فٹبال کا جنون: کلیم اللہ کا کرغستان سے عراق تک کا سفر

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے انٹرنیشنل فٹبالر کلیم اللہ نے پانچ سال قبل کرغستان میں لیگ کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا اور یہ سفر انھیں امریکہ اور ترکی سے ہوتے ہوئے اب عراق لے آیا ہے جہاں وہ اس وقت النجف کلب کی جانب سے عراقی پریمیئر لیگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’عراق کے بارے میں ہم یہی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ یہ ایک جنگ زدہ ملک ہے جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔ ابتدا میں میرے ذہن میں بھی یہی باتیں تھیں لیکن میں نے عراق میں موجود اپنے فٹبالر دوستوں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔

’اب جب میں عراق میں کھیل رہا ہوں تو مجھے اندازہ ہوا ہے کہ یہ ایک پُر امن ملک ہے جہاں سپورٹس اور خاص کر فٹبال سے لوگ جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں۔‘

کلیم اللہ سے جب پوچھا گیا کہ عراق میں کھیلنے کی کوئی خاص وجہ ہے تو انھوں نے بتایا کہ النجف کلب نے انہیں کھیلتا دیکھا، آزمائشی طور پر موقع دیا اور پھر معاہدہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

کلیم اللہ ترکی میں لیگ کھیل رہے تھے تو اسی دوران عراقی النجف کلب نے بھی ترکی میں اپنا کیمپ لگایا ہوا تھا۔ النجف کلب کو کلیم اللہ کی پوزیشن پر کھیلنے کے لیے ایک کھلاڑی کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کلیم اللہ کو ایک دوستانہ میچ کھیلنے کی پیشکش کی۔

’میں نے وہ میچ کھیلا اور اس میں گول بھی کیا۔ النجف کلب کے کوچز نے مجھے باقاعدہ کھیلنے کی پیشکش کردی اس طرح میں اس کلب میں شامل ہو گیا۔ ‘کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ عراق کی لیگ انھیں مزید آگے جانے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے۔‘

کلیم اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہر فٹبالر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیرون ملک اچھی لیگ میں حصہ لے کیونکہ اس سے آپ کو نہ صرف انٹرنیشنل ایکسپوژر ملتا ہے بلکہ آپ کو اچھے کوچز سے سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور آپ کے کھیل میں بہتری آتی ہے۔‘

کلیم اللہ کے مطابق ہر لیگ کا اپنا معیار ہے اور انھیں ان لیگس میں کھیلنے سے بہت فائدہ ہوا ہے خاص کر ان کے اعتماد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’عراقی کلب نے اگر مجھے کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے تو یہ صرف اس لیے کہ میں نے کرغستان، امریکہ اور ترکی کے اچھے کلبس کے خلاف کھیل کر اپنے گیم کو اچھا بنایا اور مجھے امید ہے کہ میں مزید آگے جاسکتا ہوں۔‘

کلیم اللہ کو اس بات کا بہت افسوس ہے کہ پاکستان میں فٹبال پر سیاست نے کھیل اور کھلاڑیوں کو تباہ کردیا ہے۔ وہ اس کا ذمہ دار پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات کو قرار دیتے ہیں۔

’میں ملک سے باہر جب دیکھتا ہوں کہ ایک عام فٹبال کلب کے پاس اپنا گراؤنڈ ہے، کھیلنے کی بہترین سہولیات موجود ہیں تو مجھے اپنے ملک میں فٹبال کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بین الاقوامی معیار کا اسٹیڈیم تو دور کی بات کھیلنے کی بنیادی سہولتیں بھی نہیں ہیں۔‘

کلیم اللہ کا کہنا ہے کہ ’فیصل صالح حیات نے بارہ سال سے ہماری فٹبال کو تباہ کردیا ہے وہ ایک ٹریننگ گراؤنڈ تک تیار نہیں کرسکے جہاں ہمارے فٹبالرز ٹریننگ کرسکیں۔ فیفا کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ فیصلے کے بجائے پاکستانی فٹبال کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کرے۔ ہمارے فٹبالرز ہر بڑے ایونٹ میں شرکت سے محروم ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ ہماری فٹبال اندھیروں میں گھر چکی ہے۔‘