آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایشیا کپ: پاکستان کی مایوس کن کارکردگی نے کپتان کی ’نیندیں اڑا دیں‘
ابوظہبی میں ایشیا کپ میں ’سپر فور‘ مرحلے کے آخری میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو 37 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل کے لیے کولیفائی کر لیا ہے جہاں وہ 28 ستمبر کو انڈیا کا سامنا کریں گے۔
میچ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے بی بی سی کے عبدالرشید شکور کو بتایا کہ ایشیا کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر انھیں افسوس ہے، لیکن گھبراہٹ میں فیصلے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں کسی بھی موقع پر اچھا کھیلتی نظر نہیں آئی اور تینوں شعبوں، بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی۔
مزید پڑھیے
ان کا کہنا تھا کہ کپتان کی حیثیت سے ان پر ہمیشہ دباؤ رہتا ہے، لیکن اس ٹورنامنٹ میں وہ چھ راتوں سے سو نہیں سکے۔ جب ٹیم اچھا نہ کھیلے تو پھر یہ دباؤ یقیناً بڑھ جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن چیمپینز ٹرافی کے پہلے میچ میں بہت بری کارکردگی کے بعد ٹیم اچھا کھیلتی آئی تھی۔ تو پھر اچانک ٹیم کو کیا ہوگیا؟
سرفراز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ اننگز کے درمیانے اوورز میں وکٹیں لیتی رہی ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی اپنی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تھوڑا آرام کرنے کے لیے کسی دوسرے وکٹ کیپر کو موقع دیں گے، تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ کام سلیکشن کمیٹی کا ہے، میرا کام کھیلنا ہے۔‘
انہوں نے فخرزمان کا نام لے کر کہا کہ ایک ٹورنامنٹ کی خراب کارکردگی کے سبب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اچھے بیٹسمین نہیں۔ انہوں نے جو غلطیاں کی ہیں انہیں اس کا خود بھی احساس ہے اور ان غلطیوں کو دورکرنے کی ضرورت ہے ۔
سرفراز احمد کے مطابق ٹیم میں شعیب ملک اور ان کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں نے بہت زیادہ انٹرنیشنل میچز نہیں کھیلے ہیں لہذا ان کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش کے خلاف کیا ہوا؟
بدھ کے روز بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے پاکستان کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا ہے لیکن پاکستانی ٹیم ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار رہی پاکستانی ٹیم مقررہ پچاس اوور میں نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 202 رنز بنا سکی۔
پاکستان نے جب اننگز کا آغاز کیا تو اوپنر فخر زمان پہلے ہی اوور کی پانچویں گیند پر روبیل حسین کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوگئے۔ جس کے بعد دوسرے ہی اوور میں ان ڈاؤن آنے والے ان فارم بیٹسمین بابر اعظم 1 رن بنا کر مستفیض الرحمن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
پاکستان کو تیسرا نقصان کپتان سرفراز احمد کی صورت میں اٹھانا پڑا، وہ بھی مستفیض الرحمن کی گیند پر کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
چوتھے آؤٹ ہونے والی کھلاڑی شعیب ملک تھے جو صرف 30 رنز بنا پائے۔
اس کے بعد امام الحق اور آصف علی کی پاٹنرشب نے کچھ دیر ٹیم کو سہارا دیا لیکن 39ویں اوور کی دوسری گیند پر آصف 31 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہو گئے۔ جس کے کچھ دیر بعد ہی امام الحق بھی چالیسویں اوور کی پانچویں گینڈ پہ سٹمپ آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 83 رنز بنائے۔
شیعب ملک کے آؤٹ ہونے کے بعد شاداب خان بھی کریز پر کچھ ہی منٹ کھڑے رہ پائے۔
آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی محمد نواز جبکہ آٹھویں کھلاڑی حسن علی تھے دونوں نے ہی محض آٹھ، آٹھ رنز بنائے۔
پہلی اننگز میں بنگلہ دیش کی ٹیم 48.5 اوورز میں 239 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی طرف سے جنید خان نے نو اوور میں 19 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔بنگلہ دیش کی طرف سے مشفیق الرحیم اور محمد متھن نے 144 رن کی پارٹنرشپ کی۔ دونوں بیٹسمینوں نے پہلے پانچ اووروں کے اندر تین وکٹیں گرنے کے بعد، اننگز کو مستحکم کیا۔
مشفیق الرحیم نے 99 جبکہ محمد متھن نے 60 رن سکور کیے۔ دونوں بلے بازوں نے پاکستانی بالرز کا تحمل کے ساتھ سامنا کیا اور پچ پر سیٹ ہونے کے بعد سکور میں تیزی سے اضافہ کیا۔ انھوں نے خاص طور پر فاسٹ بالر حسن علی اور شاداب خان کو نشانا بنایا۔ تاہم ان دونوں کے وکٹیں گرنے کے بعد آخر میں آنے والے کھلاڑی اس پارٹنرشپ کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش نے جب ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو ان کی طرف سے سومیا سرکار اور لیٹن ڈاس نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔پاکستان کو پہلی کامیابی میچ کے تیسرے اوور میں ملی جب جنید خان کی اوپر اٹھتی ہوئی گیند پر سومیا سرکار پل شاٹ کھیلنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے فخر زمان کو کیچ دے بیٹھے۔ سرکار کوئی رن نہیں بنا سکے۔
اس سے اگلے ہی اوور میں نوجوان شاہین آفریدی نے مومن الحق کو بولڈ کردیا۔ شاہین آفریدی کی آف سٹمپ پر پڑنے والے گیند اچانک سوئنگ ہو کر اندر آئی اور مومن الحق اس کو کھیل نہیں پائے۔
تین گیندوں کے بعد پانچویں اوور میں جنید خان کو دوسری کامیابی ملی جب انھوں نے اوپنر لیٹن ڈاس کو 6 کے سکور پر کلین بولڈ کیا، جس کے بعد مشفیق الرحیم اور محمد متھن نے سنبھل کر کھیلا اور چوتھی وکٹ کی شراکت میں 144 رنز بنائے۔
محمد متھن 60 رن بنا کر حسن علی کی گیند پر انھی کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ ایک اوور کے وقفے کے بعد امرل کیس کو شاداب خان نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔
جبکہ مشفیق الرحیم 99 رنز بنا کر صرف ایک رن کے فرق سے اپنی سنچری سکور نہ کرسکے۔ وہ شاہین آفریدی کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ ان کی وکٹ گرنے کے بعد پیچھے آنے والے چار بیٹسمین نو اوور میں صرف 42 رن کا ہی اضافہ کرسکے۔
پاکستانی ٹیم نے اس میچ کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے اور محمد عامر کی جگہ جنید خان کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبکہ بنگلادیش کے آل راؤنڈر شکیب الحسن زخمی ہونے کے باعث یہ میچ نہیں کھیل رہے۔
ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی
ایشیا کپ میں پاکستان کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی ہے۔ پاکستان نے سپر فور مرحلے میں افغانستان کے خلاف بمشکل آخری اوور میں فتح حاصل کی جبکہ انڈیا کے ہاتھوں اسے نو وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستانی بلے بازوں میں صرف شعیب ملک ہی اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے لیے سب سے قابل اعتماد بیٹسمین ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے چار اننگز میں دو بار آؤٹ ہوئے بغیر90.50 کی اوسط سے 181 رنز بنائے ہیں جن میں دو نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔
ان کے علاوہ امام الحق نے ہانگ کانگ اور افغانستان کے خلاف نصف سنچریاں بنائیں لیکن انڈیا کے خلاف دونوں اہم میچوں میں وہ ناکام رہے ہیں۔
فخرزمان جنہوں نے زمبابوے کے خلاف ڈبل سنچری کے مزے لوٹے تھے دو میچوں میں کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہورہا ہے کہ وہ امپائر کے غلط فیصلوں پر ریویو کا حق کیسے استعمال کریں۔
بابراعظم نے دو اچھی اننگز کھیلی ہیں لیکن انہیں بڑے سکور میں تبدیل نہیں کر پائے ہیں۔
بیٹسمینوں کی جانب سے بڑا سکور نہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ٹیم کے بولنگ اور فیلڈنگ میں بھی مسائل کھل کر سامنے آئے ہیں۔
محمد عامر چیمپینز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے دس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں صرف تین وکٹیں حاصل کر پائے ہیں جبکہ آخری پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں وہ ایک بھی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
حسن علی بھی اس ٹورنامنٹ میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہانگ کانگ کے خلاف دو وکٹیں لینے کے بعد انہیں اگلے تین میچوں میں صرف ایک وکٹ مل سکی ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش نے اس ٹورنامنٹ کا آغاز سری لنکا کے خلاف جیت سے کیا تھا جس میں مشفق الرحیم کی سنچری قابل ذکر تھی لیکن اگلے میچ میں اسے افغانستان کے ہاتھوں 136 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بنگلہ دیش کی ٹیم سپر فور مرحلے میں بھارت سے سات وکٹوں سے ہارنے کے بعد افغانستان کو دلچسپ مقابلے کے بعد تین رنز سے شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔
بنگلہ دیشی آل راؤنڈر شکیب الحسن کی بیٹنگ کارکردگی یقیناً ٹیم کے لیے فکر مندی کا سبب بنی ہے جو چار میں سے دو میچوں میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے ہیں البتہ بولنگ میں انہوں نے سات وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔