آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ: نمایاں پاکستانی لیگ سپنرز میں کون کتنا کامیاب؟
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کرکٹ میں لیگ سپن بولنگ کو وکٹ حاصل کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ رائٹ آرم لیگ سپنرز اکثر رنز دینے کے حوالے سے مہنگے بھی ثابت ہوتے ہیں لیکن جب وہ وکٹیں بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں تو یہ سودا کچھ مہنگا نہیں ہوتا۔
پاکستان کو اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں متعدد ورلڈ کلاس رائٹ آرم لیگ سپنرز میسر آئے ہیں جنھوں نے پاکستان کی کئی فتوحات میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا ہے۔
اگر ہم کارکردگی کے اعتبار سے پاکستانی لیگ سپنرز کاجائزہ لیں تو ہمیں پانچ نام نمایاں نظر آتے ہیں جن میں دانش کنیریا، عبدالقادر، یاسر شاہ، مشتاق احمد اور انتخاب عالم شامل ہیں۔
کس بولر کی کتنی وکٹیں؟
دانش کنیریا 261 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب لیگ سپنر ہیں۔
وہ وکٹوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے وسیم اکرم کی 414، وقار یونس کی 373 اور عمران خان کی 362 وکٹوں کے بعد پاکستان کے چوتھے سب سے کامیاب بولر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالقادر کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 236 ہے۔ یاسر شاہ لارڈز ٹیسٹ کے اختتام تک 221 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ مشتاق احمد نے 185 اور انتخاب عالم نے 125 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی
پاکستان میں وکٹیں عام طور پر سپنرز کے لیے مددگار رہی ہیں لہذا ان وکٹوں پر سپنرز کا کامیاب رہنا سمجھ میں آتا ہے۔
دانش کنیریا نے اپنے 61 میں سے 25 ٹیسٹ میچ پاکستان میں کھیلے ہیں ۔ان کی 261 میں سے 109 وکٹیں پاکستان میں کھیلے گئے ان 25 ٹیسٹ میچوں میں حاصل ہوئی ہیں۔
عبدالقادر نے اپنے 67 میں سے 40 ٹیسٹ میچ پاکستان میں کھیلے ہیں اور اُن کی حاصل کردہ 236 میں سے 167 وکٹیں پاکستان میں ہیں۔
یاسر شاہ نے اپنے 40 ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان میں صرف دو ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں ان کی وکٹوں کی تعداد چھ ہے۔ چونکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم اپنی بین الاقوامی کرکٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے لہذا یاسر شاہ نے متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے 17 ٹیسٹ میچوں میں 116 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
مشتاق احمد نے اپنے 52 میں سے 21 ٹیسٹ میچ پاکستان میں کھیلے ہیں جن میں انھوں نے 67 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
انتخاب عالم نے اپنے 47 ٹیسٹ میچوں میں سے 21 پاکستان میں کھیلے اور اپنی 125 میں سے 71 وکٹیں پاکستان میں حاصل کیں۔
ملک سے باہر کون کتنا کامیاب؟
دانش کنیریا نے ملک سے باہر کھیلے گئے 30 ٹیسٹ میچوں میں 139 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ 31 وکٹیں انڈیا میں ہیں۔ وہ آسٹریلیا میں 24 اور انگلینڈ میں 20 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان سے باہر کنیریا نے نو بار اننگز میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔
عبدالقادر ملک سے باہر زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے اور 27 ٹیسٹ میچوں میں صرف 68 وکٹیں حاصل کر سکے۔ انگلینڈ میں وہ سات ٹیسٹ میچوں میں 40 رنز کی اوسط سے 21 وکٹیں حاصل کر پائے۔ آسٹریلیا میں پانچ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے صرف 12 وکٹیں حاصل کی ہیں جن کی اوسط 61 بنتی ہے۔
انڈیا میں وہ چھ ٹیسٹ میچوں میں 69 کی اوسط سے صرف چھ وکٹیں لینے میں کامیاب رہے جو حیران کُن ہے۔ نیوزی لینڈ میں انھوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں 52 رنز کی اوسط سے دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔
عبدالقادر ملک سے باہر صرف تین مرتبہ اننگز میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کر پائے ہیں اور کسی میچ میں دس وکٹیں ایک مرتبہ حاصل کر پائے ہیں۔
یاسر شاہ ملک سے باہر سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
سری لنکا میں انھوں نے صرف تین ٹیسٹ میچوں میں 24 اور ویسٹ انڈیز میں بھی تین ٹیسٹ میچوں میں 25 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ دونوں ٹیسٹ سیریز پاکستانی ٹیم یاسر شاہ کی شاندار بولنگ کی وجہ سے جیتی تھی۔
یاسر شاہ انگلینڈ میں پانچ ٹیسٹ میچوں میں 27 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ وہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں کامیاب ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ آسٹریلیا میں کھیلے گئے پانچ ٹیسٹ میچوں میں وہ 79 کی اوسط سے صرف 12 وکٹیں لے پائے ہیں۔
یاسر شاہ نے ملک سے باہر ( متحدہ عرب امارات شامل نہیں) 21 ٹیسٹ میچوں میں 99 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں جن میں آٹھ مرتبہ اننگز میں پانچ یا اس سے زائد اور ایک میچ میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔
دانش کنیریا کی طرح مشتاق احمد کا بھی ملک سے باہر ریکارڈ متاثر کُن ہے۔ انھوں نے 31 ٹیسٹ میچوں میں 118 وکٹیں حاصل کی ہیں جن میں چھ بار اننگز میں پانچ وکٹیں اور ایک بار میچ میں دس وکٹیں شامل ہیں۔
مشتاق احمد نے آسٹریلیا میں چار ٹیسٹ میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انگلینڈ میں وہ آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 32 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں بھی انھوں نے بالترتیب تیرہ اور سترہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان تمام چاروں ملکوں میں مشتاق احمد نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔
انتخاب عالم نے ملک سے باہر 26 ٹیسٹ میچوں میں 54 وکٹیں حاصل کیں ہیں۔ انگلینڈ میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 23 ہے لیکن ان کی سب سے اچھی کارکردگی نیوزی لینڈ میں رہی جہاں انھوں نے 25 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کیں جس میں ڈنیڈن میں 11 وکٹوں کی وہ کارکردگی بھی شامل ہے جس کی بدولت پاکستان نے ملک سے باہر اولین ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔
کونسا بولر کتنا مہنگا؟
پاکستانی لیگ سپنرز ہر بار کامیاب نہیں رہے۔ کئی بار ان کی گیندوں پر رنز کی بھرمار بھی رہی ہے۔ اس معاملے میں دانش کنیریا سرفہرست نظر آتے ہیں۔
دانش کنیریا نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 39 مرتبہ اننگز میں سو یا اس سے زائد رنز دیے ہیں، زیادہ رنز کے اعتبار سے ان کی سب سے خراب کارکردگی 194 رنز کے عوض دو وکٹ ہے جو سنہ 2007 میں انڈیا کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں رہی تھی۔
نو مرتبہ دانش کنیریا نے اننگز میں سو سے زیادہ رنز دیے لیکن ساتھ میں پانچ یا زائد وکٹیں بھی حاصل کیں۔
عبدالقادر 26 مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں سو یا زیادہ رنز دے چکے ہیں۔
یاسر شاہ 20 مرتبہ اننگز میں سو سے زیادہ رنز دے چکے ہیں۔ دیگر چار بولرز کے مقابلے میں وہ اس لیے آگے ہیں کہ تین مرتبہ ایک اننگز میں ان کی بولنگ پر دو سو سے زیادہ رنز بھی بن چکے ہیں۔
ان کی سب سے غیر متاثر کن کارکردگی سنہ 2016 میں انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں رہی تھی جہاں انھوں نے ایک وکٹ کے حصول کے لیے 213 رنز دے ڈالے تھے۔
مشتاق احمد کے کریئر میں ایسی پندرہ اننگز ہیں جن میں انھوں نے سو یا زیادہ رنز دیے ہیں، سب سے غیر متاثر کن کارکردگی 194 رنز کے عوض تین وکٹیں جو سنہ 1999 میں آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں رہی۔
انتخاب عالم اپنے کریئر میں 11 مرتبہ اننگز میں سو سے زیادہ رنز دے چکے ہیں ان میں دو مواقع ایسے ہیں جن میں انھوں نے سو سے زائد رنز دے کر پانچ یا زائد وکٹیں بھی حاصل کیں۔
سو سے زائد رنز دیتے ہوئے ان کی بہترین کارکردگی سنہ 1989 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں رہی جہاں انھوں نے 160 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔