کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کا پہلا دن جنوبی افریقہ کے نام

،تصویر کا ذریعہAFP
کیپ ٹاؤن میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام تک جنوبی افریقہ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 123 رنز بنائے تھے۔
پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 177 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔
پہلے دن جب کھیل ختم ہوا تو ہاشم آملہ 24 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے جبکہ جنوبی افریقہ کو پاکستان کی پہلی اننگز کا خسارا ختم کرنے کے لیے صرف 54 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔
پاکستان کو پہلی کامیابی 56 کے مجموعی سکور پر ملی جب محمد عامر نے ایلگر کو آؤٹ کیا، انھوں نے 20 رنز بنائے۔
پہلے دن کے کھیل کے آخری اوور کی آخری بال پر جنوبی افریقہ کی دوسری وکٹ گر گئی جب 123 کے مجموعی سکور پر شان مسعود نے مارکرام کو 78 کے انفرادی سکور پر بولڈ کر دیا۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو پاکستانی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا، پاکستان کی جانب سے شان مسعود اور سرفراز احمد کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جنوبی افریقی بالروں کا پر اعتماد انداز میں سامنا نہ کر سکا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اولیوئیر نے چار، ڈیل سٹین نے تین، ربادہ نے دو اور فلینڈر نے ایک وکٹ حاصل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی جانب سے امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا لیکن پانچویں ہی اوور میں فخر زمان صرف ایک رن بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کی وکٹ ڈیل سٹین نے حاصل کی۔
اس کے تھوڑی ہی دیر بعد امام الحق کو ورنون فلینڈر نے آٹھ رنز کے سکور پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ اس کے ڈؤآن اولیوئیر نے اپنی پہلے ہی اوور میں اظہر علی کو زبردست باؤنسر کی مدد سے دو رنز پر کیچ آؤٹ کرا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس موقع پر اسد شفیق نے مثبت بیٹنگ کی اور 26 گیندوں پر 20 رنز بنائے اور لگ رہا تھا کہ یہ شراکت پاکستان کو مشکلات سے نکال لے لیکن پھر رباڈا کی گیند پر وہ آؤٹ ہو گئے۔
بابر اعظم سے امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ اولیوئیر کی گیند پر خود کو بچا نہ سکے اور دو رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے بارے میں مزید پڑھیے
کھانے کے وقفے کے بعد شان مسعود اور سرفراز احمد کے درمیان 60 رنز کی شراکت ہوئی، شان مسعود 44 رنز بنا کر ربادہ کی دوسری وکٹ بنے۔
سرفراز احمد نے نو چوکوں کی مدد سے 56 رنز کی اننگز کھیلی اور اولیوئیر کی بال پر ڈی کاک کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ یہ اس اننگز میں اولیوئیر کی تیسری وکٹ تھی۔
یاسر شاہ بھی صرف چار رنز بنا کر اولیوئیر کا چوتھا شکار بنے۔
پاکستان کی نویں وکٹ 163 کے مجموعی سکور پر گری جب ڈیل سٹین نے محمد عباس کو صفر پر آؤٹ کیا۔
آخری آؤٹ ہونے والے بیٹسمین شاہین شاہ آفریدی تھے جو صرف تین رنز بنا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلے ٹیسٹ میچ میں چھ وکٹوں سے شکست کے بعد پاکستان نے حسن علی کو ڈراپ کر کے فاسٹ بولر محمد عباس کو واپس لایا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے بھی سپنرکیشیو مہاراج کو ڈراپ کر کے کیپ ٹاؤن کے باسی ورنون فلینڈرز کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔
اس شمولیت کا مطلب ہے کہ فاسٹ بولرز کی لیے سازگار پچ پر وہ چار بولرز کے ساتھ اتریں گے۔
سنچورین میں کھیلے گئے پہلے میچ میں پاکستان کے بلے بازوں نے ناقص کار کردگی دکھائی تھی اور ٹیم کے تین سینئیرز، کپتان سرفراز، اظہرعلی اور مڈل آرڈر بلے باز اسد شفیق کو بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ کوچ مکی آرتھر کا اس بارے میں کپتان سرفراز سے جھگڑا بھی ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے وضاحت سامنے آئی کہ ڈریسنگ روم کا ماحول دوستانہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے حارث سہیل کی واپسی متوقع تھی لیکن وہ گھٹنے کی انجری کے باعث سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔
سال 2013 میں پاکستان کے گذشتہ دورہ جنوبی افریقہ کے دوران کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی ایک موقع پر گرفت بہت مظبوط تھی لیکن سعید اجمل کی میچ میں دس وکٹیں اور اسد شفیق اور یونس خان کی سنچریوں کے باوجود پاکستان میچ چار وکٹوں سے ہار گیا۔
موجودہ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ جوہانسبرگ میں 11 جنوری سے شروع ہوگا۔











