آئی سی سی کی ٹویٹ پر پاکستانی کرکٹ مداحوں کا ردِ عمل: ’اچھے وقتوں میں سعید انور کی اوسط جے سوریا، تندولکر سے بھی زیادہ تھی‘

گذشتہ شب کرکٹ کے نگران ادارے آئی سی سی نے ٹوئٹر پر صارفین سے ایک سوال پوچھا: ’آپ کی رائے میں ایک روزہ میچز میں بہترین اوپنر کون ہے؟ جے سوریا، سچن تندولکر، ایڈم گِل کریسٹ یا سعید انور۔‘

اس ٹویٹ کے بعد حسبِ توقع پاکستانی شائقین نے اپنے کھلاڑی کی تعریفوں کے پل باندھ دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے سعید انور کا نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

جہاں آئی سی سی کے سوال کے جواب میں کچھ لوگ اعدادوشمار پیش کرتے نظر آئے تو اور کچھ لوگ ان کے کھیلنے کے انداز کا ذکر کرتے دکھائی دیے۔ سچ پوچھیں تو آئی سی سی کے اس سوال کا صحیح جواب کیا ہے، یہ آپ کی ذاتی پسند پر منحصر ہے۔

لیکن سوشل میڈیا والوں کو تو بحث کرنے کے لیے کوئی موضوع چاہیے ہوتا ہے! ایک جانب گلکرسٹ کی تباہ کن بیٹنگ کے گن گائے گئے تو کسی نے سچن کے رنز کے پہاڑ کا ذکر چھیڑ دیا۔ پاکستانیوں نے ٹیم کی تاریخ کے بہترین اوپنگ جوڑے کا لقب سعید انور اور عامر سہیل کے نام کیا تو کہیں کچھ لوگوں کو یاد آیا کہ جے سوریا اور کلووتھرانا نے کیسے شروع کے دو اورز میں مار مار کر ایک روزہ کرکٹ کا چہرہ بدل دیا تھا۔

اپنی اپنی پسند ہے جناب۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن ہماری مانیں تو آج کل کے کرکٹ مداح بڑے خوش نصیب ہیں جو ٹی ٹوئنٹی میچز تین گھنٹے میں ختم ہو جاتے ہیں۔

چھکے، چوکے، اپیل اور پھر یک دم آؤٹ! ایک لمحے کے لیے بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا اور میچ دیکھنے کے لیے سینکڑوں ویب سائٹ اور ایپ جبکہ سکور کارڈ پر نظر رکھنے کے بھی کئی ذریعے موجود ہیں۔ اور اگر اپنی لیگ کا مزہ نہ آ رہا ہو تو آئی پی ایل، بِگ بیش، پی ایس ایل، نیز کئی آپشن موجود ہیں۔

یقیناً ہر نسل کو لگتا ہے کہ ان کے زمانے میں حالات بہتر تھے، آج کل کے نوجوانوں کو کیا پتہ! مگر شاید یہ وہ ایک موقع ہے جب ’انکلوں والی باتیں‘ کچھ صحیح لگنے لگی ہیں۔

بھئی، آج کل کے نوجوانوں کی خوش نصیبی ایک طرف لیکن جو جنون 1990 کی دہائی میں پاکستانی کرکٹ میں موجود تھا اس کی کوئی نظیر نہیں۔

اس زمانے میں یوٹیوب اور آن لائن سٹریمنگ کی سہولت نہیں ہوتی تھی اور اگر کہیں میچ کے دوران سودہ لینے جانا پڑے تو موت آتی تھی۔ کبھی سڑک کے کنارے کسی کو روک کر سکور دریافت کرنا تو کبھی تندور والے سے پوچھنا ’لا لا سکور کیا ہے؟‘

لیکن جو بھی ہو، آج کل کے نوجوانوں نے یقیناً ایسے کھلاڑی نہیں دیکھیے ہوں جیسے ہم نے اپنے بچپن میں دیکھے ہیں: سٹیوو وا سے شین وارن، گانگولی سے ڈراوڈ وسیم سے وقار، لارا سے لے کر ایمبروز اور والش، گیری کرسٹن سے ایلن ڈونلڈ۔۔۔ کہاں تک سنو گے اور کہاں تک سنائوں؟

مگر واپس آتے ہیں سعید انور کی جانب۔

کرکٹ تجزیہ کار عثمان سمیع الدین نے کرک اِنفو کے لیے اپنی ایک حالیہ تحریر میں لکھا تھا کہ سعید انور کو مجرمانہ حد تک کرکٹ کی دنیا میں کم اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے زمانے میں کھیل رہے تھے جب ہر طرف بہت بڑے لیجنڈ تھے۔ ورنہ سعید انور بھی کسی سے کم نہیں تھے۔

عثمان سمیع الدین لکھتے ہیں کہ جے سوریا کے سٹیج پر آنے سے پہلے ہی سعید انور بطور اوپنر 1000 رنز کر چکے تھے اور ان کی اوسط اس وقت 85.03 تھی۔ ایک روزہ میچیوں کی تاریخ میں اس وقت تک یہ بلند ترین سطح تھی۔ 1989 میں ڈیبیو کے بعد اگلے سال آسٹریلیا کے دورے پر ان کا سٹرائیک ریٹ نو میچوں میں 105.39 تھا۔

یعنی جب تندولکر اور جے سوریا اوپنگ کا ایک نیا انداز اپنا رہے تھے، سعید انور یہ سب کر چکے تھے۔

90 کی دہائی میں کسی بھی اوپنر نے سعید انور سے زیادہ رنز نہیں کیے۔ مگر پھر وہی بات کہ ان کے گرد ستارے ہی اتنے تھے کہ ان کی قدرے خاموش شخصیت کو مداح بھول جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر کلکتہ میں ان کی 188 رنز کی اننگز کسی اور میچ میں سب سے اہم ہوتی۔ مگر وہاں، شعیب کی دو گیندوں میں دو وکٹیں، تندولکر کا رن آؤٹ، معین کا دوبارہ گارڈ لینا اور سری ناتھ کی 13 وکٹیں۔۔۔ پونے دو سو رن سے زیادہ کی اتنی شاندار اننگز کسی کو یاد ہی نہیں!

90 کی دہائی میں چالیس سے زیادہ ٹیسٹ اننگز کھیلنے والے اوپنرز میں ان کی ٹیسٹ اوسط دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اس دہائی کے اوپنرز میں اپنے ملک سے باہر کھیلنے والے بلے بازوں میں ان سے بہتر اوسط کسی کی نہیں۔

آپ کو اوول میں جے سوریا کی دو سو، مارک ٹیلر کی پشاور میں تین سہ، وانڈررز میں ایتھرٹن کی 185 تو یاد ہوں گی، کیا مگر آپ کو معلوم ہے کہ سعید انور نے بیرونِ ملک کھیلے جانے والے میچز میں 90 کی دہائی میں تین بار 150 سے زیادہ سکور کیا تھا؟

باتیں تو اور بھی ہیں اور درجہ بندی کے طریقے بھی۔ مگر آج آپ آئی سی سی کے سوال کا جواب جس بھی وجہ سے جس بھی پسندیدہ اوپنر کی شکل میں دیں، یہ ضرور یاد رکھیں کہ سعید انور ایک بڑے کرکٹر ہی نہیں، بلکہ ایک لیجنڈ تھے۔