پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: 74 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد دوسری اننگز میں کیویز کے دو آؤٹ

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز فیصلہ کن میچ کے تیسرے روز کے اختتام تک پاکستان نے نیوزی لینڈ پر 74 رنز کی سبقت حاصل کر لی جس کے جواب میں کیویز نے دو وکٹوں پر 26 رنز بنائے ہیں۔

دن ختم ہونے تک کریز پر کپتان کین ولیمسن اور ان کے ساتھ نائٹ واچ مین ولیم سومرویل موجود ہیں اور ٹیم کا مجموعی سکور 26 رنز ہے۔

پاکستان کو پہلی کامیابی اننگز کے چوتھے اوور میں ملی جب شاہین شاہ آفریدی نے جیت راول کو ایل بی ڈبلیو کر لیا۔ راول نے اس پر ریویو مانگا لیکن قسمت نے ان کے ساتھ یاوری نہیں کی۔

پاکستان کو دوسری کامیابی اس وقت ملی جب یاسر شاہ نے ٹام لیتھم کی وکٹ حاصل کر لی جن کا حارث سہیل نے زبردست کیچ لیا۔ انھوں نے 10 رنز بنائے۔

اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم 348 رنز پر آؤٹ ہوئی جس میں خاص بات اظہر علی اور اسد شفیق کی ڈبل سنچری کی شراکت تھی۔

ان دونوں نے اپنی اپنی انفرادی سنچری بھی مکمل کی لیکن دوسری جانب کیوی سپنر نے زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے کم بیک کیا اور پاکستان کی آخری سات وکٹیں صرف 62 رنز کے عوض حاصل کر لیں۔

کپتان سرفراز احمد آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی تھے جنھوں نے 25 رنز بنائے اور ان کی وکٹ بھی سومرویل نے حاصل کی۔

یاسر شاہ آؤٹ ہونے والے آٹھویں کھلاڑی بنے جب تیز رن حاصل کرتے ہوئے وہ پلٹے اور ان کا جوتا اتر گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سومرویل نے ان کو رن آؤٹ کر دیا۔ یاسر نے 25 گیندیں کھیل کر ایک رن بنایا۔

اس کے فوراً بعد سومر ویل کے اسی اوور میں حسن علی بھی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔

کیوی سپنرز نے اب تک شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور 286 کے بعد سے 62 رنز میں پاکستان کے سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کردیا۔

چائے کے وقفے سے کچھ دیر قبل اسد شفیق نے 13 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کرلی لیکن اس کے فوراً ہی بعد وہ اعجاز پیٹل کی گیند پر آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی بن گئے۔

چائے کے وقفے کے بعد بابر اعظم اور کپتان سرفراز نے پاکستان کی اننگز کو مستحکم کرنے کا سلسلہ شروع کیا لیکن بابر اعظم کپتان کا ساتھ نہ دے سکے اور سومرویل کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

ساتویں وکٹ کے لیے 21 رنز کی شراکت کے بعد بلال آصف بھی اعجاز پٹیل کے دوسرے شکار بن گئے جب راس ٹیلر نے ان کا سلپ پر عمدہ کیچ لے لیا۔

اس سے قبل اظہر علی نے عمدہ بلے بازی کرتے ہوئے اپنی 15ویں ٹیسٹ سینچری بنائی، لیکن وہ 134 رنز بنا کر سپنر سومروِل کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بن گئے۔

اظہر علی اور اسد شفیق کے درمیان 201 رنز کی پارٹنرشپ کی بدولت پاکستان مضبوط پوزیشن میں آگیا۔

پانچ روزہ میچ کے دوسرے روز کھیل ختم ہونے تک پاکستان نے نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز کے سکور 274 کے جواب میں تین وکٹوں پر 139 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز کا آغاز اچھا نہ ہوا جب ٹرینٹ بولٹ نے امام الحق کو نو اور محمد حفیظ کو صفر پر پویلین کی راہ دکھا دی۔

اس کے بعد حارث سہیل اور اظہر علی نے اچھی بیٹنگ کی اور چائے کے وقفے تک ساتھ رہے۔ لیکن دن کے تیسرے سیشن میں 68 رنز کی شراکت کے بعد حارث سہیل ساؤتھی کی گیند پر غیر ذمےدارنہ شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 91 گیندوں پر 34 رنز بنائے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز 274 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد عباس ان فٹ ہونے کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور ان کی جگہ شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ولیم سومرویل اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے۔

ابوظہبی میں ہی کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چار رنز سے شکست دی تھی جبکہ دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ایک اننگز اور 16 رنز سے زیر کر کے سیریز برابر کر دی تھی۔

ٹیسٹ سیریز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی 20 اور تین ہی ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی گئی تھی جس میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ٹی 20 میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی جبکہ ون ڈے سیریز ایک، ایک میچ سے برابر رہی تھی۔