آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#LahoreQalandars کی فتح پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل: ’چٹکیاں نہ نوچیں، اپنی آنکھیں نہ ملیں یہ خواب نہیں واقعی حقیقت ہے، لاہور قلندرز آج جیت گئے‘
پاکستان سپر لیگ کے پانچواں ایڈیشن کا میلہ ایک بار پھر لاہور لوٹ آیا جہاں قذافی سٹیڈیم کے شائقین کے سامنے مقامی ٹیم لاہور قلندرز نے دفاعی چیمپئین کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 37 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی۔
یہ کامیابی دراصل مسلسل سات شکستوں کے بعد لاہور کے حصے میں آئی کیونکہ پچھلے برس قلندرز کو ٹورنامنٹ کے آخری چار میچوں میں شکست ہوئی تھی۔
پہلی اننگز میں 209 رنز بنانے کے بعد ہی سوشل میڈیا پر لاہور قلندرز کے مداحوں نے #LahoreQalandars اور #LQvQG جیسے ٹرینڈز پر خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
قلندرز کی جیت کے معمار اور مین آف دا میچ آسٹریلوی کھلاڑی بین ڈنک تھے جنھوں نے اپنے دوسرے میچ میں دس بلند و بالا چھکوں کی مدد سے برق رفتار 93 رنز بنائے اور ان کا پورا ساتھ دیا سمت پٹیل نے جنھوں نے 70 رنز بنائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دونوں کی 155 رنز کی شراکت کی قلندرز کو 209 تک لے گئی جس کا کوئٹہ کے بلے باز تعاقب نہیں کر سکے اور 172 پر آل آؤٹ ہو گئے۔
انڈیا سے ایک صارف نے لاہور کے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا لاہور پاکستان کی رائل چیلنجرز بینگلور ہے۔ یعنی یہ بھی آئی پی ایل کی فرنچائز آر سی بی کی طرح جب جیتے تو بڑے مارجن سے اور ہارے تو ہارتی ہی جائے۔
گو اس فتح کے باوجود لاہور قلندرز پوائنٹس ٹیبل پر بدستور آخری نمبر پر ہے لیکن اس فتح سے ایک شکست خوردہ ٹیم کےحوصلے ضرور بلند ہوں گے۔
ایک صارف نے امید ظاہر کی کہ لاہور کا آج سے شروع کیا گیا فتح کا سفر آگے بھی ایسے ہی چلے گا۔
لاہور قلندرز کے مداحوں کو اس بات کی داد ضرور دی جاتی ہے کہ وہ ٹیم کی بری پرفارمنس کے باوجود ٹیم کے مالک فواد رانا کی پذیرائی کرتے نظر آتے ہیں اور ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک پوسٹر وائرل ہوا ہے جس میں دو مداح ایک پوسٹر اٹھائے کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’جیسے بھی حالات رہیں گے، رانا تیرے ساتھ رہیں گے۔‘
ایک صارف اپنی ٹیم کی ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد جیت پر تبصرے کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ ’چلو لاہور قلندرز نے آج باقی ٹیمز کو دکھا دیا کہ جیت کسے کہتے ہیں۔ ورنہ یہ سب تو ناک رگڑ رگڑ کر آخری گیند پر ایک آدھ رن سے جیت کر لڈیاں بھنگڑے ڈالتے تھے۔‘
البتہ چند صارفین ایسے بھی تھے جو اس فتح کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔
سہیل احمد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ قلندرز نے پی ایس ایل ٹرافی جیت لی ہو۔ ’کوئی بات نہیں اگلے میچ میں پھر پرانے موڈ میں آ جاؤ گے۔‘
لاہور قلندرز کیونکہ ایک عرصے سے ہارنے کو اپنا معمول بنا بیٹھی ہے اس لیے کچھ کو تو بالکل یقین ہی نہ آیا کہ لاہور قلندرز فتح سے ہمکنار ہو گئی ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’ابھی گھر آیا تو پتا چلا کہ لاہور جیت گیا پر پتا نہیں یقین کیوں نہیں آیا۔‘
صحافی سلیم خالق نے ٹویٹ کیا کہ چٹکیاں نہ نوچیں، اپنی آنکھیں نہ ملیں یہ خواب نہیں واقعی حقیقت ہے لاہور قلندرز آج جیت گئے ہیں۔
صحافی ارشد وحید چوہدری نے لکھا کہ لاہور کا بالآخر اپنے مداحوں پر رحم آ ہی گیا۔
پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال
لاہور قلندرز کے اس وقت چار میچ کھیلنے کے بعد صرف دو پوائنٹس ہیں اور وہ ٹیبل پر بدستور آخری پوزیشن پر براجمان ہیں۔
البتہ تیسرے نمبر پر فائز گلیڈی ایٹرز کو یہ ہار مہنگی پڑ سکتی ہے، خاص طور پر 37 رنز کے مارجن سے شکست اور دس وکٹوں کا کھونا ان کے نیٹ رن ریٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت ملتان سلطانز کی ٹیم پانچ میچ کھیل کر چار میں فتوحات سمیٹنے کے بعد پہلے نمبر پر ہے جبکہ کراچی قلندرز گذشتہ دو دنوں میں دو فتوحات حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔
عام طور پر ٹیبل پر سرِ فہرست رہنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی اس وقت چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا تعاقب کیسا تھا؟
قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے پہلا اوور کرایا۔ دوسرے اوور کے لیے سمت پٹیل آئے تو اوور میں فلڈ لائٹس میں خرابی آ گئی جس کے باعث میچ کچھ دیر کے لیے رک گیا۔
چوتھے اوور کی پہلی گیند پر سمت پٹیل نے اہم کامیابی حاصل کی جب انھوں نے جیسن رائے کو چکمہ دیتے ہوئے 12 کے سکور پر بولڈ کر دیا۔
ان کے اسی اوور میں شین واٹسن نے چھکا لگایا لیکن پانچویں اوور کی پہلی گیند پر دلبر حسین نے نئے بلے باز احسن علی کو دو رنز پر کیچ آؤٹ کروا دیا۔
پٹیل نے اپنے اگلے اوور میں بڑی اہم وکٹ حاصل کی جب سرفراز احمد بھی اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے محمد حفیظ کے ہاتھوں نو رنز بنا کر کیچ ہو گئے۔
مگر قلندرز کے لیے سب سے بڑی وکٹ دلبر حسین نے اپنے دوسرے اوور میں لی جب شین واٹسن کو انھوں نے باہر جاتی ہوئی گیند کرائی جس پر واٹسن قابو نہ رکھ سکے اور کیپر کے ہاتھوں 23 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
دسویں اوور میں اعظم خان بھی 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جب سلمان ارشاد کی گیند پر محمد فیضان نے انھیں کیچ آؤٹ کر دیا۔
اپنا پہلا میچ کھیلنے والے محمد فیضان 12واں اوور کرانے آئے تو اپنے چوتھی گیند پر ہی انھوں نے محمد نواز کو 24 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
انور علی بھی 22 رنز کی شراکت کے بعد آؤٹ ہو گئے جب محمد فیضان نے انھیں چار رنز پر آؤٹ کر کے اپنی دوسری کامیابی حاصل کر لی۔
سلمان ارشاد نے وکٹوں کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور آخری اوور کی پہلی گیند پر فواد احمد اور آخری گیند پر نسیم شاہ کو آؤٹ کر کے نہ صرف اپنی ٹیم کو جتایا بلکہ ساتھ ساتھ گلیڈی ایٹرز کو آل آؤٹ بھی کر دیا۔
لاہور قلندرز کی اننگز میں کیا ہوا؟
گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ایک بار پھر ٹاس جیت لیا جس کے بعد انھوں نے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔
ابتدا میں ان کا فیصلہ درست لگا جب لاہور کے تین کھلاڑی صرف 50 رنز کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئے لیکن اس کے بعد ٹورنامنٹ میں اپنا دوسرا میچ کھیلنے والے بین ڈنک اور سمت پٹیل نے قلندرز کے لیے پانسہ پلٹ دیا۔
ان دونوں بلے بازوں نے 12 اوورز میں 155 رنز کی بہترین شراکت قائم کی جس میں بین ڈنک نے 43 گیندوں پر 93 رنز اور سمت پٹیل نے 40 گیندوں پر 71 رنز بنائے جس کی مدد سے لاہور قلندرز نے اپنے 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 209 رنز بنا سکے۔
ان دونوں نے مل کر گلیڈی ایٹرز کے مشکل بولنگ اٹیک کو خاطر میں لائے بغیر ان کے پرخچے اڑا دیے جس میں بین ڈنک کے دس بلند و بالا چھکے بھی شامل تھے۔
گلیڈی ایٹرز کی طرف سے فواد احمد اور محمد حسنین نے قدرے بہتر بولنگ کی اور بالترتیب 28 اور 32 رنز دے کر ایک ایک وکٹ لی۔
لیکن ان کا ساتھ دینے میں دوسرے بولرز کامیاب نہیں ہوئے اور نسیم شاہ اور بین کٹنگ نے 12 رنز فی اوور کی اوسط سے بولنگ کی۔
میچ شروع ہونے پر جب قلندرز نے بیٹنگ شروع کی تو گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد نواز نے بولنگ کا آغاز کیا جبکہ دوسری اوور نسیم شاہ نے پھینکا جس میں لِن نے انھیں دو زوردار چوکے لگائے۔
تیسرے اوور میں فخر زمان نے جارحانہ انداز اختیار کیا اور نواز کو دو چوکے لگائے۔
پانچویں اوور میں فخر زمان باؤنڈری لگانے کے چکر میں اونچا شاٹ کھیلے لیکن اسے انور علی نے کیچ کر لیا۔ انھوں نے 15 رنز بنائے۔
گلیڈی ایٹرز کی جانب سے فواد احمد نے پاور پلے کا آخری اوور کرایا جس میں قلندرز نے دس رنز حاصل کیے۔
ساتواں اوور کرانے کے لیے کوئٹہ کے کپتان نے ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بولر محمد حسنین کو بلایا جنھوں نے صرف دو رنز دیے اور کرس لن کی 27 رنز پر قیمتی وکٹ بھی حاصل کر لی۔
اگلے ہی اوور میں فواد احمد نے نئے آنے والے محمد حفیظ کو بھی چلتا کر دیا جن کا سلپ میں شین واٹسن نے شاندار کیچ لیا۔
بدھ کو قذافی سٹیڈیم میں لاہور قلندرز کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلے گی جو چھ میچوں میں پانچ پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر ہیں۔