آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فواد عالم کے صفر پر آؤٹ ہونے پر ردعمل: ’فواد عالم کے آؤٹ پر بادل بھی رو رہے ہیں‘
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
فواد عالم کے لاکھوں شائقین کی دعا اس وقت قبول ہوئی جب انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے لیگ سپنر شاداب خان کی جگہ انھیں ٹیم میں شامل کیا۔ امید تھی کہ ان کی شمولیت سے پاکستان کی کمزور بیٹنگ کو سہارا ملے گا۔
تجربہ کار بلے باز اسد شفیق محض پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ان کے بعد فواد عالم اپنی باری کھیلنے کے لیے پہنچے۔ پاکستان کے 117 رنز پر چار آؤٹ ہوچکے تھے۔
لیکن کریز پر فواد کے کھڑے ہونے اور بلا پکڑنے کے انداز نے کمنٹیٹرز کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔
پھر کچھ یوں ہوا کہ:
پہلی گیند: فواد عالم سٹورٹ براڈ کی گیند کی طرف تیزی سے اچھلتے ہوئے لپکے اور اسے بائیں جانب بلے سے روک دیا۔
دوسری گیند: فواد نے براڈ کی باہر کی جانب سوئنگ ہوتی گیند کو بھانپ لیا اور اسے کیپر کی طرف جانے دیا۔
تیسری گیند: اس مرتبہ فواد براڈ کی گیند کو کھیلنے کے لیے فرنٹ فٹ پر آئے لیکن گیند باہر نکلی اور وہ اسے کھیل نہ سکے۔ ان کی قسمت اچھی رہی کہ کیپر کے پاس جانے سے قبل گیند پر ان کے بلے کا ایج نہیں لگا تھا۔
چوتھی گیند: نیا اوور اور کرِس ووکس کے ہاتھ میں گیند۔ ووکس نے گیند اچھی لینتھ پر کرائی اور فواد عالم اسے کھیل نہ سکے۔ گیند سیدھی پیڈز پر جا لگی لیکن اپیل کے باوجود امپائر نے آؤٹ نہیں دیا۔ انگلش کپتان جو روٹ نے ریویو لیا اور تھرڈ امپائر نے انگلینڈ کے حق میں فیصلہ کیا۔ فواد عالم کو پویلین کی جانب روانہ ہونا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس طرح فواد عالم 11 سال بعد ٹیم میں واپسی پر اپنی پہلی اننگز میں صرف چار گیندوں کے مہمان بنے اور صفر پر آؤٹ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیے
دسمبر 2009 کے بعد سے فواد عالم 56.48 کی اوسط سے 111 ڈومیسٹک مقابلوں میں 7965 رنز بنا کر نمایاں رہے تھے۔ انھوں نے ایک ایسی فہرست میں اپنا نام بنایا جس میں کمار سنگاکارا، روحت شرما اور اے بی ڈیویلیئرز جیسے نام بھی شامل ہیں۔
اسی لیے ان کے شائقین کو حیرانی تھی کہ انھیں گذشتہ 11 سال کے دوران ٹیم میں کیوں شامل نہ کیا گیا۔ لیکن فواد عالم کے ناقد آج بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی غیر معمولی تکنیک بین الاقوامی مقابلوں کے لیے موزوں نہیں۔
فواد عالم نے اپنا آخری میچ 2019 میں سری لنکا کے خلاف کھیلا تھا جس میں انھوں نے 168 رنز کی باری کھیلی تھی۔
'فواد عالم کے آؤٹ پر بادل بھی رو رہے ہیں'
فواد عالم کے آؤٹ ہوئے تو کچھ ہی دیر بعد بادل برس پڑے اور بارش نے کھیل روک دیا۔
اس پر سوشل میڈیا پر ان کے ایک مداح نے لکھا کہ: 'فواد عالم کے آؤٹ پر بادل بھی رو رہے ہیں۔'
کئی لوگوں نے فواد کی وکٹ کو ان کی بدقسمتی کا تسلسل قرار دیا۔
لیکن کھیلوں کے صحافی فیضان لاکھانی کے مطابق 'فواد عالم کی ایک اننگز اور سب چھری کانٹے لے کر نکل پڑے۔
'تھوڑا صبر کرلیں، پھر نہیں چلا، سب مل کر بولیں گے۔ لیکن جو پیمانہ فواد کے لیے رکھیں، وہی دیگر کے لیے بھی ہو۔'
ایک صارف نے لکھا کہ 'فواد عالم کا 3911 دن کا انتظار مگر کہانی صرف چار گیندوں میں ختم۔'
یاسر بزدار نامی صارف نے طنزیہ کہا کہ 'آئی سی سی کا دوسری اننگز میں فواد عالم کو دو باریاں دینے کا اصولی فیصلہ۔'
عمران لکھتے ہیں کہ 'فواد عالم کو کم از کم 5 ٹیسٹ میچز میں کھلانا چاہیے۔ اظہر علی، اسد شفیق بھی تو خراب کارکردگی پر کھیل رہے ہیں۔'
ارحم کے مطابق 'شاداب خان کو نہ کھلانا سب سے بڑی غلطی تھی۔ اب اس کا نقصان میچ ہارنے کی صورت میں ہوگا۔'
کئی صارفین نے ان کے کھیلنے کے انداز پر بھی تنقید کی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی تکنیک کے ساتھ فواد بیرون ملک وکٹوں پر کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
کئی شائقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ دوسری اننگز میں سکور کر پائیں گے۔
لیکن یہ تو اب وقت ہی بتا سکتا ہے۔ ویسے ابھی دوسری اننگز اور تیسرا ٹیسٹ بھی باقی ہیں۔