آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا کیویز 'پرانے پاکستان' کا مقابلہ کر پائیں گے؟
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
متحدہ عرب امارت (یو اے ای) سے پاکستانی کرکٹ کا بہت دیرینہ رشتہ ہے۔ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم سے پاکستان کی بہت سی سنہری یادیں وابستہ ہیں اور 2010 کے بعد جب سے یہ گراؤنڈز پاکستان کے 'لے پالک' ہوم گراؤنڈز بنے ہیں، یہ رشتہ اور گہرا ہو گیا ہے۔
آج کل پاکستان اور انڈیا میدان میں تو کم کم ہی سامنے آتے ہیں، اس لیے ٹی وی ٹاکرے بہت عام ہونے لگے ہیں۔ ایسے ہی کسی ٹاکرے میں سابق انڈین کپتان ساروو گنگولی نے طعنہ زنی کی کہ ورلڈ کپ میں آج تک پاکستان بھارت سے جیت نہیں پایا۔ اس پہ وسیم اکرم جھٹ سے بولے، بھارت بھی تو شارجہ میں کبھی ہم سے جیت نہیں پایا۔
ٹیسٹ سیریز کے بارے میں مزید پڑھیے
پاکستان کو ان وکٹوں پہ کچھ ایسا اعتماد ہے کہ مصباح کے قیادت سنبھالنے کے بعد ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ مسلسل فتوحات کا ایسا تانتا کبھی پاکستان کے ہوم گراونڈز پہ بھی نہیں بندھا تھا جو یو اے ای میں لگنے لگا۔ تبھی پاکستان ٹیسٹ ٹیم یہاں ناقابلِ تسخیر ٹھہری اور یو اے ای پاکستان کا 'فورٹریس' کہلانے لگا۔
لیکن مصباح کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خطاب ذرا چھنتا سا دکھائی دینے لگا کیونکہ اول تو پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ ویسے ہی بہت کم کھیلی۔ پھر جو تھوڑی بہت ہوم کرکٹ کھیلی بھی، اس میں یو اے ای میں اب تک صرف چھ میچ کھیلے ہیں۔
گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف دو میچز کی سیریز میں پاکستان کو کلین سویپ کی خفت اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد رواں سیزن کے آغاز پہ دبئی میں آسٹریلیا سے ٹیسٹ ڈرا ہو گیا جو کہ میزبان ٹیم کے لیے ندامت سے کم نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابوظہبی میں پاکستان آسٹریلیا پہ فاتح ٹھہرا مگر کچھ ہی دن بعد اسی گراونڈ پر نیوزی لینڈ کے خلاف واضح دکھائی دیتی فتح اس کی مٹھی سے پھسل گئی اور چار رنز سے شکست کی ایسی ہزیمت اٹھانا پڑی کہ جب دبئی میں چار سو رنز بورڈ پہ سجے تو سرفراز نے زیادہ سوچے بغیر فورا ہی اننگز ڈکلئیر کر کے حساب چکانے کی ٹھانی۔
مصباح اور یونس کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس ٹیم پہ شبہات تو اٹھ ہی رہے تھے مگر گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف کلین سویپ ہونے اور دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ڈرا کے بعد یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اب اس بیٹنگ لائن کو کسی تجربہ کار سہارے کی ضرورت ہے اور اس بولنگ لائن کو کسی زرخیز دماغ کی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو دبئی ٹیسٹ میں اننگز کی فتح صرف ابوظہبی کی شکست کا 'کیتھارسس' ہی نہیں ہے، اس میں پاکستان کے لیے اور بہت سے خوش آئند پہلو بھی ہیں۔
سب سے پہلے تو اظہر علی فارم میں واپس آ گئے۔ گو کہ ابوظہبی میں بھی ٹاپ سکورر وہی تھے لیکن وہ اننگز بقا کی جنگ کی سی تھی۔ دبئی میں اظہر علی قدموں پہ جم کے کھیلتے نظر آئے۔
مصباح اور یونس کی موجودگی میں پاکستان کی اکثر بڑی فتوحات دونوں کی سینچریوں سے عبارت ہوتی تھیں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد مڈل آرڈر سے یہ سینچریاں بنانے کی رِیت ختم ہونے لگی تھی۔
مگر یہاں جس طرح سے بابر اعظم نے جم کر لمبی اننگز کھیلی، وہ ایک نئی امید کا سندیسہ ہے۔ اور ان سے بھی بڑھ کر حارث سہیل نے جو صبر آزما اننگز کھیلی، اس کے بارے اگر کہا جائے کہ اسی اننگز کی تھکاوٹ نے کیویز کو خاصی حد تک نفسیاتی شکست دے ڈالی، تو ایسا کہنا بے جا نہ ہو گا۔
کیونکہ جس بولنگ اٹیک کو ایک بار نہیں، دو بار نیا گیند لینا پڑ گیا اور وکٹیں پھر بھی نہ ہاتھ لگیں تو اس فیلڈنگ یونٹ کی تھکاوٹ کا عالم کیا ہو گا۔
اس پہ طرہ یہ کہ یاسر شاہ ایسی فارم میں واپس آگئے ہیں کہ اکیلے کندھوں پہ ہی سارے بولنگ یونٹ کا بوجھ اٹھا لیا اور کسی دوسرے بولر کو زیادہ زحمت نہ دی۔
مضبوط مڈل آرڈر، پر اعتماد کپتان اور ایسا سپنر جو تن تنہا میچ جتوا سکے، یہی اجزائے ترکیبی ہوا کرتے تھے اس 'پرانے پاکستان' کے جو مصباح کے زیر قیادت یو اے ای میں کسی کو دم نہیں لینے دیتا تھا۔
اب سرفراز کی قیادت میں بھی قریباً وہی اجزائے ترکیبی تیار ہو چکے ہیں۔ ابوظہبی ٹیسٹ میں اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ ولیمسن اس 'پرانے پاکستان' کے مقابلے میں کیا ترکیب لا پاتے ہیں؟