#KobeBryant: کوبی برائنٹ اور ان کی بیٹی جیانا کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت پر سوشل میڈیا پر اظہار افسوس

باسکٹ بال کے لیجنڈ کھلاڑی کوبی برائنٹ کیلیفورنیا میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برائنٹ پرائیویٹ ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے، جس میں اس وقت آگ بھڑک اٹھی جب وہ کلاباسس شہر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔

کوبی برائنٹ کی ہلاکت کے خبر آنے کے بعد دنیا بھر میں لوگ ان کی حادثاتی موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹوئٹر پر کوبی برائنٹ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے حادثے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام نو افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔

ہلاک ہونے والوں میں کوبی کی تیرہ سالہ بیٹی جیانا بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں باسکٹ بال کے لیجنڈ کھلاڑی مائیکل جورڈن کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الفاظ ان کے دکھ کو بیان نہیں کر سکتے۔

’مجھے کوب سے محبت تھی وہ میرے چھوٹے بھائی کی طرح تھے۔ ہم اکثر بات کیا کرتے تھے اور میں ان کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کو بہت زیادہ یاد کروں گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی ٹویٹ میں ان کے اہلخانہ سے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

کوبی برائنٹ کی ہلاکت پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر سے لوگ افسوس کا اظہار کر رہے ہیں

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ان کی بچپن کی بہت سی یادوں میں صبح جلدی اٹھنا اور اس جادوگر کو چیزیں کرتے دیکھنا شامل ہے۔ ’زندگی بہت غیر متوقع اور بہت جلد تبدیل ہونے والی ہے‘۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے ٹوئٹر پر لکھا ’آج ایک لیجنڈ کھو گیا۔‘

سوشل میڈیا سیلیبرٹی کِم کارڈیشئن کے شوہر کانیے ویسٹ نے انسٹاگرام پر لکھا ’ان کے پاس الفاظ نہیں رہے۔‘

فٹبال کلب مانچسٹر سٹی کے کپتان ڈیوڈ سلوا نے ٹوئٹر پر لکھا ’انھیں یقین نہیں آ رہا کہ برائنٹ اب نہیں رہے۔‘

کوبی برائنٹ کیوں مشہور تھے؟

پانچ بار نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے چیمپئین رہنے والے 41 سالہ برائنٹ نے اپنے پورے 20 برس کے کرئیر کے دوران لاس اینجلس لیکرز کی جانب سے ہی کھیلا اور وہ اپریل 2016 میں ریٹائر ہوئے تھے۔

برائنٹ سنہ 2008 میں این بی اے کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ انھوں نے دو بار این بی اے میں بہترین سکورنگ کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور دو مرتبہ اولمپک چیمئین بنے۔

این بی اے میں وہ سب سے کم عمر کے کھلاڑی بھی بنے۔ ان کی کامیابیوں میں این بی اے کے 2008 کے سب سے ’قابل قدر کھلاڑی‘ ہونے کا اعزاز بھی شامل ہے۔

انھوں نے سنہ 2008 میں ٹورانٹو ریپٹرز کے خلاف 81 پوائنٹ سکور کیے جو کہ این بی اے کی تاریخ کا سنگل گیم میں دوسرا بڑا ریکارڈ ہے۔

سنہ 2018 میں انھیں مختصر دورانیے کی اینیمیٹڈ فلم ’ڈیئر باسکٹ بال‘ کے لیے آسکر سے بھی نوازا گیا تھا، پانچ منٹ کی اس فلم کی کہانی ان کے 2015 میں کھیل کے لیے لکھے گئے ایک محبت بھرے خط پر مبنی تھی۔

سنہ 2003 میں ایک 19 سالہ خاتون نے ان پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔ برائنٹ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں کے درمیان جنسی تعلق باہمی رضامندی سے قائم ہوا تھا۔ تاہم بعد میں خاتون نے عدالت میں ان کے خلاف گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے باعث عدالت نے اس کیس کو خارج کر دیا تھا۔

برائنٹ نے بعد میں معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھیں اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ خاتون اس واقعے کو ایسے نہیں دیکھتی جیسے وہ دیکھتے ہیں۔‘