کرکٹ: قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں اوپنر کی جگہ پانے کے لیے کھلاڑیوں میں سخت مقابلہ

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں اوپنرز امام الحق، فخرزمان، خرم منظور، شان مسعود اور شرجیل خان کی طرف سے چند قابل ذکر اننگز دیکھنے میں آئی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے یا یوں کہہ لیں کہ بابر اعظم کا پارٹنر بننے کے لیے اوپنرز میں کتنا سخت مقابلہ ہے۔

فخرزمان

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بابر اعظم کے ساتھ اس وقت دوسرے اوپنر فخرزمان ہیں۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے فخرزمان نے 37 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں چار نصف سنچریوں کی مدد سے 793 رنز بنائے ہیں۔

ان کا سٹرائیک ریٹ 137 ہے تاہم گذشتہ چند سیریز میں ان کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں رہی ہے۔ دو سال قبل آسٹریلیا کے خلاف 91 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد سے فخر زمان کا 14 اننگز میں سب سے بڑا انفرادی سکور 36 ہے جو انھوں نے انگلینڈ کے حالیہ دورے میں بنایا ہے۔

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں اب تک سات اننگز میں تین نصف سنچریوں نے یقیناً ان میں اعتماد پیدا کیا ہو گا۔ وہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں 271 رنز بنا کر اس وقت دوسرے سب سے کامیاب بلے باز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امام الحق

امام الحق اس وقت نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں سب سے زیادہ 292 رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں جن میں 94، 80 ناٹ آؤٹ اور 92 ناٹ آؤٹ کی تین اہم اننگز شامل ہیں۔

امام الحق کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ تینوں فارمیٹس میں اپنی موجودگی کے لیے محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے اور وہ 37 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سات سنچریوں اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے 1723 رنز بنا چکے ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد اب وہ عابد علی اور شان مسعود کی جوڑی کو اننگز کا آغاز کرتا دیکھ رہے ہیں۔

لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ امام الحق ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک قابل اعتماد بیٹسمین رہے ہیں اور ان کی اپنے اولین ٹیسٹ میں 74 رنز ناٹ آؤٹ کی وہ اننگز کبھی نہیں بھلائی جا سکتی جس نے پاکستانی ٹیم کو آئرلینڈ کے خلاف پانچ وکٹوں کی جیت سے ہمکنار کیا تھا۔

شرجیل خان

سپاٹ فکسنگ میں سزا مکمل ہونے کے بعد شرجیل خان کی کرکٹ کے میدانوں میں واپسی ہو چکی ہے۔

رواں برس کے اوائل میں وہ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرتے ہوئے نو اننگز میں ایک نصف سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

تاہم اس وقت بھی ان کی فٹنس پر سوالیہ نشان لگا تھا اور اب بھی ماہرین اور مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے شرجیل خان کو مکمل فٹ ہونا پڑے گا اسی صورت میں وہ اپنا کیس مضبوط طریقے سے پیش کر سکیں گے۔

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں شرجیل خان نے 77 اور 90 رنز کی دو اچھی اننگز کھیلی ہیں۔

شان مسعود

شان مسعود عام طور پر ٹیسٹ بیٹسمین کے طور پر پہچانے جاتے رہے ہیں جنھوں نے انگلینڈ کے حالیہ دورے میں 156 رنز کی عمدہ اننگز مانچسٹر ٹیسٹ میں کھیلی تھی تاہم اب وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

ان کی قیادت میں ملتان سلطانز کی ٹیم پاکستان سپر لیگ کے پلے آف میں پہنچ چکی ہے۔

شان مسعود نے کراچی کنگز کے خلاف 61 رنز کی اننگز کھیلی تھی تاہم وہ اس میچ میں ون ڈاؤن پر کھیلے تھے لیکن نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے وہ دو نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔

خرم منظور

خرم منظور پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شعیب ملک اور کامران اکمل کے بعد سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔

موجودہ ٹورنامنٹ میں بھی وہ ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں اور سب سے زیادہ رنز کے اعتبار سے امام الحق اور فخر زمان کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا بین الاقوامی کریئر شاید ہی دوبارہ شروع ہو سکے۔ 2014 میں انھوں نے آخری بار ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

2016 میں وہ ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیلے تھے لیکن تین میچوں میں وہ صرف 11 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے جس کے بعد انھیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹیم سے ڈراپ کر کے احمد شہزاد کو شامل کر لیا گیا تھا اور اس وقت کے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ایشیا کپ میں ان کے سلیکشن کو اپنی غلطی سے تعبیر کیا تھا۔

خرم منظور نے پاکستانی ٹیم میں منتخب نہ ہونے پرگزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل اچھی کارکردگی کے باوجود نظرانداز کیا جانا تکلیف دہ بات ہے۔