بلاول بھٹو کی نقل یا طنز؟ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کہتے ہیں ’جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اپنی حاضر جوابی کے لیے مشہور ہیں۔ کپتانی اور کارکردگی کے زبردست دباؤ کے باوجود وہ پریس کانفرنسوں میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کہہ جاتے ہیں جس سے صحافیوں کو نہ صرف دلچسپ ہیڈ لائن مل جاتی ہے بلکہ ماحول میں پھیلی سنجیدگی بھی کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ون ڈے انٹرنیشنل سے ایک روز قبل کپتان سرفراز احمد کی پریس کانفرنس میں سنجیدہ سوال جواب کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک قہقہے بلند ہوگئے۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ بارش کی وجہ سے پچ اور گیلی آؤٹ فیلڈ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
سرفراز احمد کا جواب کچھ یوں تھا ’پچ تو ہم نے ابھی دیکھی نہیں ہے کہ یہ کیسی بنی ہے اور جہان تک رہی بات آؤٹ فیلڈ کی تو جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔‘
آخری جملہ سرفراز احمد نے ٹھہر ٹھہر کر ادا کیا اور ہنس دیے جس کے بعد پریس کانفرنس میں زبردست قہقہہ بلند ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔
بلاول بھٹو کا یہ جملہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا تھا اور اس پر مختلف تبصرے ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کپتانی کا مستقبل
سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر قطعاً پریشان نہیں ہیں کہ انھیں صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے کپتان بنایا گیا ہے۔ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ جس فارمیٹ میں کھیلیں پاکستان کے لیے اچھی کارکردگی دکھائیں۔
سرفراز احمد نے یہ بھی کہا کہ عمر اکمل ابھی ٹیم میں نہیں آئے ہیں جہاں تک رضوان کا تعلق ہے تو ٹیم میں ان کا کردار مختلف ہے۔ وہ مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر ٹیم میں منتخب ہوئے ہیں جبکہ وہ (سرفراز) وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور پر ٹیم میں ہیں لہذا انھیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
سرفراز احمد سے جب بھارتی کمنٹیٹر سنجے منجریکر کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا، جس میں انھوں نے پاکستانی ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ون بننے پر حیرانی ظاہر کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سنجے منجریکرکو چاہیے کہ وہ پریشان ہونے کی بجائے اعدادوشمار دیکھیں کہ پاکستانی ٹیم نے کس کس ٹیم کو کہاں کہاں ہرایا ہے۔











