شعیب اختر کے تبصرے پر اسد شفیق کا جواب: ’اس طرح کی بات کرنے سے پہلے بہتر یہی ہے کہ کھلاڑی کا ریکارڈ دیکھ لیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں مڈل آرڈر کے بلے باز اسد شفیق نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ دلیر نہ ہوتے تو جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ٹیسٹ سنچریاں کیسے بناتے۔
اسد شفیق کا یہ ردعمل بدھ کو ہونے والی پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویڈیو لنک گفتگو میں اس وقت سامنے آیا جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے بارے میں سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کہہ چکے ہیں کہ ’آپ دلیر نہیں ہیں۔‘
جواب میں اسد شفیق کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کسی کو یہ جواز پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ دلیر ہیں یا نہیں۔ ’اس طرح کی بات کرنے سے پہلے بہتر یہی ہے کہ کھلاڑی کا ریکارڈ دیکھ لینا چاہیے۔‘
اسد شفیق نے یہ بات ضرور تسلیم کی کہ وہ دس سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد بھی ’اپنے کریئر میں اس جگہ پر نہیں پہنچ پائے ہیں جہاں انھیں ہونا چاہیے تھا۔‘
اپنی گفتگو کے دوران دائیں ہاتھ کے بلے باز کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے حالات رہے جن کی وجہ سے وہ اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر پائے لیکن انھیں اب بھی یقین ہے کہ وہ اپنی مہارت اور صلاحیت کا بھرپور استعمال کر کے اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔
انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان کی راہ میں کوئی ذہنی رکاوٹ رہی ہے اور کہا کہ ’کوئی مینٹل بلاک نہیں ہے۔‘ بلکہ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو ڈھائی سال میں انھیں کئی چیزیں سیکھنے کو ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPCB
اسد شفیق کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کے ساتھ کھیلتے وقت صورتحال مختلف تھی اور اب صورتحال مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چیز انھیں مزید بہتر بلے باز بنانے میں مدد دے گی اور وہ اپنا تجربہ استعمال کر کے ایک درجہ مزید اوپر جاسکیں گے۔
آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں وہ ٹاپ بلے بازوں کی فہرست میں فی الحال 17ویں نمبر پر ہیں۔
اسد شفیق کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان نے ان کی ہر وقت رہنمائی کی اور انھوں نے بھی دونوں سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اب یہی وہ وقت ہے کہ انھیں اپنے کھیل کو آگے لے جانا ہے۔
چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے سے فائدہ ہوا یا نقصان؟
اسد شفیق کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر میں انھوں نے زیادہ تر چھٹے نمبر پر بیٹنگ کی ہے جہاں بڑی اننگز کھیلنا بہت مشکل ہے۔ ’اس میں آپ کے ساتھ آخری مستند بیٹسمین کھیل رہا ہوتا ہے اور پھر ٹیل اینڈر آجاتے ہیں۔
’آپ کے پاس مواقع محدود ہوتے ہیں یہی، وجہ ہے کہ اگر آپ نمبر چھ بلے باز کا ریکارڈ دیکھیں تو کسی کی بھی اوپر کے نمبر کے بلے بازوں کی طرح 18 یا 20 سنچریاں نہیں ہیں۔‘
اسد شفیق کا کہنا ہے کہ وہ سوچتے تھے کہ اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کا موقع ملا تو وہ زیادہ اچھی کارکردگی دکھا سکیں گے۔ ’کسی بھی بلے باز کا کریئر بڑی اننگز سے پہچانا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسد شفیق نے تسلیم کیا کہ انھیں نصف سنچری کو سنچری میں تبدیل کرنے کی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا اور اس پر بہت زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ گذشتہ ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی اتنی بری بھی نہیں رہی ہے لیکن اسے ٹاپ لیول کی پرفارمنس نہیں کہہ سکتے۔
اسد شفیق کا ٹیسٹ کریئر
اسد شفیق نے 74 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 39 کی اوسط سے 4593 رنز بنائے ہیں جن میں 12 سنچریاں اور 27 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ان کی 12 میں سے صرف 4 سنچریاں ان ٹیسٹ میچوں میں ہیں جن میں پاکستانی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ انھوں نے چھ سنچریاں ان میچوں میں سکور کی ہیں جن میں پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسد شفیق نے اپنے کریئر کے 74 میں سے 48 ٹیسٹ میچوں میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کی ہے اور 9 سنچریوں اور 15 نصف سنچریاں کی مدد سے 3011 رنز بنائے ہیں۔
مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی کارکردگی کا گراف نیچے آیا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرفراز احمد اور اظہر علی کی کپتانی کے 18 ٹیسٹ میچوں میں وہ صرف 2 سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔












