیں جو کہ گذشتہ نو سال میں پاکستان کے تمام کیپرز سے زیادہ ہیں جن میں سے سرفراز نے تین اور عمر اکمل نے ایک بنائی تھی۔

صارف خان صاحب لکھتے ہیں یہ ایک انتہائی ہنگامہ خیز تباہی کی گئی ہے اس ٹیم کی جو ماضی میں ٹی ٹوئنٹی کی نمبر ایک ٹیم تھی۔ اور میں بات کر رہا ہوں تباہی جو کہ بورڈ اور انتظامیہ کی جانب سے ہوئی ہے۔