#PSL2020: پشاور زلمی کی جانب سے دیے گئے 152 رنز کے ہدف کو کراچی کنگز نے باآسانی چھ وکٹوں سے حاصل کر لیا، بابر اعظم کی نصف سنچری

پاکستان سپر لیگ کا 15واں میچ آج راولپنڈی کے سٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں پشاور زلمی کی جانب سے دیے گئے 152 رنز کے ہدف کو کراچی کنگز نے بابر اعظم کی نصف سنچری کی بدولت باآسانی چھ وکٹوں سے حاصل کر لیا۔

لگاتار دوسری جیت کے ساتھ کراچی کنگز نے اب پانچ میچوں کے بعد چھ پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں اور وہ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ پشاور زلمی چھ میچوں میں پانچ پوائنٹس حاصل کر کے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ ہیں لیکن نیٹ رن ریٹ کم ہونے کی وجہ سے پانچویں نمبر پر ہیں۔

منگل کو ٹورنامنٹ کا 16واں میچ لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

کراچی کا تعاقب

کراچی کنگز کو میچ میں فتح دلوانے میں اہم کردار ان کے دو سٹار پلئیرز، محمد عامر اور بابر اعظم نے ادا کیا۔

عماد وسیم کا ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ محمد عامر نے اپنے پہلی ہی اوور میں درست ثابت کیا جب وہ دو وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے اور اپنے سپیل میں انھوں نے 25 رنز دے کار چار کھلاڑی آؤٹ کیے جو پی ایس ایل میں ان کی بہترین بولنگ تھی۔ اس کارکردگی پر انھیں مین آف دا میچ کا اعزاز بھی ملا۔

پشاور زلمی کے بنائے گئے 151 رنز کے جواب میں بابر اعظم نے ٹورنامنٹ میں اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کی اور ناقبل شکست 70 رنز بنائے۔ ان کا پورا ساتھ دیا ایلکس ہیلز نے جنھوں نے 27 گیندوں پر 49 رنز بنائے اور بابر کے ساتھ 101 رنز کی شراکت قائم کی جس سے کراچی کی جیت یقینی بنی۔

اس پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے یاسر شاہ نے عمدہ بولنگ کی اور اپنے ایک ہی اوور میں ہیلز اور پھر ڈیلپورٹ کو آؤٹ کر دیا تھا مگر اس وقت تک میچ زلمی کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

اس سے قبل کراچی کی اننگز کے آغاز پر حسن علی کی جانب سے پھینکے گئے پہلے اوور میں شرجیل خان نے دوسری گیند پر چوکا لگایا مگر اس کے بعد اگلی گیند پر وہ ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔

ری پلے دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ شرجیل بدقسمت تھے کیونکہ گیند لیگ سٹمپ کے باہر گری تھی اور اگر وہ ریویو لے لیتے تو فیصلہ واپس ہو جاتا۔

بابر اور ہیلز نے پہلی وکٹ گرنے کے بعد زبردست بیٹنگ کی اور نو رنز سے زیادہ کی اوسط سے 101 رنز کی شراکت قائم کی جسے اپنا پہلا میچ کھیلنے والے یاسر شاہ نے 12ویں اوور میں ختم کیا۔

اسی اوور کی آخری گیند پر انھوں نے کیمرون ڈیلپورٹ کو بھی آؤٹ کر دیا جو صرف دو رن بنا سکے۔

زلمی کی اننگز میں کیا ہوا؟

زلمی کی جانب سے اننگز کی خاص بات شعیب ملک کی ٹورنامنٹ میں پہلی ففٹی تھی اور وہ 68 رنز بنا سکے۔

اس سے پہلے پشاور زلمی کی ٹیم نے جب اننگز کا آغاز کیا تو محمد عامر نے اپنے پہلی ہی اوور میں ان کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔

میچ کی پہلی گیند پر انھوں نے ٹام بینٹم کو ایل بی ڈبلیو کر دیا جس کے لیے انھوں نے ریویو کی مدد لی جبکہ تیسری گیند پر حیدر علی سؤنگ ہوتی ہوئی گیند کو نہ کھیل سکے جو بیٹ اور پیڈ کے درمیان سے ہوتے ہوئے وکٹوں کو لگ گئی۔

اس کے بعد عامر یامین نے کامراکمل کو بھی چوتھے اوور میں چلتا کر دیا جو صرف چار رنز بنا سکے۔

اس کے بعد شعیب ملک نے پہلے لونگ سٹون کے ساتھ 47 رنز اور پھر گریگوری کے ساتھ 57 رنز کی شراکت قائم کی جس کی بدولت پشاور زلمی کی اننگز کو سہارا ملا۔

محمد عامر نے دوسری جانب اپنے شاندار بولنگ جاری رکھی اور چار اوورز کے سپیل میں 25 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں جس میں بریتھ ویٹ اور گریگور کی وکٹیں بھی شامل تھیں۔

کراچی کنگز کی جانب سے محمد عامر نے پہلا اوور پھینکا جس میں انھوں نے زبردست بولنگ کرتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کی پہلی ہی گیند پر انھوں نے ٹام بینٹن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا جس کے لیے انھیں ڈی آر ایس کی ضرورت پڑی۔ اس کے بعد دوسری گیند پر حیدر علی سے چوکا کھانے کے بعد تیسری گیند پر انھوں نے خوبصورت بال پھینکی کرائی جو بلے اور پیڈ کے بیچ سے گزرتے ہوئے سوئنگ ہوئی اور وکٹوں کو جا لگی۔

عامر یامین نے کراچی کی جانب سے دوسرا اوور کرایا جو کہ شعیب ملک نے احتیاط سے کھیلا اور میڈن جانے دیا۔

ٹورنامنٹ کے ان فارم بلے باز کامران اکمل نے محمد عامر کے دوسرے اوور میں کوورز پر شاندار چوکا لگایا۔ اس کے بعد فوراً بعد عامر نے گیند پیچھے رکھی جو کہ کامران اکمل کھیل نہ سکے اور پیڈ پر لگی۔

پرزور اپیل کو رد کیے جانے پر کراچی نے ایک بار پھر ریویو کا فیصلہ جو کہ درست ثابت نہ ہوا کیونکہ گیند لیگ سٹمپ کے باہر گری تھی۔

عامر یامین نے اپنا دوسرا اوور پھینکا جس میں انھوں نے زلمی کے سب سے کامیاب بلے باز کامران اکمل کو صرف چار رنز پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد ملک اور لِونگ سٹون کے درمیان 35 گیندوں پر 47 رنز کی اچھی شراکت قائم ہوئی اور اس سے محسوس ہوا کہ زلمی کی ٹیم شاید کچھ مزاحمت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی مگر دسویں اوور میں سپنر عمر خان نے لونگ سٹون کو 25 رنز پر آؤٹ کر دیا جن کا بابر اعظم نے باؤنڈری پر بہترین کیچ لیا۔

پشاور زلمی کی جانب سے ان کے کپتان ڈیرن سیمی آج میچ میں شرکت نہیں کر رہے جن کی جگہ پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض کپتانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اتوار کو کھیلے گئے میچ میں عماد وسیم کی قیادت میں کراچی کنگز نے مقامی ٹیم اور فیورٹ اسلام آباد یونائیٹڈ کو زبردست مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔

اس مقابلے میں جیت کے بعد کراچی کنگز نے اب تک چار میچوں کے بعد چار پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں جبکہ پشاور زلمی اس وقت پانچ میچوں کے بعد پانچ پوائنٹس پر موجود ہیں۔

تین سال قبل ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کا اس سال کے ٹورنامنٹ میں ابھی تک ملا جلا رحجان رہا ہے جہاں وہ پیر کو کھیلے گئے میچ سے قبل دو میچ جیت چکے ہیں جبکہ دو میں انھیں شکست ہوئی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ان کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا۔