سلیکٹرز ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کرکٹرز جن کا فیصلہ نہیں ہو سکا وہ فلاپ تھے یا زبردست

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان نے جب کرکٹ شروع کی تو کسی بھی دوسرے نوجوان کرکٹر کی طرح ان کی یہی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں۔

بازید خان کے حوصلے اس لیے بھی بلند تھے کہ ان کے والد ماجد جہانگیر خان اپنے دور کے مشہور بیٹسمین تھے جبکہ دادا ڈاکٹر جہانگیر خان نے غیرمنقسم ہندوستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔ وہ اسی خاندانی روایت کو آگے لے جانا چاہتے تھے۔

بازید خان نے انڈر15، انڈر19، پاکستان اے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے آٹھ سیزن کھیلنے کے بعد ٹیسٹ کیپ حاصل کی لیکن ان کے خواب ُاس وقت بکھر گئے جب انہیں ان کے اولین ٹیسٹ کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

صرف یہی نہیں بلکہ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں دو نصف سنچریاں بنانے کے باوجود ان کا کریئر آگے نہ بڑھ سکا۔

بازید خان کہتے ہیں کہ کسی بھی نوجوان کرکٹر کی طرح میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا لیکن جب مجھے ایک ٹیسٹ کھلا کر باہر کردیا گیا تو اس وقت مجھے پتا ہی نہیں چل سکا کہ مجھے کیوں ڈراپ کیا گیا ہے۔ ’میں سنبھل نہ سکا۔ اس زمانے میں فرنچائز کرکٹ یا کھیلنے کے دیگر مواقع موجود نہ تھے۔‘

بازید خان کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنی ہے تو اس تک آنے کا سفر آسان نہیں ہونا چاہیے۔

’یہ مشکل ہونا چاہیے ۔آپ مسلسل پرفارمنس دکھائیں اور ٹیم میں آئیں اور جب آپ ٹیم میں آجائیں تو پھر آپ کی کارکردگی ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کو آسانی سے باہر نہ کیا جاسکے۔ دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ آپ کو مناسب مواقع بھی دیے جائیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک دو میچ کی پرفارمنس کو بنیاد بنا کر آپ کو باہر کردیا جائے۔‘

بازید خان کو آج بھی اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ آیا وہ اتنے اچھے کھلاڑی تھے یا نہیں؟ لیکن انہیں اس بات کا ضرور احساس ہے کہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں صحیح طریقے سے پرکھا نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کھلاڑی کا سلیکشن بھی صحیح ہوا ہو اور وہ ڈراپ بھی صحیح ہوا ہو۔ دونوں چیزیں ایک ساتھ درست نہیں ہوسکتیں۔‘

قسمت کی دیوی ہر کسی پر مہربان نہیں

بازید خان اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ میں ایسے کئی کرکٹر موجود ہیں جن پر یا تو قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوسکی اور اگر ان کرکٹروں کو موقع ملا بھی تو مختصر وقت کے بعد قسمت کی دیوی ان سے روٹھ گئی۔

کسی بھی کرکٹر کی کامیابی اور ناکامی میں ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل نمایاں رہتا ہے۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایسے کئی خوش قسمت کرکٹر موجود ہیں جو برائے نام فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر راتوں رات ٹیسٹ کرکٹر بن گئے۔ وسیم اکرم اور توصیف احمد اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔

وسیم اکرم نے صرف دو فرسٹ کلاس میچوں کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ میں کھیلا تھا۔ توصیف احمد کی قسمت صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کے بعد جاگ اٹھی اور وہ گریگ چیپل کی آسٹریلوی ٹیم کے خلاف پاکستانی ٹیم میں شامل کیے گئے تھے۔

عصرحاضر کے کھلاڑیوں میں شاہین شاہ آفریدی کی مثال سب کے سامنے ہے جنہوں نے صرف تین فرسٹ کلاس میچ کھیلے اور ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

کئی ایسے کھلاڑی ہیں جن کا فرسٹ کلاس کیریئر انٹرنیشنل کرکٹ کی خواہش دل ہی میں لیے ختم ہوگیا حالانکہ یہ وہ کھلاڑی تھے جنہوں نے ہر سال ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی کارکردگی دکھائی تھی۔ ان میں ارشد پرویز اور سلطان رانا کے نام قابل ذکر ہیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کئی کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار پرفارمنس کے باوجود ٹیسٹ یا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے یا پھر کم بیک کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا جس کی ایک مثال فواد عالم ہیں جو چھ سال فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلے اور پھر ٹیم میں ان کی واپسی گیارہ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد ممکن ہوسکی۔

سلیکشن میں مستقل مزاجی کا فقدان

سنہ 2016 میں بابر اعظم کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے اب تک پاکستان نے اٹھارہ کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے جن میں سے چھ کھلاڑی خود بابراعظم کی قیادت میں اس مختصر دورانیے کے فارمیٹ میں متعارف کرائے گئے ہیں لیکن ان اٹھارہ میں متعدد کھلاڑی اب منظرعام پر موجود نہیں ہیں۔

بابراعظم کے سامنے جن اٹھارہ کھلاڑیوں نے اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا ہے ان میں سے تین کھلاڑی حسن علی، رومان رئیس اور شاداب خان فی الوقت فٹنس کے مسائل سے دوچار ہیں۔

آصف علی اور حسین طلعت ملنے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور صرف ایک سال بعد ہی ٹیم سے باہر ہوگئے۔

احسان علی کو بنگلہ دیش کے خلاف صرف دو میچوں کی کارکردگی کے بعد گھر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ صاحبزادہ فرحان کی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ صرف تین میچوں پر محیط رہی جبکہ فاسٹ بولر وقاص مقصود صرف ایک میچ کے کھلاڑی ثابت ہوئے۔ فہیم اشرف ان آؤٹ کا شکار رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سلیکٹر اور ہیڈ کوچ نئے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کی جلدی نہیں کررہے ہیں؟ کیا نئے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کے لیے جو مراحل درکار ہوتے ہیں کیا ان سے گزارا جاتا ہے یا پھر صرف ایک یا دو چونکا دینے والی کارکردگیوں سے متاثر ہوکر انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں اتار دیا جاتا ہے؟

اس کی تازہ ترین مثال عبداللہ شفیق ہیں جنہوں نے صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیل رکھا ہے جس میں ان کی سنچری ہے جبکہ اس سال پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپ یعنی صرف ایک ٹورنامنٹ کی پرفارمنس کی بدولت وہ پاکستانی سکواڈ میں شامل کرلیے گئے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان سپر لیگ کے شروع ہونے کے بعد سے پاکستانی کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کو نہ صرف غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے بلکہ نوجوان باصلاحیت کرکٹر کے لیےانٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کے مواقع بھی پہلے سے زیادہ روشن ہوئے ہیں لیکن کیا اس سلیکشن پالیسی میں مستقل مزاجی پائی جاتی ہے یا نہیں ؟ یا صرف کرکٹرز کو باریاں دی جارہی ہیں؟ یہ اہم سوال ہے۔

کرکٹ بورڈ تنقید سے گھبرا جاتا ہے

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کہتے ہیں کہ کسی بھی کرکٹر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کے لیے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ سے مکمل طور پر گزارا جائے۔ دراصل کرکٹ بورڈ اس وقت سوشل میڈیا میں ہونے والے شور اور تنقید سے گھبرا کر کھلاڑیوں کو وقت سے پہلے موقع دے دیتا ہے۔ کھلاڑی اس پریشر کا سامنا نہیں کرپاتا۔ ”جب تک کرکٹر انڈر 19، اے ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیل لیتا اسے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھلانی چاہیے۔‘‘

عاقب جاوید کہتے ہیں کہ ہم ہر سال یہی دیکھتے ہیں کہ نئے چہرے اچانک منظرعام پر آجاتے ہیں اور جو کھلاڑی پہلے سے پرفارم کر رہے ہوتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔

عاقب جاوید کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف صدر مملکت ہوا کرتے تھے وہ غیرسیاسی لوگ تھے جو کسی قسم کا دباؤ اپنے اوپر نہیں لیتے تھے لیکن اب چونکہ پیٹرن ان چیف وزیراعظم ہیں لہذا کرکٹ کے بارے میں اہم فیصلے بھی انہی کی طرف سے ہورہےہیں جیسا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم نہیں ہوگی لیکن وزیراعظم نے اسے ختم کردیا۔ ”دو تین سال میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہوچکی ہیں جس سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ مصباح الحق کو ہیڈ کوچ بنانا اور سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانا یہ دونوں فیصلے غلط تھے۔‘‘

ٹیلنٹ پرکھنے والی آنکھ موجود نہیں

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں کہ ’ٹیلنٹ کو پرکھنے والی خاص نظر ہوتی ہے۔ وسیم اکرم میں یہ ٹیلنٹ جاوید میانداد نے دیکھا تھا۔ توصیف احمد میں موجود صلاحیتیں دیکھنے والے مشتاق محمد تھے۔ آج ایسی کوئی آنکھ موجود نہیں ہے جو یہ دیکھ سکے کہ کون سا کھلاڑی ٹیم کے لیے طویل عرصے تک کتنا کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ آج صورتحال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں فاسٹ بولر موجود ہیں اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ٹیسٹ میں کون سے تین فاسٹ بولر کھیلیں گے؟ ’اسی طرح سپنرز اور بیٹسمینوں کے معاملے میں بھی ہم یہ فیصلہ نہیں کر پارہے ہیں کہ کون سا کھلاڑی ہمارے لیے اچھا ہے۔ کپتانی میں پختگی نہیں ہے۔ سلیکشن کمیٹی اس انداز سے موجود نہیں ہے۔‘

راشد لطیف کہتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے بعد انہیں صحیح طرح سے ایڈجسٹ کرنا بہت اہم ہوتا ہے جو ہمارے ہاں نہیں ہے جس کی وجہ سے کارکردگی میں بھی مستقل مزاجی کا فقدان نظرآتا ہے۔ ’سوشل میڈیا پر کسی کھلاڑی کی حمایت میں آواز بلند ہوتی ہے اور اس کھلاڑی کو فوراً ٹیم میں شامل کرلیا جاتا ہے لیکن کئی بار حقدار کھلاڑیوں کے لیے بھی آوازیں بلند ہوتی ہیں لیکن وہ کھلاڑی موقع ملنے سے محروم رہتے ہیں۔‘

انٹرنیشنل کرکٹ سیکھنے کی جگہ نہیں

سینئر صحافی شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں واضح فرق ہے۔ ’یہی وجہ ہے کہ جو بھی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ میں آتا ہے اسے خود کو ایڈجسٹ کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ جو چیزیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں سیکھنے کی ہیں ہمارے کھلاڑی انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ سیکھنے کی جگہ نہیں ہے۔‘

شاہد ہاشمی انڈیا کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں باصلاحیت کرکٹروں کو یکسرانٹرنیشنل کرکٹ میں نہیں لایا جارہا بلکہ انہیں دو سال ڈومیسٹک کرکٹ کھلائی جاتی ہے جس کے بعد وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ’اس بار آئی پی ایل میں ایسے متعدد کھلاڑی کھیل رہے ہیں جو گذشتہ انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلے ہیں۔ یہ کھلاڑی بڑے میچوں کا پریشر برداشت کرنا سیکھ لیتے ہیں اور ان میں پختگی آجاتی ہے تو انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں لایا جاتا ہے اسی لیے ان کھلاڑی کے کریئر بھی طویل ہوتے ہیں۔‘