کورونا وائرس اور پاکستان ٹیم کا دورہ انگلینڈ : پروفیسر کی پھرتیاں اور فواد کی قسمت

کیا محمد حفیظ نے اپنے طور پر کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروا کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی؟ یہ سوال سوشل میڈیا صارفین اور ان کے مداحوں اور ناقدین، سب کے لبوں پر ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ فی الحال اس بارے میں خاموش ہے، لیکن یہ معاملہ ہے کیا؟

گذشتہ روز دورہ انگلینڈ سے پہلے کیے جانے والے معمول کے کورونا ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سات کھلاڑیوں کے رزلٹ مثبت آئے تھے جن میں محمد حفیظ، وہاب ریاض، محمد رضوان، محمد حسنین، فخر زمان، عمران خان، کاشف بھٹی اور ٹیم سپورٹنگ سٹاف کے ملنگ علی شامل تھے۔

تاہم بدھ کے روز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے ایک پیغام میں محمد حفیظ نے، جنھیں عام طور پر ’پروفیسر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنے ایک اور کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ لگایا جس کے مطابق ان میں اور ان کے خاندان والوں میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے محمد حفیظ کی عقلمندی کو خوب سراہا جبکہ اکثر صارفین نے دوسرے کھلاڑیوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ پی سی بی کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹوں پر تکیہ کرنے کی بجائے دوبارہ ٹیسٹ کروا لیں۔

ایک صارف نے خوش ہوتے ہوئے لکھا کہ ایسے ہی حفیظ کو پروفیسر نہیں کہتے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم اس حوالے سے یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حفیظ کو اپنے ٹیسٹ کے نتیجے کے بارے میں پی سی بی کو بتانے کی بجائے اس کا اعلان سوشل میڈیا پر کرنا چاہیے تھا؟

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے طور پر تمام کھلاڑیوں کے کووڈ 19 ٹیسٹ کرائے ہیں تو کیا کھلاڑیوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے طور پر دوبارہ ٹیسٹ کروائیں؟

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق میڈیا کو تو یہی بتایا گیا تھا کہ ان دس کھلاڑیوں کے دوبارہ ٹیسٹ 14 روز کے بعد ان کی آئسولیشن ختم ہونے پر ہوں گے۔

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اب اس نئی صورتحال میں کس نتیجے کو درست تسلیم کرے گا؟ پی سی بی کی جانب سے کروائے گئے ٹیسٹ کو یا اس ٹیسٹ کو جو کوئی کھلاڑی اپنے طور پر کرواتا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے جن دس کھلاڑیوں کے کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آئے تھے انھیں فوری طور پر آئسولیشن کے لیے کہہ دیا گیا تھا جبکہ 25 جون کو بقیہ کرکٹرز کے دوبارہ ٹیسٹ ہونے ہیں جن کے نتائج ٹیم کی روانگی سے ایک دن پہلے آئیں گے۔

دوسری جانب پی سی بی نے کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پہلے سے اعلان کردہ چار ریزرو کھلاڑیوں کے علاوہ بھی مزید کھلاڑیوں کو بیکاپ کے طور پر تیار رہنے کے لیے کہا ہے۔

اس سلسلے میں چیف سلیکٹر مصباح الحق ساتھی سلیکٹرز کے ساتھ مشاورت کر کے آٹھ سے دس کھلاڑیوں کے ناموں کو حتمی شکل دینے والے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے کی صورت میں انہیں انگلینڈ طلب کیا جاسکے۔

ان کھلاڑیوں میں محدود اوورز کے فارمیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک وکٹ کیپر کو ضرور شامل کیا گیا ہے کیونکہ محمد رضوان کے مثبت نتیجے کے بعد اب ٹیم میں صرف ایک وکٹ کیپر، سرفراز احمد ہی موجود ہیں۔

بیک اپ کھلاڑیوں کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے بعد ان کھلاڑیوں کے کووڈ 19 ٹیسٹ لیے جائیں گے اور ساتھ ساتھ ان کے ویزوں کے لیے ضروری کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کیا فواد عالم کی دعائیں کام آ گئیں؟

جہاں محمد حفیظ کے کورونا ٹیسٹ پر تنازعہ جاری ہے وہیں ایک اور پاکستانی کھلاڑی کا ٹیسٹ منفی آنے پر کرکٹ کے مداح پھولے نہیں سما رہے ہیں اور یہ کھلاڑی ہیں فواد عالم۔

حارث سہیل کی جانب سے انگلینڈ کے دورے پر جانے سے معذرت ہو ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آنا سب سے لبوں پر ایک ہی بات ہے اور وہ یہ کہ لگتا ہے کہ فواد عالم کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں اب تو وہ انگلینڈ میں ضرور کھیلیں گے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں انتہائی شاندار کارکردگی دکھانے کے باوجود کئی سالوں سے نظرانداز کیے جاتے رہے ہیں تاہم موجودہ چیف سلیکٹر مصباح الحق نے انہیں سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا اور اب وہ انگلینڈ کے دورے پر جانے والی ٹیم کا حصہ بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آنے پر خاصے جذباتی نظر آئے۔

ایک صارف نے شاعری کا سہارا لیا اور لکھا: 'وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔'

اکثر صارفین فواد عالم کو اچھی قسمت کی دعائیں دیتے بھی دکھائی دیے۔ جب ایک تجزیہ کار کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پاکستان کو دورہ انگلینڈ فوراً منسوخ کر دینا چاہیے تو ایک صارف نے لکھا کہ خبردار کسی نے دورہ منسوخ کرنے کی بات کی، اتنی مشکل سے فواد عالم کو موقع ملنے والا ہے۔'