پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ نیوزی لینڈ پر سمیع چوہدری کا کالم: لیکن یہ بابر اعظم کا انگوٹھا ہے

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

گئے دنوں جب پولیس مقابلے پنجاب کی ثقافت کا حصہ بنتے جا رہے تھے تب عموماً ہمیں پولیس کے جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملتی تھیں۔ کبھی ٹانگ میں گولی لگتی تو کبھی ہاتھ چھلنی ہو جاتا۔

ایسی اطلاعات ہمیشہ متنازع سمجھی جاتی تھیں کیونکہ بدمعاش بھلے چار مر جاتے، پولیس کے جوان صرف ’زخمی‘ ہی ہوا کرتے۔

پنجاب کے دیہی علاقوں میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا کہ اگر دو دیرینہ حریف قبیلوں کے بیچ ڈنڈے چل جاتے تو ایک طرف بے تحاشا سر پھٹول ہوتی اور دوسری جانب کسی ایک حملہ آور کی انگلی نجانے کیسے ’ٹوٹ‘ جاتی۔ اس کا اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو، مدعی کا مقدمہ تھوڑا کمزور ضرور ہو جاتا تھا۔

انگلی یا انگوٹھے کا ٹوٹنا یا زخمی ہو جانا بھلے رسہ گیر کلچر میں ہو، بھلے کھیلوں کی دنیا میں، ہمیشہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سو، جب کل پاکستان کرکٹ بورڈ نے کل پریس ریلیز جاری کی کہ بابر اعظم کا انگوٹھا بھی زخمی ہو گیا ہے تو ہمیں ماضی کے کئی ایسے انگوٹھے اور انگلیاں یاد آ گئے۔

سچن ٹنڈولکر بلاشبہ حالیہ صدی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ہیں مگر ایک بار سنجے منجریکر نے انڈین روزنامے ’دی ہندو‘ کے لیے اپنے کالم میں سچن کی انجریز کی ٹائمنگ پر کڑے سوالات اٹھائے تھے۔ منجریکر کے مضمون کا لبِ لباب یہ تھا کہ سچن مشکل میچز آتے ہی اچانک ہلکی پھلکی انجری لے کر گھر بیٹھ جاتے تھے۔

اسی طرح ماضی میں احمد شہزاد اور محمد حفیظ بھی انجریز کا بہانہ بنانے کے الزامات سہتے رہے ہیں۔ اسی طرح سنہ 1996 کے کوارٹر فائنل میں سے کسی کو کچھ یاد ہو نہ ہو، وسیم اکرم کا کندھا ضرور یاد ہے جو اچانک زخمی ہو گیا تھا۔

اس ضمن میں سب سے بڑی مثال عمر اکمل کی ہے جنھوں نے آسٹریلیا کے دورے پر محض اپنے بھائی کامران اکمل کی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے خود ’انجرڈ‘ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

حالیہ سکواڈ میں سے امام الحق وہ کھلاڑی ہیں جن کی انجریز پر ناقدین اکثر معترض رہتے ہیں۔ ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ مشکل میچز سے پہلے اکثر فیلڈنگ کے دوران اپنی انگلیاں زخمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حسنِ اتفاق کہیے کہ شومئی قسمت، امام ایک بار پھر اپنی انگلی زخمی کیے بیٹھے ہیں اور بارہ روزہ آرام کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

بہر حال یہ تنازعات اپنی جگہ، انجریز کھیل کا جزوِ لازم ہیں۔ جب ایک کھلاڑی سخت دباؤ کے ماحول میں بیک وقت اپنی نفسیاتی اور جسمانی برتری کا ثبوت دینے کی کوشش کرتا ہے تو انجری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اور اگر پیش آمدہ سیریز مشکل بھی ہو تو پھر ان انجریز پر سوالات اٹھتے دیر نہیں لگتی۔

لیکن بابر اعظم ایسے کھلاڑی ہیں کہ جن کی انجری پر سوال اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اب تک ان کے ناقدین بھی بخوبی جان چکے ہیں کہ وہ کس درجے کے کھلاڑی ہیں اور کس کس طرح کی کنڈیشنز میں پرفارم کر سکتے ہیں۔

لیکن ان کی انجری نے پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے عجیب سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر بابر اعظم ٹی ٹونٹی سیریز میں دستیاب نہ ہوں گے تو پہلے سے انجرڈ نائب کپتان شاداب خان کی بھی ممکنہ عدم موجودگی میں نیا کپتان کون ہو گا۔

عارضی بنیادوں پر کسی کو دو تین میچز کے لیے قائم مقام کپتان بنا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر پاکستان کے کرکٹ کلچر میں ایسا کرتے ہوئے اس سپورٹس صحافت کی ’یلغار‘ سے کیسے بچنا ہے جو بیشتر بار کپتانوں کی تبدیلی کا باعث بن چکی ہے۔

ثانیاً عارضی کپتان اگر پرفارم نہ کر پائے تو نقصان لامحالہ ڈریسنگ روم کا ہوتا ہے لیکن اگر وہ پرفارم کر جائے تو بھی نقصان ڈریسنگ روم میں تقسیم کے خدشوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر بدقسمتی سے ابھی تک اس دورے کے بطن سے کوئی خوش کن خبر سامنے نہیں آئی۔ ہم بابر اعظم کی جلد بحالی کے لیے دعاگو ہیں کیونکہ خدانخواستہ اگر وہ ٹیسٹ سیریز تک صحت یاب نہ ہو پائے تو ایک اور بحران پی سی بی کی راہ تک رہا ہو گا۔

بقول منیر نیازی

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا