عمر گل: پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، ’یارکرز کے ماہر‘ کو خراج تحسین پیش کیا گیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اپنی خطرناک یارکرز کے لیے شہرت رکھنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر عمر گل ہر قسم کی کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔

36 سالہ عمر گل نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں بلوچستان کی طرف سے سدرن پنجاب کے خلاف اپنا آخری میچ کھیلا۔ کارکردگی کے لحاظ سے یہ میچ ان کے لیے مایوس کن رہا اور وہ دو اوورز میں 34 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے تاہم میچ کے اختتام پر جب انھیں الوداع کہا گیا تو وہ اپنے جذبات پر بمشکل قابو پاسکے۔

پُرنم آنکھوں کے ساتھ انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ، ساتھی کھلاڑیوں اور اپنے پرستاروں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر بلوچستان اور سدرن پنجاب کے کھلاڑیوں نے دونوں جانب قطار بنا کر اور بلے ہوا میں لہرا کر انھیں گارڈ آف آنر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

بین الاقوامی کیریئر

عمر گل کا بین الاقوامی کیریئر چار سال قبل اختتام کو پہنچ چکا تھا تاہم یہ کیریئر خاصا متاثر کن رہا ہے۔ انھوں نے 47 ٹیسٹ میچوں میں 163 وکٹیں حاصل کیں۔ 130ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 179 رہی۔

ٹی ٹوئنٹی عمر گل کا پسندیدہ فارمیٹ رہا۔ انھوں نے 60 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 85 وکٹیں حاصل کیں۔

جبکہ عمر گل فرسٹ کلاس کرکٹ میں 479 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

2003 کے عالمی کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد جب پاکستانی ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ ہوئی تو چند نئے چہرے ٹیم میں دیکھنے کو ملے۔ عمرگل انہی میں سے ایک تھے۔ شارجہ میں بیٹسمینوں کی جنت قرار دی جانے والی وکٹ پر ان کا پہلا تعارف متاثر کن تھا۔

2004 میں انڈیا کے خلاف لاہور ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ان کی صرف 31رنز دے کر 5 وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی۔ ان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے والوں میں سچن تندولکر، راہول ڈراوڈ، وریندر سہواگ، وی وی ایس لکشمن اور پارتھیو پٹیل شامل تھے۔

خطرناک یارکر کے لیے مشہور

عمرگل کی وجہ شہرت ان کی یارکر گیندیں ہیں جنھیں وہ اس خوبی سے استعمال کرتے تھے کہ دیکھنے والے جوش میں آ جاتے لیکن کھیلنے والوں کے ہوش اڑ جاتے تھے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بالادستی میں عمر گل کی بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا خاص کر 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کی بولنگ اپنے عروج پر تھی جس نے پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنانے میں مدد دی۔

اس عالمی مقابلے میں انھوں نے سب سے زیادہ 13 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2007 میں پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 13 تھی جو اس ایونٹ میں کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں تھیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشل میں عمر گل کے متعدد بولنگ سپیل شائقین نہیں بھول سکتے۔ 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف اوول میں صرف چھ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یہ کسی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں پہلا موقع تھا کہ کسی بولر نے پانچ وکٹیں حاصل کی ہوں۔

انھوں نے 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں محض 14 گیندوں پر چھ رنز دے کر 5 وکٹوں کی اس کارکردگی کو ایک بار پھر دوہرایا اور اس وقت وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بھی بن گئے تھے۔

سنہ 2009 میں آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں بھی وہ چھائے ہوئے تھے جب چار اوورز میں انھوں نے صرف آٹھ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

عمرگل ایک عرصے تک شاہد آفریدی اور سعید اجمل کے بعد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے تیسرے سب سے کامیاب بولر رہے تھے اس وقت ان کا سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز میں پانچواں نمبر ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اس فارمیٹ میں اپنی وکٹوں کی سنچری مکمل کریں جو پوری نہ ہوسکی۔

اسکواش کے عالمی چیمپئنز کے گاؤں کا پہلا کرکٹر

عمرگل کا تعلق پشاور کے قریب واقع گاؤں نواکلی سے ہے جس کی وجہ شہرت سکواش کے عالمی چیمپئن کھلاڑی ہیں۔ جب وہ سنہ 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی جیت کے بعد اپنے گاؤں پہنچے تو بڑی تعداد میں استقبال کرنے والوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب نواکلی کو آپ کے حوالے سے لوگ یاد رکھیں گے تو عمرگل نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلا حق سکواش کے عظیم کھلاڑیوں کا ہے جنھوں نے کئی عالمی اعزازات جیتے ہیں۔

’یارکرز کا ماہر‘

سوشل میڈیا پر عمر گل کی ریٹائرمنٹ کے بعد کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں جن میں عمر گل کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صف اول کے بلے باز بابر اعظم نے عمر گل کو سب سے ہنر مند بولرز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ 'آپ کے یارکرز اور پاکستان کو جتانے والے سپیلز ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔'

فاسٹ بولر حسن علی کا کہنا تھا کہ عمر گل ان چند بولرز میں سے تھے جنھوں نے کرکٹ میں انھیں متاثر کیا۔ پاکستانی آل راؤنڈر شعیب ملک کے مطابق عمر گل کے ساتھ کھیلا گیا ہر لمحہ ان کے لیے بہترین رہا ہے۔

سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ 'کیا زبردست کرکٹر ہے وہ پاکستان کے لیے۔ ان کے یارکر خطرناک ہوا کرتے تھے اور وہ پاکستان کو میچ جتانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔'

اس ویڈیو میں ان کی اہلیہ شنیرا اکرم نے 'ہیش ٹیگ گل ڈوزر' بھی کہا۔

حسین طلعت نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'گلی بھائی سے بہتر ساتھی یا رہنما کوئی نہیں تھا۔۔۔ چیف صاحب ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔'

ان کے ساتھ کھیلنے والے کئی کرکٹرز نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری طرف ان کے فینز گذشتہ روز سے ان کی ریٹائرمنٹ پر افسوس ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ انھیں ’یارکرز کا ماہر‘، ’گل ڈوزر‘ اور ’لیجنڈ‘ جیسے کئی ناموں سے پکار رہے ہیں۔

بعض صارفین نے اعتراف کیا کہ عمر گل کے آبدیدہ ہونے پر وہ خود بھی رونے لگ گئے ہیں۔

عمر گل کے فینز نے اس بات پر بھی ان کی تعریف کی کہ وہ پاکستان کے ان کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جن سے متعلق تنازعات سامنے آئے نہ نظم و ضبط کی خلاف ورزیاں۔

امن نامی صارف نے بھی یہی موقف اپنایا کہ جب محمد عامر اور محمد آصف تنازعات کا شکار تھے تو اس وقت عمر گل وہ بولر تھے جنھوں نے 'ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔'

حنا خان کا کہنا تھا کہ عمر گل ایک بہتر فیئرویل کے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں زمبابوے کے خلاف میچ کھلانا چاہیے تھا تاکہ انھیں ایک پُروقار طریقے سے الوداع کہا جاسکے۔ ‘