آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قومی ٹی ٹوئنٹی کپ: بک میکر کا کھلاڑی سے رابطہ، کھلاڑی نے کرکٹ بورڈ کو مطلع کر دیا
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ راولپنڈی میں جاری قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوران ایک بک میکر نے ایک کھلاڑی سے رابطہ کیا ہے تاہم اس کھلاڑی نے فوری طور پر اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع کر دیا۔
پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جس کھلاڑی سے بک میکر نے رابطہ کیا ہے اس نے ابھی تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔
بک میکر کی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں دلچسپی کیوں؟
کسی بک میکر یا مشکوک شخص کی جانب سے کرکٹرز کو میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ کی پیشکش عام طور پر بین الاقوامی میچوں میں کی جاتی رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں بک میکرز کی نظریں مختلف ممالک میں کھیلی جانے والی ٹی ٹوئنٹی لیگس پر بھی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے کسی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں بک میکر کی جانب سے کسی کھلاڑی سے رابطے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بک میکرز کی نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں دلچسپی حیران کن نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ ایک مقبول ٹورنامنٹ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جسے ملک اور ملک سے باہر بڑی پذیرائی ملی ہے اور اس کے میچز بڑی دلچسپی سے دیکھے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بین الاقوامی کرکٹ میں کرپشن کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں بک میکرز نے مختلف ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کو اپنا ٹارگیٹ بنانا شروع کردیا ہے۔
حالیہ برسوں مختلف خلیجی ممالک میں کھیلی جانے والی نچلے پیمانے کی کرکٹ میں بھی مشکوک افراد کے کرکٹرز سے رابطے رپورٹ ہوچکے ہیں۔
دراصل بک میکرز ہر اس ایونٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جہاں انہیں پیسہ بنانے کے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔
معاملہ ایف آئی اے کے سپرد
پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کے ڈائریکٹر لیفٹننٹ کرنل (ریٹائرڈ) آصف محمود کا کہنا ہے کہ بک میکر کی پیشکش اور رابطے کے بارے میں مذکورہ کرکٹر کا پاکستان کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر مطلع کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ پر مکمل بھروسہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایسی صورتحال میں انھیں کیا کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کو انسداد بدعنوانی کے بارے میں باقاعدگی سے لیکچرز دیتا ہے۔
کرنل (ریٹائرڈ) آصف محمود کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کرنے کے دوران کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جو ایف آئی اے کو فراہم کر دی گئی ہیں جس کے پاس اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے زیادہ بہتر وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلی دہائی کے دوران متعدد پاکستانی کھلاڑیوں کو بکیز سے رابطوں کے باعث سزائیں بھی ہو چکی ہیں جبکہ کچھ نے اس بارے میں فوری اطلاع بھی دی ہے۔ گذشتہ آئی پی ایل کے دوران عمر اکمل کو بکیز سے رابطور کے باعث پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے قبل شرجیل خان، نوید لطیف کو بھی ایسی ہی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔