ابوظہبی ٹیسٹ: ایک بحران سرفراز احمد کو واپس لے آیا

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

پانچ دن پہلے دبئی میں جب سرفراز احمد پوسٹ میچ پریس کانفرنس میں سوالات کی بوچھاڑ میں گھرے تھے تو ان کے پاس دلائل کی بھی کمی تھی اور ہمت کی بھی۔ سوالات برس رہے تھے اور سرفراز صرف آئیں بائیں شائیں ہی کر رہے تھے کہ جی ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

سرفراز احمد کو ایسی پریس کانفرنسز کم ہی بھگتنا پڑی ہیں۔ بلکہ جب انہیں کپتانی ملی تھی، تب بھی بنیادی محرکات ان کی جارحیت اور مثبت کرکٹنگ اپروچ تھے۔ ساتھ ہی ان کی بہترین بیٹنگ فارم تھی کہ جب بھرپور شکل میں اجاگر ہوتی تو 140 کی رفتار پہ آتی گیندوں کو بھی سویپ کر کے باؤنڈری کے پار پھینک دیا کرتے تھے۔

مگر کپتانی ملنے کے بعد سرفراز کے یہ سبھی نقوش دھندلانے لگے۔ جارحیت اپنے تئیں موجود رہی مگر ان کی اپنی فارم کہیں کھو گئی۔ اور دھیرے دھیرے جب سٹرائیک بولر بھی اپنی فارم کھونے لگے تو وہاں اکیلی جارحیت بھلا کیا چمتکار کر پاتی؟

ایشیا کپ میں سرفراز کی ٹیم کو ہاٹ فیورٹ سمجھا جا رہا تھا مگر ٹورنامنٹ کا آغاز ہی ایسا برا ہوا کہ ایک بار پھر کوچ اور کپتان کے آپسی اختلافات کی باتیں اڑنے لگیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اس میچ سے پہلے بھی پورا دن یہی گرما گرمی رہی کہ سرفراز احمد مکی آرتھر سے نالاں ہیں۔ کچھ ایسی آوازیں بھی اٹھ رہی تھیں کہ سرفراز کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے سبکدوش ہو جانا چاہئے۔ کچھ احباب تو یہاں تک کہنے لگے کہ ٹیسٹ ٹیم میں سرفراز کی جگہ ہی نہیں بنتی۔

اس ہنگام کل کا دن آیا اور آغاز ہی سرفراز کی خوش بختی سے ہوا۔ یہاں ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے ٹاس جیتنا ضروری ہوتا ہے اور سرفراز یہاں خوش قسمت رہے کہ ٹاس جیت گئے۔

مگر نجانے ایسا کیا معمہ ہے کہ اکثر اس ٹیم اور اس کپتان کی خوش قسمتی سانجھی نہیں رہ پاتی۔ جس خوش بختی کا اطمینان سموئے سرفراز ڈریسنگ روم لوٹے تھے، وہی ان کی ٹیم کے لیے قہر سی ثابت ہوئی۔

ابوظہبی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی سیشن میں پانچ وکٹیں گر گئی ہوں۔ ایسا پرتھ میں تو ہو سکتا ہے مگر ابوظہبی کی وکٹ پہ ایسا امکان تو وہم و گماں سے بھی بعید ہے۔

لیکن اس دوران جب سرفراز کریز پر آئے تب ان کے سامنے سب سے پہلا سوال ان کی کپتانی یا اپنی بیٹنگ فارم کا نہیں تھا۔ تب سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ناتھن لیون کے قہر کے آگے کوئی بند باندھ پائے گا یا پاکستانی بیٹنگ ایک ڈیڑھ سیشنز میں ہی منتشر ہو جائے گی۔

اس سوال کے جواب میں سرفراز احمد نے خود کو اس صورت حال سے یوں منہا کیا کہ پہلے ایک گھنٹے میں مجتمع ہونے والا تمام تر دباؤ غیر محسوس انداز میں چھٹنے لگا۔ اور یکسر مصائب میں گھری بیٹنگ لائن بالآخر ایک ایسا ٹوٹل ترتیب دے پائی کہ جو بولنگ لائن کے لئے کم از کم قابلِ قدر تھا۔

سرفراز کی بیٹنگ فارم لوٹنے سے صرف ٹیم ہی بحران سے نہیں نکلی بلکہ ان کی کپتانی اور فیصلہ سازی بھی اچانک بہتر محسوس ہونے لگی۔ اعتماد کی بحالی ایسی کارگر ثابت ہوئی کہ دن ڈھلنے سے پہلے پہلے پاکستان دو وکٹیں لے کر حساب چکتا کر چکا تھا۔

محمد عباس نے جس طرح کی بولنگ دبئی میں کی، اس کاٹ اور رفتار میں بس ایک ہی کمی رہ گئی تھی کہ وہ پانچ وکٹیں حاصل نہ کر پائے۔ شاید پانچویں دن کے آغاز پہ انہیں گیند دیا جاتا تو یہ ممکن ہو پاتا۔

لیکن دبئی کے بالکل برعکس ابوظہبی میں سرفراز کو بالکل ٹھیک ٹھیک معلوم تھا کہ کب اور کہاں عباس کو استعمال کرنا ہے۔ بعینہ عباس کو بھی بھرپور اندازہ تھا کہ انہیں کہاں اور کیسے گیند پھینکنا ہے۔

سرفراز کی فارم واپس آنا پاکستان کے لیے خوش بختی کا سامان ہے کہ ہوم سیزن کے آغاز پہ ہی اگر وہ قسمت سے پیچھے رہ جاتے تو ورلڈ کپ کی تیاریوں میں دراڑیں پڑ سکتی تھیں۔

سرفراز کی یہ اننگز فخر زمان کی دو شاندار پرفارمنسز اور عباس کی بولنگ پاکستان کو ایسی مستحکم پوزیشن میں لے آئے ہیں کہ اب کم از کم ابوظہبی کی پوسٹ میچ پریس کانفرنس میں سرفراز کے شانے جھکے ہوئے نہیں ہوں گے اور نہ ہی انہیں یہ کہنا پڑے گا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔