آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دبئی ٹیسٹ میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد برابری پر ختم
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دو کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ برابری پر ختم ہو گیا ہے۔
آسٹریلیا نے 462 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دوسری اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 362 رنز بنائے۔
آسٹریلیا کے کپتان ٹِم پین نے ذمہ دارانہ بٹینگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
333 رنز کے مجموعی سکور پر آسٹریلیا کی یکے بعد دیگرے دو وکٹیں اس وقت گریں جب مچل سٹارک اور پیٹر سڈل بغیر کوئی سکور آؤٹ ہوئے۔
میچ کے پانچویں دن کے آخری سیشن میں یاسر شاہ نے پاکستان کو اہم کامیابی دلوائی جب انھوں نے عثمان خواجہ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ عثمان خواجہ نے امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو لیا تاہم آسٹریلیا کا ریویو ضائع ہو گیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے عثمان خواجہ نے ایک بار پر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 11 چوکوں کی مدد سے 141 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، انھوں نے پہلی اننگز میں بھی 85 رنز بنائے تھے۔
پہلے سیشن میں پاکستانی بولروں کی ناکامی کے بعد کھانے کے وقفے کے بعد محمد حفیظ بریک تھرو دلوانے میں کامیاب رہے جب انھوں نے ٹریوس ہیڈ کو 72 کے سکور پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیڈ نے چوتھی وکٹ کے لیے عثمان خواجہ کے ساتھ مل کر 132 رنز کی شراکت قائم اور اس دوران ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی نصف سنچری بھی مکمل کی۔
یاسر شاہ نے پاکستان کے لیے پانچویں اور میچ میں اپنی پہلی وکٹ لبوشان کو ایل بی ڈبلیو کر کے حاصل کی۔
پاکستان نے بدھ کو اپنی دوسری اننگز چھ وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی تھی اور یوں اسے مجموعی طور ہر 461 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔
اس ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی جانب سے عثمان خواجہ اور آرون فنچ نے اننگز کا پراعتماد آغاز کیا تھا اور 72 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم پھر پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کرنے والے محمد عباس نے ایک ہی اوور میں پہلے ایرون فنچ اور پھر شان مارش کو آؤٹ کروا کے پاکستان کو دوہری کامیابی دلوا دی تھی۔
اپنے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں نصف سنچری بنانے والے ایرون فنچ دوسری اننگز میں صرف ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔
اپنے اگلے ہی اوور میں محمد عباس نے مچل مارچ کو پہلی اننگز کی طرح ایل بی ڈبلیو کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے حق میں تھرڈ ایمپائر کی مدد سے ریویو کے نتیجے میں آیا۔
دو اوور میں تین وکٹیں گنوانے کے بعد لگ رہا تھا کہ شاید ایک بار پھر آسٹریلیا کے بلے باز پہلی اننگز کی طرح سنبھل نہیں پائیں گے لیکن عثمان خواجہ نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ٹریوس ہیڈ کے ساتھ مل کر دن کے اختتام تک 49 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو مزید نقصان سے بچا لیا۔
پاکستان کی جانب سے اس میچ میں بلال آصف کو ڈیبو کروایا گیا ہے جنھوں نے پہلی اننگز میں چھ وکٹیں لی ہیں جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے تین کھلاڑیوں نے اپنا ڈیبو کیا ہے۔
ان میں ٹریوس ہیڈ اور آرون فنچ محدود اوورز کی کرکٹ میں آسٹریلوی ٹیم کے رکن رہے ہیں جبکہ آل راؤنڈر مارنس لابوس چین بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔