آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بچے کی زبانی ہلاکت کی کہانی سننا مناسب ہے؟
پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے ہاتھوں پاکستان کے شہر ساہیوال میں چار افراد کی ہلاکت اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعے پر جہاں سوشل میڈیا پر پولیس شدید تنقید کا نشانہ بنی وہیں مقامی میڈیا کو بھی لوگوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس واقعے کے بعد بچ جانے والے بچوں کو بجائے حفاظت میں لینے کے میڈیا سے بات کرنے دی گئی جس پر ڈان لاہور کے ایڈیٹر اشعر رحمٰن نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا دن کی دوسری بری شوٹنگ پہلے پولیس کی جانب سے اور پھر میڈیا کی جانب سے۔ یااللہ رحم
ٹوٹر کی ایک صارف حمیرا لکھا کہ ’آپ ایک بچے سے بغیر کسی رشتے دار کے موجود ہوتے کس طرح اس کے ماں باپ کے وحشیانہ قتل کی سٹوری بار بار سن رہے ہیں اور وڈیو بنا کر پوائنٹ سکور بھی کر رہے ہیں۔۔۔‘
اس بحث کی زد میں موقع پر وڈیو بنانے والے بھی آئے۔
اس ٹویٹ کے جواب میں سبحان نے ٹویٹ کی کہ ’ویڈیو موجود ہونے سے کم سے کم اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گاڑی میں دہشتگرد تھے یا ان کے پاس بھی اسلحہ تھا۔ کم سے کم ایک بندے کو ویڈیو ضرور بنانی چاہیے ایسے واقعات کی۔’
سوشل میڈیا پر صارفین نے پولیس مقابلوں کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ان کا موقف تھا کہ اگر پولیس کا موقف درست بھی ہے تو ملزمان یا مشکوک افراد کو زندہ گرفتار کیا جانا چاہیے انہیں بغیر مقدمہ چلائے مارنا غلط ہے۔
ٹوٹر صارف عبداللہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’پولیس اُنہیں گرفتار کر سکتی تھی اور اگر وہ بھاگ رہے تھے تو اُن کے ٹائیروں پر گولی چلاتے۔ ایک روکی ہوئی گاڑی پر گولیاں چلانا پاگل پن ہے۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان۔ پولیس میں اصلاحات کہاں گئیں۔ اُن کے طریقہ کار کا کیا؟ ہم ان افسران کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
اس موضوع پر سیاسی بحث بھی چھڑ گئی اور مختلف سیاسی حلقوں کے حمایتی بھی فوری حرکت میں آگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدنان حفیظ نے ٹوٹر پر لکھا کہ’۔۔۔ماڈل ٹاؤن کی قانونی پولیس کارروائی پر ٹسوے بہاتے یوتھیوں کی سانحہ ساہیوال پر بولتی بند ہے۔’
اسی تناظر میں پی ٹی آئی کی حمایت میں ٹویٹ کرنے والے متحرک ایکٹیوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر کے ذریعے پی ایم ایل این کو نشانہ بنایا۔
تحقیقات اور کارروائی کے جو وعدے اس واقعے کا بعد کیے گئے ہیں ان پر بھی لوگوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اسی بارے میں سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ کی جو ایک عرصے سے ایسے واقعات کے بارے میں آواز اُٹھا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کیا ہم نے نقیب محسود، انتظار، مقصود اور عمل عمر کے انکاؤنٹر کیسز سے کچھ نہیں سیکھا؟ اب ساہیوال کا سانحہ۔ پولیس کا دفاع کرنے کے بجائے حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور شفاف تحقیقات کروا کے اس کے ذمہ دار افراد کو سزا دینی چاہیے۔’
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تحقیقات کی ڈیمانڈ بھی کی جا رہی ہے اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی۔ حکام اور عدالت کے فیصلوں میں تو وقت لگے گا لیکن سوشل میڈیا کی عدالت اپنا فیصلہ پہلے ہی کر چکی ہے۔