آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: دوسرے دن کا کھیل شان مسعود اور پاکستانی بولرز کے نام رہا، انگلینڈ کے چار کھلاڑی آؤٹ
مانچسٹر میں پاکستان اور انگلینڈ کے مابین پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل پاکستان کے نام رہا۔
دن کے اختتام پر انگلینڈ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنائے۔ اس وقت کریز پر اولی پوپ اور جوس بٹلر موجود ہیں۔ پوپ اپنی نصف سنچری کے قریب ہیں اور اب تک 46 رنز بنا چکے ہیں۔
فاسٹ بولر محمد عباس نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور یاسر شاہ نے ایک، ایک انگلش کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 326 رنز بنائے اور اس میں 156 رنز کی باری کے ساتھ شان مسعود کا کردار سرِفہرست رہا۔
شاہین شاہ کے پہلے ہی اوور میں روری برنز ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔ جبکہ ڈوم سبلی محمد عباس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔
اس کے بعد بین سٹوکس محمد عباس کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
یاسر شاہ کی گیند پر جو روٹ کی ایج لگی اور محمد رضوان نے ان کا کیچ پکڑا۔ اس طرح انگلینڈ کے کپتان بھی پویلین لوٹ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شان-دار سنچری
پاکستانی ٹیم 326 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ شان مسعود انگلینڈ میں اپنی پہلی سنچری بنا کر 156 رنز پر آؤٹ ہوئے۔
شان نے اپنی 156 رنز کی اننگز میں 18 چوکے اور دو چھکے لگائے۔ یاد رہے کہ انھوں نے اپنی گذشتہ تینوں اننگز میں سنچریاں بنائی ہیں۔
سٹیورٹ براڈ اور جوفرا آرچر نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز دو وکٹوں کے نقصان پر 139 رنز سے دوبارہ شروع کی تو بابر اعظم، پھر اسد شفیق اور اس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان بھی اپنی اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے۔
جمعرات کو بابر اعظم اور شان مسعود نے پاکستان کی پہلی اننگز دوبارہ شروع کی تو جیمز اینڈرسن کے پہلے ہی اوور میں بابر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
ان کا کیچ سلپ میں انگلش کپتان جو روٹ نے پکڑا اور وہ اپنے پہلے دن کے سکور 69 رنز میں کوئی اضافہ نہ کر سکے۔
شان مسعود اور بابر اعظم کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 96 رنز کی شراکت ہوئی تھی۔
اس کے بعد اسد شفیق صرف سات رنز بنا کر سٹیورٹ براڈ کی گیند پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
محمد رضوان کریز پر کچھ زیادہ پُراعتماد دکھائی نہ دیے اور نو رنز بنا کر کریس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
شاداب خان نے شان مسعود کے ساتھ 100 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنے سنگلز اور ڈبلز سے انگلینڈ پر دباؤ ڈالا۔ انھوں نے تین چوکوں کے ساتھ 44 رنز بنائے لیکن وہ ڈوم بیس کو جارحانہ شاٹ مارتے ہوئے آؤٹ ہوگئے۔
جوفرا آرچر نے اپنی دو لگاتار گیندوں پر یاسر شاہ اور محمد عباس کی وکٹیں حاصل کیں۔ چائے کے وقفے کے فوراً بعد شان مسعود اور نسیم شاہ سٹیورٹ براڈ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
دوسری جانب شان مسعود جن کے لیے 2016 کا دورۂ انگلینڈ ایک ڈراؤنا خواب تھا، اس بار ابتدا میں مشکلات کے باوجود صبر کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس اننگز میں قسمت بھی ان پر مہربان رہی ہے اور سپنر ڈوم بیس نے اگرچہ دو مرتبہ انھیں چکمہ دیا لیکن دونوں مرتبہ کیپر جوس بٹلر کی غلطی کے باعث وہ بچ گئے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2016 کے بعد سے شان مسعود پہلے غیرملکی اوپنر ہیں جنھوں نے انگلینڈ میں کسی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 100 سے زیادہ گیندیں کھیلی ہیں۔
شان مسعود نے پہلے دن کے کھیل کے بعد امید کا اظہار کیا تھا کہ بابر اعظم کے ساتھ ان کی لمبی شراکت ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور کی بنیاد رکھ سکتی ہے لیکن ان کی یہ امید بر نہ آ سکی۔
اس میچ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی بار ایسا میچ کھیلا جا رہا ہے جس میں ٹی وی امپائر فرنٹ فٹ نو بال کا فیصلہ دے رہا ہے جس کا مطلب ہےکہ آن فیلڈ امپائر کو بولر کی نو بال نہیں دیکھنی پڑ رہی۔
یہ فیصلہ تجرباتی بنیاد پر کیا گیا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس میچ کے نتائج کے بعد فیصلہ کرے گی کہ آیا مستقبل میں اسے استعمال کیا جائے یا نہیں۔
اس میچ میں پاکستان کی ٹیم میں دو لیگ سپنرز شاداب خان اور یاسر شاہ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ بلے بازی کی ذمہ داری شان مسعود، عابد علی، اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق اور رضوان احمد کے کاندھوں پر ہے جبکہ فاسٹ بولنگ سکواڈ شاہین آفریدی، محمد عباس اور نسیم شاہ پر مشتمل ہے۔
ادھر جو روٹ کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم میں ڈوم سبلی، روری برنز، بین سٹوکس، اولی پوپ، جوس بٹلر، کرس ووکس، ڈوم بیس، سٹیورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن پر مشتمل ہے۔